باہر جانے کے لئے قطاریں بنائے نوجوانوں کو روکیں


باقی غریب بے روزگار لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں کے لیے وزیر اعظم روزگار اسکیم کے اشتہار منظر عام سے ایسے غائب ہو گئے جیسے کوئی اسکیم تھی ہی نہیں۔ اس صورتحال میں دیکھا دیکھی لوگ بس بیرون ملک جانے کے سپنے دیکھنے لگ گئے کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں چاہے نوکری کوئی بھی ہو۔ آئے روز بیرون ملک پاکستانیوں کی پریشانیوں کی کہانیاں منظر نامے پر آتی رہتی ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے بے روزگار نوجوان بغیر کسی غور و فکر کے بیرون ملک جانے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ کبھی ہمارے نوجوان کشتیاں الٹنے، بارڈر فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتے ہیں تو کبھی قیدی بنا لیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان یوینورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہوکر نوکریوں کے لیے در بدر پھرتے ہیں۔ پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر میں اسامیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس ملک میں لیبر لاز صرف فائلوں میں ہوں کم سے کم اجرت طے ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہو پا رہا ہو اور ملک میں کیرئیر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان اپنے مستقبل سے بے خبر ہوں۔ یقیناً اس صورتحال میں ملک کے نوجوان بیرون ملک روزگار کے حصول کو ہی ترجیح دیں گے چاہے نوکری پلمبر کی ہو یا سیکیورٹی گارڈ کی۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے ملک میں پبلک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دے کر اور ملکی اداروں کی نئے سرے سے تکمیل نو کریں تاکہ روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔ اگر جنوبی کوریا 1960 میں پاکستان کی مدد سے پانچ سالہ منصوبے سے ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں۔ کوریا نے ثابت کیا ہے کہ پالیسیاں یا منصوبے کامیاب یا ناکام نہیں ہوتے ان پر عمل درآمد ان کو کامیاب یا ناکام بناتے ہیں۔ جس ملک کی عوام اپنی 70 سالہ بھیانک تاریخ اور تلخ تجربات کے باوجود ابھی بھی سیاسی، معاشی مستقبل اور جھموری حکومتوں کے فوائد سے بے خبر ہوں تو یقیناً اس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان اس طرح بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے دن دہاڑے سڑکوں اور چوراہوں پر خوار ہوتے ہوئے نظر آتے رہیں گے۔

