ماں کا توشہ: ایک جوڑی کپڑا، کتابیں اور آنکھیں


وہ سال گذشتہ کی کوئی تاریخ رہی ہو گی۔ اور رات کا پچھلا پہر کہ جب میں یک بیک نیند سے ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی اور سردی کے باوجود پسینہ پسینہ ہو گئی کہ بات ہی کچھ ایسی تھی، میں نے خواب میں ریلوے سٹیشن کا ایک منظر دیکھا جہاں میری امی سر تا پیر سفید براق کپڑے پہنے کسی ریل کی آمد کی منتظر ہیں، ان کے ہاتھ میں خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے جوڑ کر بنائی گئی ایک گٹھری ہے ویسی ہی جیسی پرانے وقتوں کے لوگ ضرورت بھر توشہ، ہجرت مکانی کے وقت لے کر لمبے سفر پہ روانہ ہوتے ہیں۔

’’ اس وقت پرانی گٹھری میں کیا ہو سکتا ہے؟ یقینا ایک عدد معمولی کپڑے کا جوڑا اور ڈھیر ساری کتابیں۔ ‘‘ میں نے سوچا ’’ تو یہ توشہ لے کر میری امی کہاں چل دیں؟ ‘‘میری سوچتی آنکھوں کو انہوں نے پڑھ لیا۔

’’ بس اب ہم جا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا۔ ’’ کہاں؟ جوابا وہ صرف مسکرا دیں۔ لیکن ان کے چہرے پر بہت اطمینان اور خوشی تھی۔ اتنی کہ مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ رات کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ مجھے لگا کہ ان ساعتوں میں مجھے وہ کچھ بتایا جا رہا ہے جسے سننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔

اس کے کوئی ایک آدھ ماہ بعد بہن کے بیٹے زین کا فون آیا۔ ’’ نانی اماں آپ سے کچھ بات کرنا چاہ رہی ہیں۔ ‘‘ میں خوش ہو گئی کیونکہ امی عموما ً فون پر بات کرنے سے کتراتی تھیں۔ اونچا سننے لگی تھین لیکن سماعت کا آلہ لگانے سے الجھتی تھیں۔ میں حیران تو ہوئی لیکن اس دن انہیں سننے کی ضرورت نہیں تھی وہ صرف بول رہی تھیں، کم و بیش دس منٹ تک اونچی آواز میں یک طرفہ کلام کرتی رہیں، امریکہ میں مقیم اپنی تین اولادوں کے خاندان کے ہر فرد کو نام بہ نام محبت اور دعاؤں کے پیغام دینے کے بعد مجھ سے کچھ سنے بغیر فون زین کو دے دیا۔ دل ایک بار پھر پریشان ہوا۔ یہ میری امی کا طریقہ نہیں، وہ شنانے کی بجائے ہماری باتین سننا چاہتی تھیں۔ گو جلد ہی الجھ کر فون کا ریسیور کسی اور کو پکڑا دیتیں، ہمیں سنائی نہیں دے رہا۔ ‘‘ مگر آج ان کی آواز ہوا برد ہو کر مجھ تک پہنچ جائے یہی منشا تھا شاید۔

