ہندوستانی فلم انڈسٹری میں موسیقی کی بگڑتی صورت حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موجودہ دور میں فلمیں انسان کی تفریح کا سب سے بہترین ذریعہ ہیں۔ پردے پر نظر آنے والے فلمی اداکاروں کے علاوہ بہت سے فنکار فلموں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو کے ہمیں پردے پر نظر نہیں آتے، جیسے سکرپٹ رائٹر، پرڈیوسر، گیتکار، موسیقار وغیرہ جن کے بغیر فلم کا تصور نا ممکن ہے۔ ان کی اہمیت فلموں میں اتنی ہی ہے جتنی کہ پردے پر نظر آنے والے اداکاروں کی۔ پردے کے پیچھے کام کرنے والوں میں گلوکار بھی شامل ہیں۔
فلمی نغمے گانے والوں کو پس پردہ گلوکار کہتے ہیں۔ گلوکار پردے کے پیچھے گلوکاری کا کردار نبھاتے ہیں اور ان کے گائے ہوئے نغمے اداکاروں کے لیے فلمائے جاتے ہیں۔

ہندوستانی فلمی نغمے گانے والے یا پس پردہ عرف ( playback singer) کے بغیر فلم مکمل ہونا ناممکن ہے۔ ہندی فلم کے مشہور گلوکاروں میں کشور کمار، محمد رفیع، جگجییت سنگھ، الکا، لتا، سونو نگم، راحت فتح علی خان، ادت نارائن اور عدنان سمیع کے علاوہ بیشمار ایسے نام ہیں جو کے گلوکاری کی دُنیا میں اپنی شناخت تسلیم کروا چکے ہیں۔

.
برصغیر خصوصاً ہندوستان کی بات کی جائے تو انڈین میوزک کی ابتداء کلاسیکل میوزک سے ہوئی اور آہستہ آہستہ پاپ میوزک نے اس کی جگہ لے لی۔ اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کے انڈین میوزک نا صرف پاکستان بلکہ ساری دُنیا میں مقبول ہے۔ اس کی اک وجہ انڈیا میں کلاسیکل اور پاپ میوزک کا فروغ ہے۔ ہندوستانی فلموں میں گائے جانے والے گانے نا صرف اپنی شاعری کی وجہ سے مقبول تھے بلکہ اِس کا میوزک اور خوبصورت آواز بھی لوگوں کے دلوں کو لبھانے میں زیادہ موثر ثابت ہوئی۔

تقسیم ہند کے وقت ہندوستانی موسیقی عروج پر تھی اور کلاسیکل موسیقی بہت مقبول تھی۔ اس زمانے کے بہترین گلوکاروں میں کشور کمار، لتا، محمد رفیع، مکیش وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی سریلی آوازوں سے ساری دُنیا میں اپنے نام کا ڈنکا بجایا اور ایسے سدا بہار گیت گائے جنہیں اگر شاہکار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہی حال موسییقارون کا بھی تھا جن میں ایس۔ ڈی۔ برمن، روشن، مدن موہن او۔ پی نیر، لاکشمی کانت پیارے لال، کلیاں جی آنند جی، اور آر۔ ڈ برمن قابل ذکر ہیں۔
غرض یہ کے سریلی آواز، مدھر سنگیت، اور با معنی شاعری اس وقت کے گانوں کا حَسِین امتزاج تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ’’موسیقی روح کی غزا ہے‘‘ اور یہ بات ماضی کے اس دور میں پوری اترتی نظر آتی تھی۔ اس وقت کے گانے آج بھی سنے جائیں تو کانوں میں رس گھول دیتے ہیں اور اک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ دلوں کو چھو لینے والے گانے آج بھی لوگوں کے اعصاب پر طاری ہو کر ذہن کو سکون بخشتے نظر آتے ہیں۔۔ آج بھی رفیع، کشور، مکیش کے گائے جانے والے گیتوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ان کے مشہور گیت آج بھی اسی طرح مقبول ہیں۔

 مگر وقت کے ساتھ ساتھ اِس میں تبدیلی آتی گئی اور شاعری، موسیقی، اور آوازوں نے اپنی جگہ بدل لی اب ان جیسی مقبولیت آج کے گانوں میں نہیں ملتی۔۔ اس وقت کے گانے، موسیقی اور آوازکا جادو لوگوں میں سر چڑھ کر بولتا تھا۔ ان کے مشہور گانوں میں شاعری با معنی الفاظ پر مشتمل تھی۔۔ ان کے گائے ہوئے چند مشہور گیت۔

یہ دُنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
جو وعدہ کیا وہ نبھانا پرے گا
یہ چاند سا روشن چہرہ
جانے کہاں گئے وہ دن

