جب میں اسرائیل گیا۔۔۔۔


میں نے کل ڈونلڈ ٹرمپ اور یروشلم کی خبریں پڑھیں تو مجھے کئی برس پہلے کا اپنا اسرائیل کا سفر یاد آ گیا۔

جب مجھے کینیڈین پاسپورٹ ملا تھا تو میرے دل میں اسرائیل کو قریب سے دیکھنے کی دیرینہ خواہش نے ایک دفعہ پھر انگڑائی لی تھی کیونکہ میں پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل نہ جا سکتا تھا۔ میں نے سوچا تھا اسرائیل ایک ملک ہی نہیں مشرقِ وسطیٰ کے تضادات کا محور بھی ہے جو اپنی پیدائش سے اب تک سیاسی اور مذہبی دھند میں کھویا رہا ہے۔

ابھی مجھے کینیڈین پاسپورٹ حاصل کیے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ یروشلم میں نفسیاتی مسائل پر ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ میں نے انہیں ازدواجی مسائل پر ایک پیپر لکھ کر بھیجا اور جب کانفرنس کے منتظمین نے میرا پیپر قبول کر لیا تو میں بوریا بستر باندھ کر ابنِ بطوطہ کی طرح سفر پر نکل کھڑا ہوا۔

میں شام کے وقت یروشلم کے ہوائی اڈے پر اترا۔ امگریشن افسر نے میرا کنیڈین پاسپورٹ دیکھا تو مسکرایا لیکن جونہی اس نے جائے پیدائش پاکستان پڑھا تو مجھے مشکوک نظروں سے ایک اور افسر کے حوالے کر دیا جو مجھے ایک خصوصی بند کمرے میں لے گیا۔ سوال و جواب کے طویل سلسلے کے بعد میں نے انہیں قائل کیا کہ میں کانفرنس میں پیپر پڑھنے آیا ہوں جاسوسی یا دہشت گردی کرنے نہیں آیا۔

کانفرنس کے بعد اگلے دن میں شہر کی سیر کے لیے نکلا تو چلتے چلتے پرانے شہر پہنچ گیا۔ میں دروازے پر فوجیوں کو دیکھ کر حیران ہوا جو انسانوں اور سامانوں کی تلاشی لے رہے تھے۔ جب کسی دیس کی گلیوں میں فوجی نظر آنے شروع ہو جائیں تو مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ملک کے حالات تشویشناک حد تک ناگفتہ بہہ ہو چکے ہیں۔

پرانے شہر کی دنیا میں نجانے کتنی دنیائیں آباد ہیں۔ چند میلوں کے رقبے میں ہزاروں سال کی تاریخ بکھری پڑی ہے۔ میں گلیوں سے نکل کر باہر آیا تو مجھے دیوارِ گریہ نظر آئی جس کے ارد گرد سینکڑوں یہودی کالے کوٹ اور کالی ٹوپیاں پہنے چہل قدمی کرتے نظر آ ئے۔ شاید وہ عبادت میں مصروف تھے۔ میں بھی قریب گیا تو ایک راہب نے میرے سر پر کالی ٹوپی رکھ دی۔ دیوارِ گریہ WESTERN WALL بھی کہلاتی ہے کیونکہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے‘جس کے نشانات چاروں طرف بکھرے دکھائی دیتے ہیں‘ وہ شہر کی آخری حد تھی جس سے آگے یہودی نہ جا سکتے تھے۔ اس دیوارِ گریہ کے منظر میں دو چیزیں عجیب تھیں۔

پہلی۔ ۔ ۔ ایک فوجی کا فوجی وردی اور بندوق کے ہمراہ عبادت کرنا۔ دوسری۔ ۔ ۔ بہت سے لوگوں کا دیوارِ گریہ کے سوراخواں میں کاغذ کی پرچیاں رکھنا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ یہودی بھی باقی مذاہب کے پیروکاروں کی طرح توہم پرست تھے۔ دیوارِ گریہ میری امید سے زیادہ بلند اور پرشکوہ تھی۔ سینکڑوں یہودیوں کے وہاں دن رات گریہ و زاری کرنے نے دیوارِ گریہ کو اسم با مسمیٰ بنا دیا تھا۔

