موہنجو دڑو کی رقاصہ سمبارا بیمار ہے


یہ مشورہ مجھے پروفیسر مغز مار نے ہی دیا تھا۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ مجھے سنہری مشورے دے چکا تھا۔ اب آپ کہیں گے بھلا مشورے کا بھی کوئی رنگ ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رنگ کرنے کے معاملے میں آپ آزاد ہیں جب بھی چاہیں کہیں بھی رنگ کرلیں۔

میرا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے ساری رات نیند نہیں آتی تھی یہی مسئلہ میں نے پروفیسر سے ڈسکس کیا تھا۔ وہ حسب معمول گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ جب غوطہ لگا کے ابھرا تو مسکرارہا تھا۔ آگیا۔ اس نے بلند آواز سے کہا تو میں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ کون آیا ہے پیچھے مٹر کر دیکھا وہ ہنسا۔ وہاں نہیں یہاں اس نے اپنی انگلی دماغ پر رکھی تمہارے مسئلے کا حل میرے دماغ میں آگیا ہے ویسے تم بھی بیٹھ کر الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہوگی تو نیند کیا خاک آئے گی۔ یہ ان کی بات بلکل صحیح تھی میں ایسا ہی دھندا کرتی رہتی تھی۔

نیند انسان کے لئے بہت ہی ضروری ہوتی ہے۔ رات کو اچھی نیند لینے سے انسان ذرا فریش رہتا ہے۔ پروفیسر مغز مار ڈارئینگ روم میں واک کرتا اور پائپ پیتا ہوا باتیں کررہا تھآ۔ تم نیند کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتیں۔ اس نے انگلی میری طرف اٹھا کے بالکل ایسے ہی کہا جیسے پاکستانی فلموں میں وکیل جج سے کرتا ہے۔ نہیں نہیں۔ میں نے کب انکار کیا ہے میں تو ڈر ہی گئی تھی اور صفائی پیش کی۔ اس نے بھنویں سیکڑ کے مجھے دیکھا۔ یہ تو تم زبان سے کہہ رہی ہو اعمال تو کچھ اور بتاتے ہیں۔ سچ اب تو پروفیسر مجھے ارسطو افلاطون طرح دکھنے لگا۔ تم کیا کرو کہ۔۔۔۔ جملہ بیچ میں چھوڑ کے وہ چھت کو گھورتے ہوئے کہیں گم ہوگیا میں اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔

کافی دیر کے بعد وہ چونکا۔ ہاں توہم کس موضوع پر گفتگو کررہے تھے۔ میں یہ سوچ کہ پریشان ہوگئی کہ پروفیسر صاحب تو میرا مسئلہ ہی بھول چکے ہیں۔ آپ میری نیند کے سلسلے میں کوئی قابل قدر مشورہ دے رہے تھے۔ میں نے بے دلی سے جواب دے کے منہ پھیر لیا۔ اچھا اچھا ہاں یاد آیا۔ تم کیا کرو کہ۔۔۔ کسی کام میں مصروف رہو تاکہ تمہارے تھک جانے سے نیند خود ہی آجایا کرے۔ دیکھنا کیسے نہیں آتی۔ وہ فاتحانہ انداز میں ہنسا واقعی مشورہ تو بہت ہی اچھا ہے پر یہ بھی بتادیں کہ کروں کیا۔ میں جل کر کہا۔ ہم۔ وہ سوچنے لگا۔ اچھا تم کیا کرو۔۔۔ کہ ہسپتال کھول لو۔ آپ کو اچھی طرح پتا ہے کہ میں نے میڈیکل نہیں پڑھا تو میں ہسپتال کیسے کھولوں گی میں نے اسے یاد دلایا۔ اب تو میں چڑنے لگی تھی۔ ارے تو کیا ہسپتال کھولنے کے لئے ڈاکٹر ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ہر گز نہیں تمہیں یہ کس نے بتایا۔ تم کیا کرو کہ ۔۔۔ ایک بورڈ لکھواؤ۔

وہ بتا رہا تھا۔ امریکا، برطانیہ کی ڈاکٹروں والی ساری ڈگریاں اس پر لکھوانا اب وہ صوفے پر آرام کرنے کے لئے بیٹھا اور بات جاری رکھی۔ شہر میں ڈاکٹروں والے ایریا میں دو کمروں والی جگہ کرائے پر لے لو۔ خیر کچھ عرصے میں اپنی جگہ بھی لے لو گی، دیکھو عورتوں کے لئے پردے کا انتظام ضرور کرنا۔ دواؤں کی کمپنیوں سے پوسٹر لے کے سارا کلینک سجا لینا باقی۔ وہ سوچتے ہوئے بولا ایک لڑکے کا بندوبست کرو۔ ایک لڑکا۔ وہ کیوں میں نے حیرت سے کہا کہ لڑکے کا کلینک میں کیا کام۔ پروفیسر مغز مار مسکرایا۔ تمہیں پرچیاں لکھنے کے لئے رجسٹر میں انٹری کے لئے ایک پڑھے لکھے لڑکے کی ضرورت ہوگی صفائی بھی اسی سے کروا لینا۔ اوہ ہاں اب یاد آیا جو لڑکا مریضوں کے نام لکھتا ہے اور فیس لے کے رکھتاہے۔ اب مجھے یاد آگیا تھا۔

پروفیسر مغز مار نے زہریلے انداز میں مجھے دیکھا۔ پاگل ہو تم تو اس سے صرف مریض کا نام لکھواتی جانا فیس خود مریض سے لے کے اپنے پرس میں ڈال دینا۔ پروفیسر مجھے بہت اچھی تربیت دے رہا تھا جو کلینک چلانے کے لئے ضروری تھی۔ اب پلان بنا کے پروجیکٹ پہ کام کرنا شروع کردو۔ دیکھو وہ پریشر چیک کرنے والا ضرور لے لینا۔ چیک کرنا نہ آتا ہو تو ایسے ہی بازو سے باندھ کے پمپ کرو گی تو مریض خوش ہوجائے گا۔ اور ہاں ایک پیڈ بھی چھپوانا جس پر ساری ڈگریاں لکھی ہوں۔ وہ مجھے ایک ایک بات سمجھاتا جاتا تھا۔ پیڈ تو خیر میں چھپوالوں گی پر دوائی کیسے لکھوں گی مجھے تو کچھ بھی نہیں معلوم۔ میں نے انہیں اپنی پریشانی بتائی یہ کام تو سب سے آسان ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا اس نے ایک پرچی پہ کچھ لکھا۔ یہ نیند کی گولی زینیکس کا نام تھا۔ دیکھو بیماری کوئی بھی بتائی جائے پر دوائی تمہیں صرف یہ لکھنی ہے یہ آرام سکون کی ٹیبلیٹ ہے۔ اس سے مریض کو آرام آجائے گا ویسے بھی اکثر لوگ بیمار نہیں ہوتے اپنے مسئلوں کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں ویسے ان کی باتیں سن لیا کرنا کہ دل کا غبار نکلنے سے خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے بس توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ پھر یہ روز آتے رہیں گے۔

پروفیسر سوآنا سچ کہہ رہا تھا۔ میں نے یہ بات گرہ میں باند ہ لی۔ مطلوبہ لوکیشن یہ دو کمروں والی جگہ مناسب کرائے پر مل گئی میں نے دوایوں کے پوسٹر لگاکے کلینک کو تیار کردیا۔ عورتوں کے لئے پردے کا انتظام رکھا۔ کام چل نکلا، کلینک پر بہت رش ہونے لگا، میری کلینک کی دھوم مچ گئی اب تو اپائنمنٹ مہینوں پہلے لینی پڑی اب تو مجھے بہت نیند آتی تھی پر سونے کے لئے ترس گئی تھی یعنی اب کام بہت زیادہ ہوگیا تھا میرا اصل مسئلہ وہیں کا وہیں تھا۔

کلینک پہ کام کرنے والا لڑکا ویسے تو بی اے پاس تھا پر جیساکہ وہ گھوسٹ ٹیچروں والے اداروں میں پڑھا تھا اس لئے کافی دفعہ ایسا ہوتا کہ وہ مریض کا نام نہیں لکھ پایا تو نام سے تعلق رکھنے والا فوٹو بنادیتا جیسے گل خاتون کے نام کے بجائے پھول تو ذوالفقار کی جگہ تلوار کا فوٹو بنا تا پر یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا یعنی کام چل ہی جاتا تھا۔ ایک دفعہ جب میں ایک مریض کی آنکھیں چیک کررہی تھی تو وہ اندر داخل ہوا ایک مریضہ عجیب سا نام بتاتی ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا تو فوٹو کیسے بناؤں؟ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ کوئی بات نہیں تم اسے بھیجو میں اس سے پوچھ لیتی ہوں۔ میں نے نرمی سے کہا۔ کچھ ہی دیر میں ایک لڑکی میلے سے پھٹے پرانے برقعے میں چھپی اندر داخل ہوئی۔ وہ چپ چاپ اسٹول پہ آکے بیٹھی۔ آپ کا نام کیا ہے؟ مجھے بھی نام کے سلسلے میں تجسس ہورہا تھا۔ میرا نام سمبارا ہے۔ وہ کمزور سے لہجے میں بولی کیا۔ کون سی سمبارا اصل میں مجھے وہ اسمارٹ لڑکی یاد آگئی وہی ہوں موہن جو دڑو والی۔ وہ واقعی بیمار لگ رہی تھی تم نے برقعہ کیوں ادڑھا ہے اور تمہاری چوڑیاں کہاں گئیں؟ میں تو سمبارا کو اس حال میں پہچان ہی مشکل سے پائی تھی وہ پتلی کمر والی ڈانسنگ گرل موہن جو دڑو سے ہی دریافت ہوئی تھی میں تو حیران ہی رہ گئی۔

برقعہ مولویوں کے ڈر سے پہنا ہے۔ اس نے برقعے کو اور ٹھیک کرکے پکڑا، تمہیں تو پتا ہی ہوگا چوڑیوں کی انڈسٹری نقصان میں جا رہی ہے بہت مہنگی ملتی ہیں اس نے اپنی سونی کلائی پر ہاتھ پھیرا۔ مجھے یاد آیا کہ میں ڈاکٹر ہوں پھر اس سے پوچھا کہ آپ کو کیا بیماری ہے میں اس کی بیماری کے بارے میں جانناچاہتی تھی۔ اصل میں مجھے دھرنے والی لڑکیاں اتنا اچھا ناچتی ہیں کہ اب میرا ناچ کوئی دیکھتا ہی نہیں اب تو ڈانسنگ گرل کا خطاب ہی فضول لگنے لگا ہے بہت بیمار ہوں کالا پرقان سارے جسم میں پھیل گیا ہے، مجھے دھرتی کا درد سونے نہیں دیتا۔ وہ نقاہت سے بولی۔ واقعی اسے آرام کی ضرورت تھی۔ میں پرچی پہ اسی ٹیبلیٹ کا نام لکھنے لگی۔ روزانہ کھانا صبح ایک شام ایک زینکیس۔

 

Facebook Comments HS