یہ اور ان جیسے ہزاروں گانوں نے موسیقی کے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔ ان مشہور گلوکاروں کے اِس دُنیا سے جانے کے بعد بہر حال موسیقی میں اک بڑا خلا ضرور پیدا ہو گیا تھا۔ 90 کی دہائی اور اسکے بعد کمار سانو، ادت نارائں، ایس۔ پی، الکا، آشا بھوسلے اور ان جیسی کئی خوبصورت آوازوں کے مالک گلوکاروں نے کسی حد تک پر کرنے کی کوشش کی اور وہ اِس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے۔ جب کہ موسییقارون میں اے۔ آر۔ رحمن، بپپی لہری، روی شنکر، آر۔ ڈی۔برمن لکی علی اور ان کے علاوہ کئی موسیقاروں نے بھی اِس خلا کو کسی حد تک پر کر دیا تھا اور 90 کی دہائی اور اس کے بعد عظیم کامیابی حاصل کی اور ساری دُنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔۔ اس وقت کے مشہور گانوں میں
میری سانسوں میں سانس ہے تیری
سنتا ہے میرا خدا دلوں جان سے چاہوں
ذرا تصویر سے تو نکل کے سامنے آ
میں دُنیا بھلا دونگا تیری

یہ اور ان جیسے لا تعداد گانوں نے بے حد مقبولیت حاصل کی۔ آج بھی یہ گانے لوگوں کی سماعتوں میں رس گھولتے ہیں اور اِس وقت کے گانوں کو جب بھی سنا جاتا ہے تازہ دم ہو جاتے ہیں۔ ان گانوں کی بہترین شاعری، موسیقی اور سریلی آوازوں نے لوگوں کے دلوں پر راج کیا اور آج بھی ان گانوں کو لوگوں سے پذیرائی حاصل ہوتی ہے

مگر وقت کے ساتھ ساتھ نا صرف یہ کہہ انڈین موسیقی میں بتدریج تبدیلی آئی ہے بلکہ اِس کی اصل شکل بھی کہیں کھو گئی ہے۔ کلاسیکل میوزک تو برائے نام رہ گئی ہے اور اس کی جگہ پاپ میوزک نے لے لی ہے۔ پاپ میوزک مغرب سے مشرق میں آیا اور آہستہ آہستہ یہ کلاسیکل موسیقی پر غالب آگیا۔ یہاں تک کہ پرانی طرز کے گانوں کو بھی بدل کر نئی دھن نئی آوازوں میں پاپ میوزک کے ساتھ گایا جا رہا ہے جس سے ان گانوں کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔ مگر آج کی نئی نسل کو مغربی موسیقی نے اپنے جال میں پوری طرح پھنسا لیا ہے آج کے نوجوان جن گانوں اور میوزک کو پسند کرتے ہیں صحیح معنوں میں نہ تو اس میں سر ہے نہ ہی تال۔ جب سے برصغیر کے لوگوں نے اپنے فن کو چھوڑ کر مغربی موسیقی کو اپنانے کی کوشش کی ہے تب سے آج کے موسییقار نہ تو اپنی پہچان مشرق میں بنا پا رہے ہیں اور نا ہی ان کو کوئی پوچھتا ہے۔ خالص مشرقی موسیقی بگڑ چکی ہے اور بے مقصد اور بے کار مغربی موسیقی نے اصل شکل کو بگاڑ دیا۔ اب نہ تو گانوں میں وہ سر ہے نہ ہی تال نہ ہی پہلے جیسی با معنی شاعری ہے۔ منفرد شاعری اور موسیقی کی پہچان سے چاہے جانے والے ملک بھارت میں اب بے ہنگم میوزک اور بے تکی شاعری کے ساتھ فلموں میں گانے پیش کیے جا رہے ہیں جس کی کچھ مثالیں ہمارے سامنے ہیں

آج بلو ہے پانی پانی پانی
بلو ٹھمکا لگا بلو
آئی چکنی چنبیلی چھت پر اکیلی
بےبی ڈول میں سونے ڈی
یہ اور اِس جیسے بے شمار بےہنگم گانے آج کل کی فلموں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کے اِس قسم کے فضول الفاظ، بے مقصد شاعری اور بے ہنگم میوزک پر مشتمل گانوں کو نا صرف بھارت بلکہ پاکستان کی نئی نسل بھی بہت شوق سے سنتی ہے غرض یہ کے ان بے تکے گانوں کے ساتھ ساتھ آج کی نسل کے نوجوانوں کے گانوں کا ذوق بھی خراب ہوتا جا رہا ہے اور ان کی زُبان پر یہی بےہنگم گانے ہر وقت رواں رہتے ہیں۔
اب نا صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی میوزک کی پہچان عجیب رنگ پکڑ چکی ہے۔ نہ تو اب یہ اصل حالت میں ہے اور نا ہی اس کا موازنہ مغربی تہذیب سے کیا جا سکتا ہے۔

بھارتی میوزک انڈسٹری کو اِس طرف توجہ دینا ہوگی کیونکہ موسیقی کی بگڑتی ہوئی یہ شکل مستقبل میں مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اور موسیقی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سیدہ مہوش نجمی کی دیگر تحریریں