پاکستانی فیس بک پر کیا تلاش کرتے رہتے ہیں؟

ورنہ ہمارے دائیں بازو کے سرفروش کالم نگار تو ہمیں گاہے بگاہے بتاتے ہی رہتے ہیں کہ کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلامی جمہوریہ ہے، اس لئے یہاں ہر طرف نیکی کا دور دورہ ہے اور مغرب کی برائیاں ادھر نہیں ہوتیں۔ نیز مٹھی بھر سیکولر اور لبرل چاہتے ہیں کہ ادھر مغرب کی فحاشی، عریانی اور بے حیائی پھیل جائے اور شراب و شباب پلس کباب عام ہو جائیں۔ لیکن شکر ہے کہ نیک افراد کی اکثریت ان کی سازش کو نہایت کامیابی سے ناکام بنا رہی ہے۔
لیکن آج اچانک ہم پر انکشاف ہوا کہ فیس بک بھی ایک سابقہ یہودی حال ملحد کی پراڈکٹ ہے۔ ہوا یوں کہ ایک ایسے شخص کو تلاش کرنا تھا جس کا نام انگریزی حرف ”جی“ سے شروع ہوتا ہے۔ فیس بک کے سرچ باکس میں جا کر ”جی“ کا بٹن دبایا۔ خیال ہی نہیں رہا کہ اس وقت کیبورڈ اردو موڈ میں ہے، فیس بک پر ”گ“ سے سب سے زیادہ سرچ ہونے والے الفاظ کا ڈبہ کھل گیا۔ ہماری تو یہ دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ فیس بک نے نیک طینت اردو میڈیم پاکستانیوں کو بدنام کرنے کی خاطر کن الفاظ اور تراکیب کو ادھر ڈال دیا ہے۔
آپ خود فیس بک کے سرچ باکس میں ایک ایک کر کے اردو کے وہ حرف ٹائپ کر کے دیکھیں جو عربی میں نہیں ہوتے۔ ایک حرف ہی ٹائپ کریں گے تو چودہ طبق روشن ہو جائیں گے کہ فیس بک پاکستانی قوم پر کیا تلاش کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ آپ نے اینٹر کا بٹن نہیں دبانا ہے، صرف سرچ کے ڈبے میں ابھرنے والی تجاویز پر نگاہ ڈالنی ہے۔
فیس بک کا دعوی ہے کہ جیسے ہی آپ سرچ باکس پر کلک کرتے ہیں اور ٹائپ کرنا شروع کرتے ہیں تو فیس بک وہ چیزیں دکھانی شروع کر دے گی جو اس وقت فیس بک پر پاپولر ہیں تاکہ آپ ان پاپولر چیزوں کو فالو کر سکیں۔ ریزلٹ آپ کی گزشتہ سرچ ہسٹری کو بھی خاطر میں لا سکتے ہیں اور آپ کے محل وقوع کو بھی۔ آپ مزید تسلی کرنا چاہتے ہیں تو فیس بک پر اپنے سرچ باکس میں ہسٹری ڈیلیٹ کر کے کوشش کر لیں۔ ادھر ”ریسنٹ سرچز“ کے سامنے ہی ایڈٹ کا بٹن موجود ہے جو آپ کی سرچ ہسٹری اڑا سکتا ہے۔ حالات پھر بھی خراب ہی دکھائی دیں گے۔
ہم تو اس بات پر یقین نہیں کر سکتے کہ اتنی گندی گندی چیزیں فیس بک پر پاپولر ہیں۔ں۔
یہ یہود و ہنود ہمیں خراب کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ ہم تو ان کی سازشوں سے تنگ آتے جا رہے ہیں۔ فیس بک، گوگل، مائیکروسافٹ، ہر ادارے پر یہ قابض ہیں اور ان کے سرچ باکسوں میں ہم نیک پاکستانیوں کو بدنام کرتے چلے جا رہے ہیں۔
بہرحال ایک موہم سا امکان بھی ہے کہ لبرل اور سیکولر اپنی سازشوں میں کامیاب ہو گئے ہوں اور اردو میڈیم پاکستانیوں میں فحاشی پھیلا کر انہیں بھی اپنے جیسا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں۔ بہرحال آپ خود غیر عربی حروف ڈال کر فیصلہ کرنے کی کوشش کریں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ اردو میڈیم کی قید اس لئے کہ انگریزی کے ایک کیا دو حروف بھی سرچ باکس میں لکھے تو انگریزی کے وہ بدنام زمانہ چار حرفی الفاظ دکھائی نہ دیے جو گندے لوگ بولتے ہیں۔
نوٹ: معصوم بچے اور شرمیلے بڑے یہ تجربہ مت کریں۔