اس کے دس پندرہ دن بعد میری بہن کا نوکری پر فون آیا کہ امی کی طبیعت بہت خراب ہے اور انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں ہیں۔ ان کو اسٹروک ہوا تھا اور جسم میں نمکیات کا تناسب بگڑ گیا تھا۔ میں اپنی کرسی پر منجمد ہو گئی۔ بڑی ہمت کر کے قدم ( Main ) آفس کی طرف بڑھانا شروع کیئے اور پہلی بار کتابوں میں بارھا پڑھا مجھ پر منکشف ہوا کہ پاؤں من من کے ہوجانا کیا ہوتا ہے۔ تین دن کے اندر ان کی پانچ میں سے چار بیرونِ ملک مقیم اولادیں ( امریکہ سے میں، تسنیم تاج اور یوسف ضیغم نقوی اور برطانیہ سے محسن ذوالفقار نقوی) پاکستان پہنچ گئے تھے۔ بڑی بہن پاکستان ہی میں رہتی تھی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے لگا کہ میری ماں ہی ہمیں نہیں چاہتیں بلکہ ہم سب بھی ان کے بغیر ادھورے ہیں۔ قربت کہ جس کے اظہا رکی ہم سب شاید ضرورت نہیں سمجھتے امی نے بھی برملا زبانی اظہار اتنا نہ کیا وہ تو بس روزِاول سے اپنی اولادوں پہ محبتیں نچھاور کرتی رہیں اور ہم سب غیر شعوری طور پر اپنا حق سمجھ کر بٹورے جا رہے تھے۔ بغیر کسی شکر گزاری کے احساس کے اس ماں سے جو محنتی، جرات مند، علم کی شیدائی، انصاف پسند اور اپنے نام (انور تاج ) کی طرح روشن تھیں۔ ان کے اندر جتنی علمیت تھی اتنی ہی معصومیت اور انکساری بھی۔ بقول شخصے انتہائی سادہ حلیے میں بھی جب وہ مدلل گفتگو کرتین تو مخاطب کو اندازہ ہو جاتا کہ علم کا وقار لئے شاہانہ سا انداز ہے۔ اور بات کچھ غلط بھی نہ تھی۔

امی نے 28 اگست 1928 میں ہندوستان کے ایک نمایاں گھرانے میں جنم لیا۔ ان کی والدہ قمر تاج بیگم اور والد ہاشم رحمت اللہ بمبئی کے مشہور تاجر گھرانے کے فرد تھے۔ ان کی نانی دلشاد بیگم اپنے وقت کی مشہور سماجی کارکن تھیں کہ جن کو ملکہ برطانیہ نے اعلی اعزاز سے نوازا اور ان کے نام کا سکہ بھی بنوایا۔ امی کے نانا سید محمد فتح علی مرزا ہز ہائنیس منصور خان (1880 تا 1935 ) کے پوتے تھے جو بنگال، اڑیسہ اور بیہار کی ریاستوں کے آخری ناظم تھے۔ سید فتح علی مرزا اور دلشاد بیگم کی دو اولادین میری نانی قمر تاج بیگم اور بیٹا سید اسکندر مرزا تھے۔ ( جو بعد میں پاکستان کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے )

گوامی کی پیدائش بنگلور میں ہوئی مگر اس کے بعد کا بچپن کا خاصا عرصہ اپنے ننھیال مرشد آباد کے ہزار درواری پیلس میں گزرا تاہم امی ان خاندانی ریاستوں اور مرتبوں کو ہر گز خاطر میں نہ لاتی تھیں۔ اور نہ ہی اپنی کسی اولاد کو مرعوب ہونے دیا۔ بقول انکے دادا پرداداہوں گے کچھ مگر بات یہ ہے کہ تم خود کیا ہو؟ حتی کہ اس ذکر سے بھی گریز کرتی تھیں۔

میری شیعہ نانی کا ایک آغا خانی، ہاشم رحمت اللہ سے شادی ہونا مشکل تھا۔ مگر وہ اس طرح سہل ہوا کہ نانی کی والدہ دلشاد بیگم اور آغا خان سوئم کی والدہ کی گہری دوستی تھی۔ اور اس طرح نکاح کی رسم کے لئے پیرس سے آغا خاں خود آئے۔ اس شادی کے نتیجہ میں تین اولادیں خالہ منورتاج، ماموں سلطان رحمت اللہ اور انور تاج میری امی کی پیدائش ہوئی۔ تمام اولادوں نے شیعہ مذہب کو اپنایا۔

میری بچپن کی ابتدائی یادوں میں شام کے ملگجے دھند لکے اور مرگھلے بلب کی روشنی میں امی کا روشن چہرہ آج بھی زندہ ہے۔ کہ جن کی خوبصورت آنکھوں میں علم کی پیاس اور استعجاب نمایاں تھا۔ خموشی سے موٹی سے موٹی سی کسی کتاب پہ جھکی لفظوں سے سیراب ہوتی ہوئی گہری آنکھیں۔

