جناب وسعت اللہ خان کی ایک اہم تجویز اور پیش رفت
مدارس کے حوالے سے ایک بحث شروع ہے کہ انہیں قومی دھارے میں کیسے لایا جائے۔ بندہ ذاتی طورپر مدارس کو پہلے ہی سے قومی دھارے کا حصہ سمجھتا ہے۔ مدارس کے حوالے سے اگرغلط فہمیاں پھیلی ہیں یا پیدا کی گئی ہیں جس کی وجہ سے کچھ طبقات مدارس سے گریز پا ہیں تو اسے ایک الگ زاویہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ بہر حال جو بھی عنوان دیا جائے اتنی بات ضرور ہے کہ کچھ ان دیکھے فاصلے ضرور ہیں جو مدارس کے گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ گذشتہ دنوں جناب وسعت اللہ خان صاحب کا کالم ”ایں مدارس بزور بازو نیست“ انہیں صفحات پر شائع ہوا۔
مذکورہ کالم میں مدارس کے حوالے سے جو کچھ انہوں نے کہا ہے پہلی بار محسوس ہوا کہ کسی نے معروضی انداز میں مدارس کے حوالے سے درست سمت پیش رفت کی ہے ۔ مدارس کے حوالے سے اب تک جتنے لوگوں کو پڑھا ہے اکثریت مدارس کے حوالے سے سرسری معلومات اور غیرحقیقی سوالات و تنقیدات سے بھری ہوتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو لگتا ہے مصنف کسی خاص معاندانہ اور تعصبانہ کیفیت سے دوچار ہیں۔ جناب وسعت اللہ خان صاحب ہی کے خیالات کے تناظر میں کچھ معروضات پیش خدمت ہیں۔
پہلی بات جو انہوں نے کی ہے جو حقائق کی جانب صحیح رہنمائی کرتی ہے اور جس کا اہل مدارس بھی ہمیشہ سے اصرار کرتے رہے ہیں کہ مدارس میں کسی قسم کا اسلحہ موجود نہیں، نہ یہاں کسی قسم کے دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ جب اسلحہ یا کسی فرد کی موجود گی کے شبہ میں کسی مدرسہ پر چھاپہ پڑتا ہے تو اہلکاروں کو ہمیشہ مایوسی ہی ملتی ہے بلکہ بسا اوقات رسوائی اور شرمندگی ہی ہاتھ آتی ہے۔ مدارس کے حوالے سے یہی غلط فہمی ہے جو نفرتوں اور دوریوں کا باعث بنتی ہے اور اکثر لوگ اسی وجہ سے مدارس کے قریب جانے سے ہی ڈرتے ہیں۔
براہ راست عسکریت میں ملوث ہونے کے امکانات انہوں نے مسترد کردیے۔ انہوں نے جس چیز کا خدشہ ظاہر کیا ہے وہ ان کی نظر میں بندوق نہیں بلکہ ذہن سازی ہے۔ انہوں نے فیصلہ ساز قوتوں کو مدارس کے سمجھنے کے لیے دو بنیادی چیزیں سمجھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک تو مدارس کا نصاب اور اساتذہ کا انداز تدریس ونظریاتی وتربیتی شجرہ نسب کا جاننا اور سمجھنا اور دوسرا مدارس کے جاری کردہ فتاوی جات کا معائنہ اور جانچ پڑتال۔ مگر اس راہ میں حائل مشکلات کیا ہیں؟ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ایک بات تو یہ کہ کوئی مدرسہ اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ کوئی ان کے حلقہء درس میں شریک ہوجائے ۔ دوسری بات یہ کہ مدارس سے جاری ہونے والے فتاوی کا کوئی سہ ماہی، ششماہی یا سالانہ ریکارڈ مجلد صورت میں نہیں ملتا اور تیسری چیز یہ کہ سرکاری اہلکاروں میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ مدارس کے حلقہائے درس میں شریک ہوکر اساتذہ کے دیے جانے والے لیکچرز یا ان کے بین السطورمیں دی جانے والی تربیت کو سمجھ سکیں۔ ۔ جب تک یہ تینوں مسائل حل نہیں ہوتے تب تک مدارس کو سمجھنا مشکل ہے اور مدارس کے حوالے سے دیگر زور آزمائیاں بیکار ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مدارس کہ حلقہ ہائے درس میں شریک ہوکر اساتذہ کے نظریات کو سمجھاجائے تو اس حوالے سے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ مدارس میں گزری اپنی دو عشروں پر محیط زندگی کے تناظر میں عرض ہے کہ مدارس کا دروازہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے لیے کھلا رہا ہے جو آکر سنجیدگی سے علمی مکالمہ کرنا چاہتے ہیں، جو اس نظام کو سمجھنا چاہتے ہیں یا ان علوم سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ کام بہت آسانی سے ممکن ہے اور اگر بالفرض کوئی مدرسہ برضا ورغبت ایسی سہولت دینے پر راضی نہیں تو خفیہ طریقے سے بھی حلقہائے درس میں بصورت شاگرد بیٹھا جاسکتا ہے جو خفیہ اداروں کے لیے کوئی انہونی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ درس نظامی کی تمام تر کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان کتابوں کی شروحات اور گائیڈز بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
