مولانا خادم رضوی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ بنایا جائے
بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو چکی ہے کہ اقوام متحدہ ایک پوستی قسم کا ادارہ ہے جسے اقوام اور امت کے ایسے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جو ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔ کشمیر، فلسطین اور قبرص کا مسئلہ اقوام متحدہ میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے پڑا ہے مگر حل نہیں ہوا۔
لیکن آپ غور کریں تو مشرقی تیمور، سوڈان کی تقسیم، بوسنیا وغیرہ کے معاملات اقوام متحدہ نے حل بھی کیے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ امت کے مسائل حل نہیں ہوتے مگر کچھ دوسرے ہو جاتے ہیں؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی نمائندہ نہیں ہے جو متاثر کن انداز میں امت کے مسائل کو اقوام عالم کے سامنے اٹھا سکے اور انہیں مجبور کر دے کہ وہ مسائل حل کریں۔ جب مشہور مضمون ”کتے“ کے مصنف پطرس بخاری اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے تھے تو یہ ان ہی کی تقاریر تھیں جن کی وجہ سے تیونس کو فرانس سے آزادی ملی تھی۔ اہل تیونس نے اعتراف میں پطرس کے نام پر سڑک بھی بنا رکھی ہے۔ پاکستانی نمائندوں کی مساعی سے فلسطین کا مسئلہ بھی پچاس کی دہائی میں بار بار زیر بحث آیا۔
بدقسمتی سے اب ہمارے پاس اب ایسے دلیر نمائندے نہیں ہیں جو ببانگ دہل حق بیان کر سکیں۔ ملیحہ لودھی عرصہ دراز سے اس عہدے پر متمکن ہیں، مگر کچھ عرصہ پہلے انہوں نے جب کشمیری عوام کے خلاف بھارتی حکومت کی جانب سے چھروں والی بندوقوں کے استعمال پر تقریر کی تو تصویر ایک فلسطینی لڑکی کی لہرا دی۔ اس سے یہ المناک معاملہ قہقہوں کی نذر ہو گیا۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں اہل افراد موجود نہیں ہیں۔
گر ہم پاکستان کے سیاسی، افسر شاہی اور مذہبی اکابرین پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ ایک ہی ایسی شخصیت ہے جو گمبھیر ترین معاملات پر بھی اپنا موقف ایسے متاثر کن انداز میں پیش کرتی ہے کہ مخالف کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ خفیف ہو کر تمام مطالبات مان لے۔ مولانا خادم رضوی نے جس طرح محض دو ہفتے میں اسلام آباد میں اپنی مسحور کن خطابت اور چند سو افراد کے وفد کے ذریعے اپنے مطالبات منوا لیے ہیں، وہ متاثر کن ہے۔
بہتر ہے کہ آج کل پاکستان کے جو بھی وزیراعظم ہیں، وہ خود مولانا خادم رضوی کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ اقوام عالم میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ مولانا خادم رضوی جیسا حق گو جب جنرل اسمبلی میں شیر کی مانند چنگھاڑ رہا ہو گا تو کفار کے دلوں پر ہیبت بیٹھے گی اور ان کو سنجیدگی سے امت کے مسائل پر غور کرنے اور امت کی امنگوں کے مطابق ان کا حل نکالنے پر مبجور ہونا پڑے گا۔ جس دلیری سے مولانا خادم رضوی نے ذرا بھی ڈرے بغیر وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کا ذکر اپنی تقاریر میں کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہود و نصاری کے لیڈر بھی نہیں بچ پائیں گے اور ان کی عزت سرعام نیلام ہو گی۔
مولانا کے زور خطابت سے نہ صرف یہ کہ فلسطین، کشمیر اور قبرص کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، بلکہ گمراہ مغربی اقوام اس بات پر بھی مجبور ہو جائیں گی کہ آزادی اظہار پر پابندی لگا دیں اور ایسا مواد شائع یا نشر کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں جو امت کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایسی قراردادیں آئیں گی جن کی رو سے دنیا بھر میں امت کی خواہشات کے مطابق پریس اور میڈیا پر سینسر شپ نافذ کی جائے گی۔
جب مولانا خادم رضوی پنجابی میں دھاڑ رہے ہوں گے اور جنرل اسمبلی کا وسیع ہال کے در و بام ان کی ہیبت سے لرز رہے ہوں گے، تو کون ہے جو ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔ نہ صرف یہ کہ پنجابی کو اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل کیا جائے گا، بلکہ وہاں بلیغ پنجابی کا ترجمہ کرنے والوں کی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ ڈانلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے انٹرنیشنل غنڈے بھی مولانا خادم رضوی کو اپنا پیر ماننے پر مجبور نہ ہوئے تو وہ خود ہی نتیجہ بھگت لیں گے جب مولانا خادم رضوی ان پر واضح کر دیں گے کہ ڈنڈا پیر ہے بگڑے تگڑوں کا۔
سمند خیال کو بحر ظلمات میں دوڑائیں۔ مولانا خادم رضوی تقریر کر رہے ہوں گے۔ مترجم رک رک جائے گا لیکن ہال تالیوں سے گونج رہا ہو گا۔ صدر ٹرمپ جھلا کر پوچھے گا ”یہ کیا کہہ رہا ہے؟ “ مترجم سہم کر کہے گا ”صدر محترم، آپ کو مشورہ دے رہا ہے کہ اپنی ہمشیرہ سے مشورہ کریں، بار بار ان کے سر کا ذکر کر رہا ہے“۔ لیکن امید ہے کہ بھارتی مندوب جو ایک سکھ ہے، اس کا سلیس انگریزی میں اصل ترجمہ کر کے صدر ٹرمپ کے چودہ طبق روشن کر دے گا۔ ساتھ یہ بھی واضح کر دے گا کہ ٹرمپ نے مولانا خادم رضوی کے مطالبات نہ مانے تو نیویارک کے ہر چوک پر دھرنا دیا جائے گا اور ٹائر جلا کر امریکی معیشت کو مفلوج کر دیا جائے گا۔ اگر ٹرمپ نے پھر بھی مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے مولانا کی یوٹیوب پر موجود تقاریر سب ٹائٹل کے ساتھ مہیا کی جا سکتی ہیں۔
