”امریکی دھمکیوں کا پاکستانی رویے پر اثر نہیں پڑا“
امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز کا دورہ پاکستان اس لحاظ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ان کا اپنے موجودہ منصب پر براجمان ہونے کے بعد یہ پاکستان کے دورہ ہے مگر بطور امریکی جنرل وہ پاکستان اور پاکستان میں فیصلہ ساز طاقتوں اور سیاسی حرکیات سے بخوبی واقف ہیں اس لیے ان کے لیے کیفیت یہ نہیں ہے کہ وہ پہلے سمجھیں اور پرکھیں گے پھر ایک رائے کو قائم کریں گے بلکہ وہ ایک رائے قائم کر چکے ہیں اور اپنی اس رائے کو پاکستان کی حکمت عملی بنانے کی غرض سے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔
اگر ہم امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورہ پاکستان کا تجزیہ کرنے کی طرف بڑھیں تو ہمیں ٹرمپ کی انتخابی مہم آغاز صدارت اور گزشتہ اگست میں جنوبی ایشیاء کے حوالے سے تقریر کو پہ در پہ ایسے واقعات کے طور پر سمجھنا ہو گا کہ جن کو سمجھ کر ہی ہم امریکہ کی موجودہ حکمت عملی اور اس کے حقیقی عزائم کو سمجھ سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آئے جو مسلمانوں کے حوالے سے سخت خیالات رکھتا ہے۔
دنیا بھر میں جاری بدامنی کو مسلمانوں سے جوڑنا اُن کا ایسا نعرہ تھا جس سے عام امریکی رائے دہندگان کو اور دیگر وجوہات کے ہمراہ اپنی جانب راغب کیا جب وہ وائٹ ہاؤس کے مکین بن گئے تو اپنے ووٹروں کو مطمئن کرنے کے واسطے علامتی نوعیت کے ایسے اقدامات اٹھائے کہ جن سے کچھ اسلامی ممالک کے باشندوں پر سفری پابندیوں جیسے معاملات سامنے آگئے۔ اسی سبب سے انہوں نے اگست 2017 میں جنوبی ایشیاء کے حوالے سے اپنا پالیسی ساز خطاب کیا اور گفتگو کچھ اس پیرائے میں کی کہ جیسے پاکستان کو فوجی نوعیت کے خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ وہی وقت تھا جب پاکستان نے نوازشریف حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا اور خیال تھا کہ پاکستان کی سیاسی بے یقینی کے سبب سے پاکستان مزید ناتوانی کا مظاہرہ کرے گا۔ اس لیے مزید چڑھ دوڑے۔ ٹرمپ کی اس تقریر کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں کے نتائج کے طور پر ہم نے دیکھا کہ امریکی حکام کی جانب سے بیانات کی شدت اور حدت میں کمی واقع ہو گئی۔
امریکہ اس وقت اس امرکا تجزیہ بھی کر رہا ہے کہ امریکی صدر کی سطح سے دھمکی آنے کے بعد پاکستان کس قدر خوفزدگی کے عالم میں آتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کا معاملہ خوفزہ ہونے کا نہیں بلکہ اپنے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کا ہے۔ پاکستان اس سب کو حاصل کرنے کے واسطے اپنی سرزمین پر وہ تمام وسائل کو حل کرنے کے لیے بروئے کار لارہا ہے کہ جو کچھ پاکستان کی بساط میں ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے پاکستان آتے ہوئے کہا کہ انہیں مشترکہ مفادات پر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ یہی موقف پاکستان کا بھی ہے کہ مشترکہ مفادات پر کام مل جل کر ہونا چاہیے۔ مگر اگر صرف ڈومور کا مطالبہ ہو گا تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
پاکستان نے معاملات آگے بڑھانے کی غرض سے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے براہ راست بھی رابطہ کیا اور جنرل باجوہ کابل سے ان سے ملاقات بھی کی مگر سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں موجودہ افغان حکومت کی حیثیت سابقہ نجیب انتظامیہ سے زیادہ نہیں ہے۔ امریکی وزیر دفاع کی پاکستان آمد سے قبل امریکہ کی جانب سے بار بار ایسے بیانات آئے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ پاکستان پر صرف اپنی مرضی تھوپنا چاہتا ہے۔
افغانستان میں امریکی جنرل نکلسن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تقریر کے باوجود بلکہ دھمکیوں کے باوجود پاکستانی رویے میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح اکتوبر میں کانگرس میں بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع نے پاکستانی انٹیلی جنس اداروں پر اپنے الزامات دہرائے واضح رہے کہ امریکہ وزیر دفاع پاکستان میں یہ سب دہرانے ہی آئے۔ پاکستان جواب میں بجا طور پر یہ رائے رکھتا ہے کہ بھارت کی افغانستان میں فوجی موجودگی کسی صورت میں پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ بھارت کے اس طرف بڑھتے قدم سے صرف خطے میں فوجی عدم توازن کا ہی باعث نہیں ہوں گے بلکہ بھارت نے جو آبی دہشتگردی اور معاشی گہراؤ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے وہ مزید توانا ہو جائے گی۔ پاکستان تو جو کچھ ممکن ہے وہ دہشتگردی سے نبردآزما ہونے کے لیے کر رہا ہے لیکن بھارت افغانستان میں بیٹھ کر شورش کو مستحکم کر رہا ہے اور دہشتگردی کو مضبوط کر رہا ہے۔ ٹی ٹی پی سے بھارتی روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
ان حالات میں امریکی کندھوں پر سوار ہو کر بھارت کو افغانستان کے راستے پاکستان کو تکلیف میں مبتلا رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان امریکہ سے معاملات کو مساویانہ طور پر ہی طے کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے دورے میں گلے شکوے تو ہوں گے مگر فیصلہ کن حکمت عملی میں دونوں طرف سے کسی بڑی تبدیلی کی اُمید نہیں ہے۔

