سندھ کے کسان: شوگر مل مافیا سے بلاول ہاؤس تک۔


سندھ میں چھوٹے بڑے کاشتکار گنے کی کم قیمت مقرر ہونے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ کچھ کسانوں نے احتجاجاً اپنے گنے کی کھڑی فصل کو آگ لگا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کیوں کہ گنے کی کم قیمت مقرر ہونے سے ان کے پیداواری اخراجات پورے نہیں ہو رہے ہیں اور ان کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ جس سے کاشتکار سخت مایوس اور بد دلی کا شکار ہیں۔ سندھ کے کاشتکاروں نے گنے کی قیمت کے حوالے سے سندھ حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ ہونے، نقلی ادویات کی خرید و فروخت اور پانی کی ناجائز وراثت پر بلاول ہاؤس کراچی کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے کی جرات کی۔ اس کے بعد مظلوم اور مجبور کسان مرد و خواتین پر پولیس نے تشدد کرکے ان کو سڑکوں پر گھسیٹ کر پولیس گردی کی نئی مثال قائم کردی۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت شوگر ملز مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سندھ کی اکثر شوگر ملز سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے جاگیرداروں کی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا شمار ان سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے جنہون نے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کسانوں اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ابھی بھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہے جب مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے کسان احتجاج پر لاٹھی چارج کر کے کسانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن اور قومی اسیمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کسان ریلی پر پولیس کے تشدد کو حکومتی کارروائی فل ڈریس ریہرسل قرار دے دیا تھا اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری نے کسان ریلی پر تشدد کو آمرانہ اقدام قرار دیا تھا۔ مگر جب سندھ کے کسانوں نے اپنے جائز مطالبات کے لیے بلاول ہاؤس کراچی کے سامنے احتجاج کرنے کی جرات کی تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کسانوں اور مزدورں کے حقوق بھول جاتی ہے اور کسان کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی شوگر ملز مافیا کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے اور عوام کے حقوق کی پامالی کرری ہے۔ مگر پیپلز پارٹی کے سارے رہنما جو انسانی اور مزدوروں کے حقوق کے علمبردار بنتے ہیں وہ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں کیوں کہ ان کو پتہ ہے کی شگر ملز تو وڈے رئیس سائیں کی ہیں اور بلاول ہائوس کے سامنے تو سارے حقوق بےمعنی ہو جاتے ہیں۔

کیا زمینوں کی آبادکاری کیلئے ضروری وسائل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا کسانوں کا ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ مانگنا ایک غیر جہموری اور نا جائز مطالبہ ہے؟ ملک میں کئی سیاسی اور سماجی جماعتیں مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہیں مگر ہر سال محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں مزدوروں اور کسانوں کے حقوق و ترقی کے لیے بلند و بانگ دعوئے کرتی نظر آتی ہیں اور کبھی کبھی سیاست چمکانے اور مخالف سیاسی پارٹی کو نیچا دکھانے کے لیے کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کے چئمپین بن جاتیں ہیں۔ ہم دعوے تو کرتے ہیں کہ جب تک کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کو تعلیم اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی سہولت نہیں دیں گے تب تک ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے مگر جب خون پسینہ ایک کرنے والے کسان اپنے استحصالی اور ظالمانہ اقدام کے خلاف آواز اٹھانی کی جرات کرتے ہیں تب ہم ان پر واٹر کینن، آنسو گئس کے استعمال اور پولیس تشدد سے ایسی تاریخ رقم کر دیتے ہیں کہ ان کسانوں کی آنے والی سات نسلیں بھی نہیں بھول پائیں گی کہ بلاول ہائوس کے سامنے احتجاج کرنا منع ہے۔

ملکی اقتدار پر براجمان رہنے والوں نے اندرون اور بیرون ملک بئنک بیلنس، بڑے بڑے محلات اور بڑی بڑی کمپنیاں بنا لی ہیں مگر غریب آج بھی چھت سے محروم ہے۔ حکمران قومی دولت پر عیش و عشرت کررہے ہیں مگر ملک کی خاطر دن رات محنت کرنے والے کسانوں اور مزدوروں کو دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان خون پسینہ ایک کرنے والے کسانوں اور مزدوروں کو ان کی زندگی میں خوشحالی لانے کے لیے زمینوں اور کارخانوں میں مالکانہ حقوق دیے کر ان کو حصے دار بنائیں۔ اصلاحات نافذ کریں تاکہ کاشتکاروں کو پیداواری سہولیات کے ساتھ ان کے جائز معاوضہ اور مزدوروں کو روزگار کا تحفظ دے سکیں۔

خون بیچ کر روٹی خرید لایا ہوں

فقیہ شہر بتا یہ حلال ہے کہ نہیں

Facebook Comments HS