کسی بھی دینی کتب فروش کے پاس جاکر ایک آرڈر پر چند ہزار روپے میں گھنٹہ بھر میں کتابوں اور شروحات کا کلیکشن حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ شروحات آپ کو دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی ذہنی ساخت یا نظریاتی وفکری شجرہ سمجھنے میں بھرپور مدد دے سکتی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ برصغیر کے تمام مدارس میں تدریس اردو میں ہوتی ہے۔ یہی لیکچرز بعد میں کتابی صورتوں میں جمع کرکے شاگردوں نے یا خود اساتذہ نے شائع کردیے جو شروحات یا درسی تقاریر کے عنوان سے شائع ہوچکی ہیں۔ یہی شروحات اور درسی تقاریر مدارس میں آپ کو اساتذہ اور طلبہ کے میزوں اور ڈیکسوں پر ہرجگہ ملیں گی، اساتذہ اور طلبہ نصابی کتابوں کو سمجھنے کے لیے ان اردو کتابوں کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ چونکہ یہ شروحات اور گائیڈز مدارس کے اساتذہ نے ہی لکھی ہیں اس لیے اساتذہ کے نظریات و افکار کو سمجھنے کے لیے ان شروحات اور تقاریر کا مطالعہ بہت کافی ہوگا۔ نصاب اور اساتذہ کے نظریات کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں، مسئلہ تو صرف یہ ہے کہ ان کو سمجھنے والا کوئی رجلِ رشید پیدا ہو۔
مدارس کے جاری کردہ فتاوی جات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جس طرح عدالتوں کے جاری کردہ فیصلے مجلد شکل میں شائع کیے جاتے ہیں اسی طرح مدارس کے فتاوی کی بھی مجلد شکل میں دستیابی ضروری ہے۔ فتاوی کی بھی ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی یا سالانہ بنیادوں پر مرتب فائلیں مطالعے کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔ عرض ہے کہ یہ کام بہت پہلے سے ہوتا آرہا ہے۔ دارالافتاوں میں سیریل نمبر کے حساب سے فتاوی کے ریکارڈز کی فائلیں موجود ہیں، آپ کو جس سال یا مہینے کی فائل درکار ہو کسی بھی سرکاری اہلکار کے طلب کرنے پر فائلوں کے ڈھیر سامنے لگادیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر مدرسے اور دارالافتاء کے جاری کردہ فتاوی مختلف عنوانات کی تقسیم کے ساتھ ضخیم جلدوں میں مجلد کتابی صورتوں میں شائع ہوچکی ہیں۔ یہ فتاوی بھی ہر کتب خانے میں دستیاب ہیں۔ آپ کسی بھی کتب فروش کو کسی بھی دینی مدرسے یا شخصیت کا نام لے کر دیں جو فتاوی جاری کرتے ہیں وہ آپ کو خوبصورت ریگزین جلدوں میں مجلد فتاوی کا مجموعہ دے دیگا۔ یہ بھی چنداں مسئلہ نہیں۔
بس ایک تیسرا مسئلہ واقعی مسئلہ ہے جو حل ہو جائے تو مدارس کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں یک دم دور ہوجائیں۔ بیچ میں حائل بہت سے کہر کے بادل ایک دم چھٹ جائیں اور آرپار کےلوگ بہت کشادہ پیشانی سے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوجائیں۔ اساتذہ کے شجرہ علم و فکر یا مدراس کے جاری کردہ فتاوی جات کوچھاننے کے لیے جن علوم میں مہارتوں کی ضرورت ہے وہ ہمارے اداروں کے متوسط تو کیا اعلی طبقات میں بھی ناپید ہے۔ مدارس میں جو علوم پڑھائے جاتے ہیں اس کی مبادیات بھی ہمارے عصری علوم کے نظام میں ناپید ہیں، مدارس کے حلقہائے درس میں بیٹھ کر انہیں سمجھنا اور بین السطور سے مطالب نکالنا تو دور کی بات ہے یہاں دو جمع دو چار کی سی واضح چیزیں بھی ان کے سمجھ سے باہر کی ہوتی ہیں۔
جناب وسعت اللہ خان صاحب نے سوفیصد درست کہا کہ ہمارے اداروں کے اہلکاروں میں بنیادی اہلیت ہی نہیں مدارس کا نصاب ونظام سمجھنے کی۔ ہمارے تعلیمی نظام کو جب تک دینی علوم سے کورا رکھا جائے گا یہ مسئلہ شاید تب تک حل نہ ہوپائے۔ جب تک ہمارا تعلیمی نظام ہمیں یہ اہلیت نہیں دے گا جس کا تذکرہ جناب وسعت اللہ خان صاحب نے فرمایا ہے تب تک ہم یوں ہی الجھن کا شکار رہیں گے۔ زور بازو یا سیاسی وتزویراتی کوششوں کے بجائے جناب وسعت اللہ خان صاحب نے علمی، مکالماتی اور فکری انداز میں مدارس کے مسئلے کو حل کرنے کی جو تجویز دی ہے یہ بہرحال اہم ترین اقدام ہے اور بسا غنیمت ہے۔ اس سے صرف ہمارے اداروں کو ہی نہیں دانشوروں، مفکرین، تعلیمی ماہرین اور اہل مدارس سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

