سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اتحاد کس کے خلاف؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت پے در پے بحرانوں کا شکار چلی آرہی ہے میاں نواز شریف کی وزرات عظمی سے نا اہلی کے ساتھ ان کے خلاف عدالتی جاری کارروائی اور دھرنے پہ دھرنا، لانگ مارچ کے باوجود ن لیگ کی حکومت قائم ودائم ہے لیکن ہر آنے ولا دن اپنی کوکھ سے ایک نیا بحران پیدا کر رہا ہے، اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور گدیاں میاں برادران کے خلاف صف آرا ہیں کہ کسی نہ کسی طرح حکومت کا چلتا کیا جائے حیرت اس بات پر ہے کہ جمہوریت کا تمغہ سینے پر سجانے والی ”جماعت “بھی جمہوری پراسس کے خلاف غیر جمہوری قوتوں کے آستانے پر قدم بوسی کرتی نظر آرہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف اتحاد کے قیام کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے خلاف بننے والے اتحاد اور اشتراک کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت کی مدت اگلے برس جون میں پوری ہوگی اور اس کے بعد ہی انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت انتخاب ہونا ضروری ہے ورنہ ملک میں انارکی پیدا ہو سکتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے خلاف جوڑ توڑ کرنے والی سیاسی قوتوں کے بارے میں یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ صفر جمع صفر کا نتیجہ صفر ہی ہو سکتا ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی سیاسی مخالفین کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے مقابلے میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں اس لئے اب وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ملک کے وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی باتوں کو اگر ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو صرف یہی باور کیا جا سکتاہے کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ کی حکومتوں کے لئے روز بروز بڑھتی ہوئی مشکلات کے باوجود یہ دونوں لیڈر بظاہر پراعتماد نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ موجودہ بحران کو ٹالا جاسکے۔

ادھر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ، پاک سرزمین پارٹی کے لیڈر طاہرالقادری اور ق لیگ سے مل کر حکومت کے خلاف ”گرینڈ“ اتحاد بنانے اور احتجاج کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں وہ سڑکوں پر نکلنے اور فیض آباد دھرنے والوں کی طرح شہباز شریف کے استعفیٰ کے ساتھ حکومت کو گرانے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کے خلاف جوڑ توڑ اوردھرنے ملکی سطع سے لے کر بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے نزدیک بھی کھلنا شروع ہو گیا ہے ایک عمومی رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ جمہوری حکومت ”جمہور“ کو وہ کچھ ڈلیور نہیں کر پارہی جس کی جمہور کو ضرورت ہے اور اپنے وعدوں کی تکمیل سے بھی کوسوں دور ہے، گو کہ موجودہ حکومت نے قومی بحرانوں دہشت گردی کے خلاف جنگ، پٹرولیم کا بحران، بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عہدہ براہ ہونے کی صلاحیت کا اظہار کرتے ہوئے ان بحرانوں پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے لیکن ’ہل من مزید ‘ کی خواہش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

کسی بھی جمہوری حکومت کے دور میں سیاسی افراتفری چھا جانے کو اچھا عمل نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ کچھ سیاسی حلقوں اور شخصیات کی جانب سے ایک ”متحدہ اتحاد“ بنانے کی کوششوں کے چرچے زد عام ہیں اورمتحدہ اتحاد کا قیام عمل میں لانے کی کوششوں کاآغاز کیا جا چکا ہے سابق صدر پرویز مشرف اس کے روح رواں ہیں جبکہ پیر پگاڑا کے ذمے جوڑ توڑ اور ناراض مسلم لیگیوں کے سرکردہ افراد سے رابطہ کرنا بتایا جارہا ہے، شنید ہے کہ ن لیگ سے ناراض ارکان جن میں جنوبی پنجاب سے کھوسہ گروپ، سندھ سے غوث شاہ گروپ اور سنٹرل پنجاب کی کچھ اہم شخصیات کے علاوہ پنجاب ہی سے پرویز الہی کی ق لیگ بھی اس کوشش میں پرویز مشرف کے ساتھ رابطوں میں ہے، جیسے ہی متحدہ مسلم لیگ کی تشکیل کی کوئی شکل واضع ہوئی کے پی کے اور بلوچستان سے بھی مسلم لیگ ن کے ناراض ارکین سامنے آکر اس میں شامل ہوجائیں گے یوں اسے ملکی سطع کی جماعت بتانے کو جواز پیدا کیا جائے گا جو بظاہراً بہت مشکل اس لئے نظر آرہا ہے کہ اس اتحاد کے رو رواں پرویز مشرف کسی بھی صورت نہ عوام کو اور نہ دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کو قابل قبول ہیں اس لئے یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی۔