ان کا یہ ہیولہ میرے تصور سے کبھی محو نہیں ہوتا۔ کتابوں کے عشق نے انہیں بہت سے ایسی خواہشات سے دور رکھا کہ جو عموماََ عورتوں کے لئے بہت اہم ہوتی ہیں۔ مثلا زیور کپڑے، بننا سنورنا، ان کا باطنی حسن ان ظاہری شان اور دکھاوے سے بے نیاز ہی رہا۔ وہ آخری دم تک اپنے اصولوں پر ڈٹی رہیں۔ ’’ ہماری ضرورت سے زیادہ کپڑے نہ بناؤ، بس عید، بقر عید ہی کافی ہے بلکہ وہ بھی بہت ہے ‘‘ اگر ان کو محسوس ہوتا کہ کچھ زیادہ آ گیا تو وہ چیز سمیٹ کر تحفہ دے دی جاتی۔ فضول ضائع کرنے کا تصور ان کے لئے سوہانِ روح تھا۔ گھر کے کاموں اور کتابوں کے علاوہ کبھی کبھی وہ گھر میں بچے کپڑے کے ٹکڑوں سے گٹھریاں یا خوان پوش یا رضائی بھی بناتی تھیں۔ ان کی کئی گٹھریوں نے تو چار پانچ دھائیوں کی یادوں کا سفر طے کیا۔

فضول خرچی سے گریز باآسانی انہیں کنجوسی کے کھاتے میں ڈال سکتا تھا۔ لیکن وہ اس طرح صاف بچ جاتیں کہ کسی کو دینے کے لئے ان کا دل بہت بڑا تھا۔ ساری کفایت شعاری ان کی اپنی ذات تک محدود تھی۔ کوئی مہمان گھر آ جائے تو دل کھول کر خاطر کرنا ان کی مسرت کا سبب بنتا۔ ہم سے کہتیں کسی کو جوڑا دینا ہے تو نیا دو اترن کیوں؟ مستحق رشتہ داروں کی خموشی سے مدد کرنا اور ان کو عزت دینا ان کا شعار تھا۔

کتابوں سے عشق بچپن سے تھا۔ بچوں کے رسالوں کے لئے نظمیں لکھتی تھیں۔ گو بعد میں یہ شوق صرف سننے تک محدود رہا۔
ادب، تاریخ، سیاست، مذہب غرض ہر موضوع سے دلچسپی تھی۔ لیکن پرتجسس طبیعت کے سبب جاسوسی کتابوں کا بہت شوق تھا۔ میرا بھائی اگاتھا کرسٹی، کونن ڈوئیل اور بے شمار ادیبوں کی کتابیں لاتے، ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ پہلے ابتدائی صفحات، پھر کچھ درمیانی اور آخری صفحات پڑھتیں اور اندازہ لگاتیں کہ کتاب دلچسپ ہے یا نہیں۔ دو سال امریکہ میں بڑے بھائی کے گھر میں قیام کے دوران بے شمار کتابیں پڑھیں۔

امریکہ کی سیاسی پالیسیوں سے عناد اور سماجی اور اخلاقی رویہ سے پریشان ہونے کے باوجود یہاں کی لائبریری کے ذکر سے ان کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ بقول ان کے ’’ ہم نے ان دو سالوں میں اتنی کتابیں پڑھیں جو پاکستان میں کئی سالوں میں نہ پڑھی ہوں گی۔ تحصیلِ علم کا یہ شوق آخری عمر تک جاری رہا۔ دو سال قبل پاکستان جاتے وقت سفر کے لئے کتاب Namesake لے گئیں۔ روز سویرے جو میری آنکھ کھلتی تو کھڑکی کا دبیز پردہ ہٹا کر، موٹے چشمے کی عینک لگائے پڑھنے میں منہمک پاتی۔ میں نے کہا ’’ صبح سویرے کیا پڑھا جا رہا ہے؟ کہنے لگیں کافی دلچسپ کہانی ہے سوچتے ہیں جلدی جلدی پڑھ لیں تمہارے جانے سے پہلے۔ ‘‘ امی نے یہ نہیں کہا کہ کتاب چھوڑ جاؤ۔ کیونکہ مانگنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔ صرف دینا آتا تھا سو وہ کرتی تھیں۔ تاہم اگر آپ معمولی سی شے بھی لا دیں تو بہت احسان مند ہو کر شکریہ ضرور ادا کرتی تھیں۔ ’’ تھینک یو ‘‘

عورت کی اقتصادی خود مختاری کی زبردست خواہاں تھیں۔ کتنی ہی ضرورتمند خواتین کو اپنے محدود وسائل کے باوجود پاؤں پہ کھڑا ہونے میں مدد دی۔ ’’ جاؤ تم ٹریننگ حاصل کرو، تمہارے بچے ہم سنبھالیں گے۔ خود 1942 میں مدھوپور دسٹرکٹ سے میٹرک کا امتحان نمایاں درجہ میں پاس کیا پھر شادی ہو گئی، مزید ڈگریاں نہ حاصل کر سکیں تو اپنی اولادوں کو تعلیم دلا کر اس کا شوق پورا کیا۔ ہم سب کو جب تک خود پڑھا سکیں پڑھایا۔ اگر کسی مضمون میں دقت ہوتی تو پہلے خود پڑھتیں اور پھر ہمیں پڑھاتیں۔ بچپن میں حساب پڑھانے سے پہلے باھر سے چھوٹے پتھر منگواتیں۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کونکڑیٹ سطح پہ حساب سکھانے کا یہ انداز دراصل مونٹیسوری طریقہ تعلیم کی بنیاد ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیل کے چولہے پہ پھولے پیٹ کی گرم روٹی اتار کر کھلائی جاتیں اور ساتھ ہی حساب کی جادوئی ٹرکزTricksبتاتی جاتیں۔ نو کے پہاڑے کا جادو انہوں نے ایسے ہی کسی زمانے میں سکھایا کہ جس میں حاصل ضرب کا مجموعہ ہمیشہ نو ہوتا تھا۔

انگریزی بولنے والے گھرانے سے بیاہ کر خالصتا لکھنوی ماحول میں گئیں۔ اپنی کوشش سے اپنی ’’ کھڑی ‘‘ اردو کو بہتر کیا۔ ضرورت کے بغیر گفتگو میں انگریزی کا ایک لفظ بھی شامل نہیں کرتیں۔ لیکن ان کو ہمیشہ یہ افسوس رہا کہ ’’ ہمارے تخیل کی زبان انگریزی رہی لہذا اردو لکھنے سے پہلے انگریزی میں سوچتے ہیں۔ ‘‘ یہ شاید ہندوستان میں انگریزی سامراجیت کی بالا دستی سے بغاوت کا شدید احساس تھا۔ جاگیرداری، بادشاہت، استبداد کے خلاف ان کا علم ہمیشہ بلند رہا۔ ان کے اپنے ماموں اسکندر مرزا جب پاکستان کے صدر بنے تو پوچھا ’’ ٹائینی ( پیار کا نام ) تمہیں کچھ چاہیے؟ تو انہوں نے بہت وقار سے ان کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ حالانکہ ان کا وہ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ میرے ابا کسی معمولی سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ لیکن تہہ دستی میں بھی خدا کے علاوہ کسی سے مانگنا ان کا شیوہ نہ تھا۔ تاہم دوسروں کو جس حد تک دے سکتیں دیتیں۔ حتی کہ انتقال سے ایک آدھ ماہ پہلے تک بھی ایک غریب بچے کو دو تین گھنٹے روز پڑھا کر میٹرک کی تیاری کروا رہی تھیں۔

سب کو اتنا کچھ دے کر بھی انہوں نے اپنی کسی خواہش کا اظہار نہ کیا۔ حتی کہ وقتِ رخصت آن پہنچا۔ لیاقت نیشنل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے کمرے میں بستر پہ لیٹی، منہ میں خوراک کی نلکی سانس کی بحالی کے لئےRespirator ( مصنوعی تنفس کا آلہ ) ان کا خوبصورت چہرہ تکلیف سے بدحال ہو رہا تھا۔ ہم پانچوں بہن بھائی ان کے قریب تھے۔ چہیتی بہو، جو بہن کی بیٹی بھی ہے۔ پوتا پوتی بھی برطانیہ (لیڈز) سے آ گئے تھے۔ مجھے لگا کہ امی کواپنی رخصت کا پہلے سے پتہ تھا۔ وہ ہشیار دل و دماغ سے یوں دیکھ رہی ہوتیں جیسے ساری شکلوں کو تصور میں جذب کرلینا چاہتی ہیں۔ پھر اچانک ان کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ ڈاکٹر نے مصنوعی تنفس کا آلہ نکال کر انتہائی نگہداشت سے جنرل وارڈ میں منتقلی کی خبر سنائی۔ میرے چھوٹے بھائی جو اب تک ضبط اور ہمت سے بھاگ بھاگ کر سارے امور کی انجام دھی بجا لا رہے تھے۔ خوشی کے مارے ہم سب سے لپٹ لپٹ کر رونے لگے۔ بہنیں سوچنے لگیں ’’ اب مدرز ڈے منائیں گے ‘‘ پر نہ جانے کیوں میرا بدبخت دل اس وقت بھی یہ کہہ رہا تھا کہ یہ چراغِ سحری ہے۔ اور یونہی ہوا، امیدوں کی پتوار پار لگنے کی بجائے ایک بار پھر ڈولنے لگی۔ ایک پورا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ امی کو دوبارہ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ میرے بہنوئی صبح شام ان کے سرھانے قرآن کی تلاوت کرتے رہتے۔ چھوٹی بہن تسنیم جو ان سے بہت زیادہ قریب تھی۔ بے یقینی اور شدید صدمے کی کیفیت میں ان کا ہاتھ یا پیر پکڑ کر جتنی دعائیں بھی یاد تھیں پڑھتی رہتی۔ وہ بے بسی کے عالم میں تھی۔ کاش کوئی امی کو روک لے۔ کبھی ہسپتال کے عملے سے جھڑپ ہو جاتی اور کبھی ڈاکٹروں سے بحث کرتی۔ بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی چیز میرے ہاتھوں سے نکلی جا رہی ہے اور میں بے بس ہوں۔

امی سب کو آنکھیں کھول کر دیکھتیں عالمِ نزع میں بھی آنکھوں آنکھوں میں تسلی دیتیں، مجھے یقین تھا کہ یہ ان کی آخری دعا ہو گی کہ جانے سے پہلے تمام اولادوں کو یکجا دیکھیں۔ اس وقت بھی وہ یہ کہنا چاہ رہی ہوں گی کہ ’’ معاف کر دو تم سب کو ہماری وجہ سے اتنی تکلیف ہوئی، دور پار سے آئے، تھینک یو ‘‘ مگر ہمیں بلانا ان کی مجبوری ٹھہرا ہو گا، بڑی پرائیویٹ خاتون تھیں۔ لہذا تینوں لڑکیوں نے بڑے لاڈ سے اپنی پاکیزہ ماں کو نہلایا، پانی سے ان کے ہاتھ دھلاتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ان ہاتھوں نے کتنی بے تھکان خدمت کی ہماری اور ہم کو وقتِ رخصت صرف نہلانے کی زحمت دی۔ میری امی جو معجزوں پہ حیران ہونے والوں سے اکثر کہتیں کہ غور کرو تو تمہاری ہر سانس ایک معجزہ ہے؟ کاش دیکھ سکتیں کہ سانس کی ڈور ٹوٹنے کے بعد بھی ان کا حسن کس قدر معجز نما تھا۔ لگ بھگ اسی سال کی عمر میں بھی ان کا چہرہ چالیس پینتالیس سال کا نہیں لگ رہا تھا۔

ان کا جنازہ بڑی شان سے اٹھا۔ بیٹے داماد، نواسے، پوتا مجھے یقین ہے کہ اللہ میاں سے انہوں نے یہ بھی فرمائش کی ہو گی کہ وقتِ سفر کاندھا دینے والے میرے جگر کے گوشے ہوں۔ اور خدا نے یہ خواہش بھی بڑے پیار سے پوری کی۔ ورنہ بھلا ہر کسی کی قسمت میں شہزادی کی آخری سواری کا بوجھ اٹھانا کہاں؟

Facebook Comments HS