میں دیوارِ گریہ سے گزر کر دوسری طرف گیا تو اپنے آپ کو مسلمانوں کے حصے میں پایا۔ میرے دائیں طرف مسلمانوں کا عجائب گھر تھا‘ سامنے مسجدِ اقصیٰ اور بائیں طرف نیلا گنبد تھا جو DOME OF THE ROCK کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ویسے تو مسجد دیکھنے کا پانچ ڈالر ٹکٹ تھا لیکن جب کارکنوں کو پتہ چلا کہ میں پاکستان سے ہوں تو انہوں نے مجھے مفت جانے دیا۔ مسجد کے دو حصے تھے پہلے حصے میں صرف ٹورسٹ جا سکتے تھے اور دوسرے حصے میں خصوصی لوگ۔ میں جب خصوصی حصے میں داخل ہوا تو میں نے چاروں طرف دیکھا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ جنگ کے دوران مسجد کو جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس دن میں نے اپنی آنکھوں سے اس کا ثبوت دیکھا۔ چھت پر ابھی تک دھوئیں کے سیاہ نشان نظر آ رہے تھے۔

میں مسجد سے نکل کر گنبد کی طرف بڑھا تو سیڑھیاں اترتا ہوا ایک نوجوان مجھے دیکھ کر رک گیا

’کیا آپ پاکستان سے ہیں؟‘

’جی ہاں‘

اس نے مجھ سے بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا۔ ’آئیں میں آپ کو گنبد کا ایک خاص حصہ دکھائوں‘ اس نے مجھے گنبد کے اندر ایک بہت بڑی چٹان دکھائی پھر مجھے زیرِ زمین لے گیا اور اس چٹان میں ایک قدرتی سوراخ دکھانے لگا جس سے آسمان نظر آتا تھا

’جانتے ہو یہ کیا ہے؟‘

’نہیں‘ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس میں سے ہمارے پیغمبر کا براق اڑ کر آسمانوں تک پہنچا تھا۔

میں خاموش رہا۔ میں کوئی ایسی بات نہ کرنا چاہتا تھا جس سے اس کے جذبات مجروح ہوں۔

مسلمانوں کا پورا علاقہ سوگوار نظر آیا۔ مسجد اور گنبد کے نقش و نگار میں ایک مخصوص جاذبیت اور وقار تھا۔

میں مسلمانوں کے علاقے سے نکلا تو اپنے آپ کو عیسائیوں کے علاقے میں پایا۔ میں انجانے میں VIA DELAROSA سے گزر رہا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ عیسیٰ اس پیچیدہ راستے سے گزرے تھے۔ صلیب بھاری تھی اور راستہ دشوار گزار۔ وہ کئی جگہ گرے تھے۔ عیسائیوں نے ان جگہوں پر نشانیاں بنا رکھی ہیں جہاں جہاں وہ گر گر کر اٹھے تھے۔ وہ گلی اس جگہ ختم ہوتی ہے جہاں عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ مصلوب ہوئے تھے۔ میں اس کمرے میں پہنچا تو وہاں مجھے ایک صلیب نظر آئی۔ کمرے کا سنگِ مرمر کا فرش تھا۔ بہت سی عورتیں بڑی عقیدت سے اس فرش کو دھو رہی تھیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھیں۔

میں شہر کی سیر سے لوٹ تو آیا لیکن میری روح میں عجب بے کلی رہی۔ میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ میں ایک طرف حیران تھا کہ یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام کی روحانی قدروں کے مراکز اتنے قریب قریب تھے اور دوسری طرف پریشان تھا کہ ان مراکز کے پیروکاروں کے سروں پر فوج‘ تعصب اور نفرت کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ساری دنیا کو محبت کا درس دینے والے خود عداوت کا شکار ہو گئے تھے۔ اگلی صبح اٹھا تو میرے اندر کا شاعر جاگ گیا جس نے اپنے جذبات اور خیالات کو اس نظم کا روپ دیا۔

                                                اسرائیل

نفرت بھی عجب اور محبت بھی عجب تھی

اس شہر میں قربت کی روایت بھی عجب تھی

            دیواریں تھیں ہمراز مگر دل میں خلیجیں

            ہمسایوں کی آپس میں رقابت بھی عجب تھی

                        اک باپ کی اولاد مگر خون کے پیاسے

                        دشمن تھے مگر ان میں شباہت بھی عجب تھی

                                    خاموشی کا ہر لمحہ وہاں چیخ رہا تھا

                                    آوازوں کی بستی میں بغاوت بھی عجب تھی

                                                معصوم جبینوں پہ ملے خون کے چھینٹے

                                                اور اس پہ ستم خون کی رنگت بھی عجب تھی

                                                            جو شخص ملا کانچ کا پیکر لگا مجھ کو

                                                            اور کانچ کی پتھر سے رفاقت بھی عجب تھی

                ہر نسل نئی نسل کو دیتی رہی ہتھیار

              اس شہر میں خالدؔ یہ وراثت بھی عجب تھی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 557 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail