چھ سالہ بچی کی چیخوں سے ۔۔ وطن و مذہب بلند نہیں


ایمان فاطمہ !

تمھیں زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔۔

تمہیں تو معلوم بھی نہیں ہو گا زیادتی کیا ہوتی ہے؟

تم تو چھ سال کی ۔۔ ابھی اس الجھن میں تھی ۔۔کہ ۔۔

تمہارے اور لڑکوں کے جنسی اعضا ء میں فرق کیوں ہے؟

تمھیں تو ابھی رطوبتوں کے اندر بسے۔۔

درندگی کی بنیادوں پر استوار شہوانیت کا بھی کیا علم ہو گا!

تم ماں اور باپ کے بوسوں سے شناسا۔۔

بوسوں کے مابعد الطبیعاتی فرق کے علم سے ۔۔

کوسوں دور کھڑی ہوگی!

تمہاری لاش کماد کے کھیت میں بے کفن و دفن پڑی رہی۔۔

ہم کیسے بدقسمت ہیں ۔۔

جو چھ سالہ بیٹی کو۔ ۔۔

 گوروکفن وقت پر مل جانے کو۔۔

لاش خراب ہوجانے سے پہلے۔۔

 جنازہ ہو جانے کو۔۔

خوش قسمتی گردانتے ہیں۔۔

ہم کیسے بدقسمت ہیں!

ہم ایسے بدقسمت ہیں!

ہم بنجر اب ایسے کسی سانحے پر ۔۔

آب ندامت، عرق ندامت، اشک ندامت

کچھ محسوس نہیں کرتے۔۔

کیونکہ ہم سب کماد کے کھیت کی پیداوار ہیں

ہمیں صرف ایک سبق بچپن سے پڑھا یا گیا ہے۔۔

یہ مت دیکھو کہ کماد کے کھیت نے تمہیں کیا دیا ہے

یہ سوچو کہ تم نے کماد کے کھیت کو کیا دیا ہے۔۔

ایک سال میں ہزاروں انسانیت سو ز واقعات کی رفتار کے باوجود۔۔

مجھے یہ کہنے کا حق نہیں ملا ۔۔

کہ اب وقت آگیا ہے

سوال اٹھایا جائے۔۔کماد کے کھیت نے ہمیں کیا دیا ہے؟

اب وقت آگیا ہے کہ

جواب دیا جائے۔۔چھ سالہ خون آلود بچی کی چیخوں سے ۔۔

کوئی وطینیت و مذہبیت بلند نہیں!

ایمان فاطمہ!

تم قتل ہوگئی۔۔

تمہاری لاش کماد کے کھیت میں

کیچڑ میں لت پت پڑی رہی۔۔

لیکن تمہاری ایک بہن بچ گئی تھی۔۔

ملالہ جس نے بیرون ملک پناہ لی۔۔

ہم ایسی غلاظت میں لتھڑے لوگ ہیں

کہ کسی دور چلے جانے والے کے گلے تک

ہمارے ہاتھ نہ پہنچ پائیں اور

ہمارے جنسی اعضا کی دسترس نہ ہو پائے ۔۔

تو ہماری زبانیں ایستادگی پا لیتی ہیں

ایمان فاطمہ!

وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی ۔۔

اسرائیل کی حرمزدگیوں کا توڑ کرنے ۔۔

استنبول میں ہیں۔

ہم کسی صورت یہودیوں کو اجازت نہیں دے سکتے

کہ وہ ہماری ماؤں بہنوں کو بری نظر سے دیکھیں۔۔

ہاں مسلمان بھائیوں کواب کیا کہیں جو۔۔

چھ سالہ بیٹیوں کی اندام نہانی کو خون میں لت پت کر کے

گلا دبا دیں۔۔لاش کماد کے کھیت میں پھینک دیں۔۔

اپنا ازار بند کس کے باندھیں اور ۔۔

غسل جنابت کر کے۔۔پاک پوتر ہو جائیں

غسل جنابت فرض ہے اس میں کوتاہی پر سخت سزا ہے!

دیکھنا چاہئے کہ فراغت اور جنابت کے درمیان زیادہ وقت حائل نہ ہو۔۔

ہاں مسلمان بھائیوں کواب کیا کہیں جو۔۔

بچیوں کو زندہ درگو کر دیں۔۔

کسی نوجوان کو برہنہ کر کے پتھر مار مار کر ہلاک کر ڈالیں۔۔

کسی لڑکی کو ننگا کر کے بازاروں میں گھمائیں۔۔

ایمان فاطمہ!

 تمھاری قبر شاہراہ جمہوریت پر ہوتی ۔۔

ہر آنے جانے والے سے پوچھتی۔۔کہ۔۔

ادارے آپس میں کیوں لڑتے ہیں؟

عدلیہ کو لاکھوں زیر التوا مقدمات نظر نہیں آتے۔۔

انتظامیہ کو اپنی رگوں میں دوڑتی کرپشن نظر نہیں آتی۔۔

مقننہ کوملا کو ہڈی ڈالنے کا شوق سر چڑھا ہے۔۔

ریاست میں کچھ ادارے اونچے ایڑی والے بوٹوں سے

قد کو بلند کر کے ریاست کے ستونوں سے ۔۔

خدا کے لہجے میں بات کرتے ہیں!

ایمان فاطمہ ۔۔۔

تمہارے لیے ہم اعزازی جنازے کا بندوبست نہیں کر سکتے۔۔

وزیر اعظم اور چیف جسٹس تمھارے ننھے پاؤں کو چوم کر

معافی نہیں مانگ سکتے۔۔

سچ پوچھو تو دل کی گہرائیوں سے ہم تمہیں ۔۔

شہید بھی نہیں کہہ سکتے۔۔

ہاں ۔۔شہید کہہ سکتے تھے۔۔

ریاستی اعزازی جنازے سے نواز سکتے تھے۔۔

اگر تم نے زیادتی ہونے سے کچھ دیر پہلے

قتل ہوجانے سے کچھ دیر پہلے

سر پر انصاف کی علامتی وگ پہن لی ہوتی۔۔

تن کے لٹنے سے پہلے

کوئی وردی زیب تن کر لی ہوتی!

پھر ہم تمہیں شہید کہتے۔۔

شاعر تمہارے لیے نغمے لکھتے۔۔

موسیقار دل کی گہرائیوں سے تمہارے لیے۔۔

دھنیں تخلیق کرتے۔۔

جو سننے والوں کے دل رنجیدہ کرتیں۔۔

کیمرہ مین تقریب میں آنسوپونچھتی آنکھوں کو فوکس کرتے!

ایمان فاطمہ!

دعا ہے کہ تم جنت کے اس مخصوص حصے میں پہنچ جاؤ

جہاں وہ بچے رہتے ہیں ۔۔

جنہیں کماد کے کھیت میں زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا!

دعا ہے ۔۔۔

رب کریم ۔۔تمہاری یاداشت کھرچ ڈالے۔۔

تمہیں کبھی یاد نہ آئے کہ تم ۔۔

کماد کے کھیت میں پیدا ہوئی تھی!

کماد کے کھیت میں قتل ہو گئی!

ہمیں ہمیشہ یاد رہے اور

تمہیں کبھی یاد نہ آئےکہ۔۔

تم ہمارے درمیان پیدا ہوئی تھیں!

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik