سپر ہائی وے


سپرہائی وے کا سفر ہمیشہ سے میرے لیے مسحور کن رہا ہے۔ یہاں سے گھر تک جانے والے تقریباً تمام ہی راستے میرے قدموں کی چاپ سے واقف ہیں۔ سپر ہائی وے کی چوڑی اور طویل سڑک، پھر اس کے اطراف خوب صورت درختوں کا سلسلہ میرے سفر کو ہمیشہ خوش گوار بنادیتا ہے۔ یہ راستہ میرے خوابوں کی وسیع دنیا میں ایک سنگِ میل جیسا ہے۔ یہاں ڈرائیونگ بلاشبہہ مہارت کا کام ہے۔ ذرا سی بھول زمین کے اوپر سے کہیں نیچے پہنچاسکتی ہے۔ لیکن میں چوں کہ اس کام میں ماہر نہیں، اس لیے ہائی وے کا سفر ہمیشہ آنکھیں موند کر ایک نشے کی کیفیت میں طے کرتی ہوں۔

میرا اس سڑک سے تعلق ایک دہائی سے زیادہ پرانا ہے۔ نہیں جانتی کہ اس سے میرے عشق کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ مگر یہ جانتی ہوں کہ یہ عشق اب سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ آخرعشق کیوں نہ ہو؟ کتنے اسرار ہیں جو اس سڑک نے مجھ پر کھولے ہیں! اورمیرے کتنے ہی راز ہیں جو اس پر پھیلے ڈامر میں دفن ہیں۔ دورانِ سفر میرے بچوں کی شوخیاں بار بار میری سوچوں کو منتشر کرتی ہیں اور میں ہر بار مسکرا کر پھر اس سڑک سے محو گفتگو ہوجاتی ہوں۔ مگر رات کے گھور اندھیرے میں یہ خواب ناک سفر، ہیبت ناک ہو جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اس سڑک پر دن اور رات کے مابین اتنا ہی فرق ہے، جو طوائفوں کے کوٹھوں پر طلوع ہونے والے دن اور چھا جانے والی رات میں ہوتا ہے۔

تاریک راتوں میں چاروں اور پھیلا مہیب سناٹا اور دور دور تک ٹمٹماتی ہوئی پیلی بتیاں مجھے اکثر شعور کی دنیا سے اٹھا کر لاشعور میں پٹخ دیتی ہیں۔ پھر ایک نیا سفر میرا مقدر بن جاتا ہے۔ میں پیدل ہی اس سڑک کے اسرار جاننے کے لیے نکل پڑتی ہوں۔ سڑک کے کنارے لگی جھاڑیاں میرا دامن پکڑ کے نرمی سے مجھے روکتی ہیں، مگر میں شفقت سے انہیں سمجھا کے سرعت سے آگے بڑھ جاتی ہوں۔ آگے کے سفر میں کئی دل خراش مناظر میرے منتظر ہوتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر مجھے وہ جھاڑیاں یاد آجاتی ہیں جنہوں نے بارہا دامن پکڑ کے آگے نہ جانے کی التجا کی تھی۔

سپر ہائی وے کے معمار موڑ پر، ایک جھگی اکثر میری توجہ کا مرکز رہی ہے۔ روشنی کا اس میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ میں نے دن کے اجالے میں اکثر اس جھگی کے مکینوں کو کام میں مگن دیکھا ہے۔ چند مرد ہیں جو منہ اندھیرے جھگی کے سامنے گلی سڑی سبزیوں کا ٹھیلا لگا لیتے ہیں، روتے بلبلاتے، ادھ ننگے دو بچے بھی اس جھگی میں سانسیں بھرتے ہوئے فضا کی کاربن میں اضافہ کرتے ہیں۔ بچوں کی اور جھگی کی عمر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ذرا مشکل نہیں کہ یہ جھگی کئی بار میٹرنٹی ہوم بھی بن چکی ہے۔ جھگی کے سامنے اکڑوں بیٹھے، روزگار کے نام پر مکھیاں مارنے والے ان مردوں سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں، نہ ہی یہ روتے بلکتے ناک بہتے بچے میری توجہ کھینچتے ہیں، میرے قدموں کو روکنے اور توجہ مبذول کروانے والی تو وہ بنجارن ہے، جس کا میلا وجود سپر ہائی وے کو راس آچکا ہے۔ وہ بلا کی پُرکشش ہے۔ اس کے سیاہ، گھنے اور لمبے بالوں میں میری سوچ کے تانے بانے ہمیشہ الجھ جاتے ہیں۔ میں نے کبھی اس کے خوب صورت بالوں کو بندھے ہوئے نہیں دیکھا۔ دوپٹہ نام کی کوئی چیز اس کے گلے میں نہیں ہوتی، بال ایک طرف سے آگے آکر اس کے سینے کی ڈھال بن جاتے ہیں۔

اُس کے ہاتھ میں اکثر بچے کا فیڈر ہوتا ہے، جس کو دھونے کے لیے وہ سامنے بنے پیٹرول پمپ کا بار بار رخ کرتی ہے، یہ بات اس جھگی کے تینوں مرد بھی جانتے ہیں کہ فیڈر ہر بار گندہ نہیں ہوتا کہ اس کو دھونے کی نوبت آئے، مگر وہ خاموشی سے اپنی سوچ کو دھوتے ہوئے اس کے پیٹرول پمپ کی طرف اٹھتے قدموں کو دیکھتے ہیں، جہاں موجود ملازم اس کی ہر بار آمد کا دل کھول کر استقبال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی تو خاص بات ہے کہ میں عورت ہو کر بھی اس کو ٹکٹکی باند ہ کے دیکھتی رہ جاتی ہوں۔ من ہی من میں اس کی اداؤں پر نثار بھی ہوتی ہوں، محویت سے اس کے ہر عمل کو دیکھتی ہوں۔ مسکی ہوئی چولی اور ٹخنوں سے اونچا اس کا گھاگھرا بہت سے مردوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔ چاروں طرف سے اٹھنے والی نگاہوں کی گرمی کے احساس نے اس کے اندر بجلی سی بھر رکھی ہے، دن کے اجالے میں، سپر ہائی وے گویا اس کی ملکیت ہے جس پر وہ صاحبوں کی گاڑیوں کی طرح فراٹے بھرتی گھومتی ہے۔ جھگی کے تین مرد ریڑھی لگا کر بھی اتنا نہیں کماتے جتنا وہ چلتے پھرتے کما لیتی ہے۔ مگر سپر ہائی وے کی راتیں اس کے آنسوؤں سے بھیگتی ہیں۔

جھگی کے تینوں مرد شام ڈھلتے ہی اس پر اپنا اپنا حقِ ملکیت جتاتے ہیں۔ وہ سارا دن نصیب پر شاکر ہو کر بھی پوری رات تقدیر کو روتی ہے اور اپنے چاند کو گہن لگنے کی دعا کرتی ہے۔ گلشن معمار سے نکلتے ہی بائیں ہاتھ پر بنی وہ بوسیدہ سی جھگی سپر ہائی وے کے دن کی رونق اور رات کی وحشت ہے۔ شعور سے لاشعور کا سفر بارہا مجھے جھگی کے پاس لے جا چکا ہے جہاں میں نے کان لگا کر اس انجانی سی وحشت کو محسوس کیا ہے۔

آج پھر میرے قدم وہیں جا کر تھمے۔ ذرا ہی دیر میں جھگی کے اندر سے بچے کے رونے کی آواز بلند ہوئی، جس پر ایک مرد کی خوف ناک دھاڑ سپر ہائی وے کی فضاؤں میں گونجی، اور وہ بچہ سہم کر چپ ہو گیا، لیکن دبی دبی نسوانی سسکیاں بند نہ ہوئیں۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ جھگی کے اندر اس پر کیا ستم بیت رہا ہے، مجھے جھگی کے اندر جانا ہے، یہ سوچ کر میں نے قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ ایک ٹرالر تیز ہارن بجاتا ہوا میرے بالکل نزدیک سے گزرگیا، اور میں جھرجھری لے کر لاشعور سے شعور کی دنیا میں آن گری۔

Facebook Comments HS