روایتی سیاست دانوں کی عوام سے لاتعلقی اور بے زاری نے عوام کے دلوں سے ان کی قدر و منزلت کم کر دی ہے اور وہ تبدیلی نئے ناموں کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، عمران خان اور قادری کے نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعروں، لانگ مارچ میں عوام کی بھر پور شمولیت کے بعد ان دونوں راہنماؤں کے یو ٹرن لینے اور ایک ہی کیسٹ کا چلانے جیسے عمل کے بعد عوام کی مایوسی کو امید میں بدلنے کے لئے متحدہ اتحاد کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس میں فرقہ ورانہ رنگ اور گدی نشینی کا تڑکا بھی لگایا جارہا ہے، جس کا مقصد افراتفری پیدا کر کےمیدان سیاست میں اپنا اپنا ”حصہ“ وصول کرنا بتایا جاہا ہے۔

سیاسی افرا تفری کی کوکھ سے جنم لینے والے امکانات سے ملکی سیاسی افق پر آئندہ ماہ سے ہوتی ہوئی تبدیلیاں خوش گوار حیرت میں بھی بدل سکتی ہیں کیونکہ کچھ بین الاقومی قوتیں جن کے پاکستان کے ساتھ مفادات جڑئے ہوئے ہیں وہ بھی اس ”نئی طرح“ کی سیاسی و مذہبی افرا تفری سے پریشاں ہیںکیونکہ پر امن اور مستحکم پاکستان ہی بین الاقوامی طاقتوں کی کثیر سرمایہ کاری کے لئے پرکشش ہو گا جس کے لئے کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ جبکہ ملک کے طاقتور اداروں میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت کو کمزور کرنے کے خواہشمند عناصر بھی شاید کسی نئے بحران کی حمایت پر آمادہ نہ ہوں۔ کیوں کہ سڑکوں پر احتجاج، نعرے بازی اور شدت پسندی کے فروغ کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن بھی کمزور ہوتی ہے۔ یہ سوال زیادہ شدت سے سامنے آنے لگتا ہے کہ کیا حکومت کے ساتھ ریاست بھی احتجاجی گروہووں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔

ملکی حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمارئے سیاستدانوں کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ سٹیٹ بینک روپے کی قدر میں کمی کے لئے آئی ایم ایف کے شدید دباؤ میں ہے۔ حکومت کو مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے مسلسل غیر ملکی امداد اور فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے سوال پر امریکہ کے ساتھ تنازعہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات میں پاکستان کے لئے متوازن سفارتی پوزیشن اختیار کرنا دشوار ہوتا چلا جائے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی معیشت کے احیا کے لئے سنہرے خواب کی حیثیت رکھنے والا سی پیک منصوبہ انتشار، سیاسی بدنظمی، ادارہ جاتی تصادم اور بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے تعطل اور مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ سارے معاملات اس بات سے قطع نظر کہ کون سی پارٹی حکومت بنا سکتی ہے، ملک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم دھرنے، احتجاج اور دھمکیوں کی باتیں کرنے والے مسلسل ان اندیشوں کو سمجھنے سے انکار کررہے ہیں۔ یہ رویہ جہاں ملک کے مستقبل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوسکتا وہیں جمہوریت کی دعوئے دار سیاسی جماعتوں کے لئے بھی کوئی امید فزا نہیں ہو گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).