اپنی دنیا بدلنی ہے تو چینل بدل دیں

دنیا، امت اور پاکستان کو اس مشکل سے نکالنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ اپنے سامنے پڑا ریموٹ اٹھائیں اور چینل بدل دیں۔ انشاللہ صورت حال میں نمایاں بہتری محسوس ہو گی۔ اس کے بعد اپنے ارد گرد نظر دوڑانے کی کوشش کر لیں اور اپنی زندگی کا اپنے بزرگوں کی زندگی سے تقابل کر لیں۔ آپ کو محسوس ہو گا کہ حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنے ٹی وی دیکھ دیکھ کر لگتا ہے۔
تجربے کے طور پر ایک ہفتے کے لئے نیوز چینلز اور ٹاک شو سے دور رہیں اور یا تو ٹی وی سے مکمل اجتناب کریں یا پھر اینٹرٹینمنٹ چینل دیکھیں۔ لیکن یہاں بھی آپ کو نہایت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اینٹرٹینمنٹ پر وہ چینل نہ دیکھیں جو نہایت خوبصورت لیکن دکھیاری دوشیزاؤں پر ہوتے سسرالی یا مردانہ ظلم دکھانے پر فوکس کرتے ہیں۔ اس کی بجائے آپ فلمیں دیکھ لیں یا موسیقی کا چینل لگا دیں۔
تفریح کو بہت ہی دل کر رہا ہے تو کارٹون چینل بھی مفید ہوں گے۔ وحشت دیکھنے کا موڈ ہے تو وائلڈ لائف والے چینل لگا لیں۔ ٹریول کا چینل موجود ہے تو وہ لگا کر دیکھیں کہ دنیا میں کیا کیا اچھی چیزیں موجود ہیں۔
لیکن آپ کو اگر خبروں کے بغیر چین نہیں پڑ رہا اور نشہ ٹوٹ رہا ہے تو خبروں کے بین الاقوامی چینل دیکھ لیں۔ سی این این یا بی بی سی وغیرہ پر یہود و نصاری کا غلبہ آپ کو پسند نہیں ہے تو الجزیرہ موجود ہے۔ ان چینلز پر خبریں دکھائی جاتی ہیں، ہیجان پیدا نہیں کیا جاتا۔ آپ کو کسی قسم کی المیہ موسیقی کے بغیر بتا دیا جائے گا کہ فلاں جگہ دہشت گردی میں اتنے لوگ مر گئے ہیں، مگر نہ تو لاشوں کے ٹکڑے دکھائے جائیں گے، نہ ہی دس مرتبہ بتایا جائے گا کہ ”ناظرین دھماکہ ہو گیا ہے، آپ سن رہے ہیں، دھماکہ ہو گیا ہے، ہمارے ساتھ شبیر موجود ہیں جو سب دیکھ رہے ہیں، شبیر کیا آپ بتائیں گے کہ کیا ہو گیا ہے؟ جی میں بتا رہا ہوں دھماکہ ہو گیا ہے، دھماکہ بہت زور سے ہوا ہے۔ ناظرین آپ نے سنا کہ شبیر نے بتایا ہے کہ دھماکہ ہو گیا ہے۔ ہم آپ کو ایک مرتبہ پھر بتائیں گے کہ دھماکہ ہو گیا ہے“۔ نہ ہی کسی مرنے والے کی ماں سے پوچھا جاتا ہے کہ ”آپ کا بیٹا مر گیا ہے، آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں؟ “ یہ پروفیشنل نیوز چینل خبر دیتے ہیں، المیہ ڈرامہ نہیں چلاتے۔ عام طور پر کوئی خبر اتنی اہم نہیں ہوتی کہ اسے لائیو دیکھنا ضروری ہو اس لئے خبروں کے لئے اخبارات پر انحصار کریں اور سکون پائیں۔
ایسے چینل جو دوسروں سے نفرت کا سبق دیتے ہیں، ان کا فوکس ہی اس بات پر ہوتا کہ فلانا کتنا برا ہے یا پاکستان میں کتنے برے حالات ہیں اور ان کو کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتا، نہ صرف آپ کے ذہن کو زہر آلود کرتے ہیں بلکہ یہ آپ کو شدید ڈپریشن اور پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ آپ اس ڈپریشن اور پریشانی کو اپنے ارد گرد کے لوگوں پر نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایسے لوگ جو بھلائی کی بات کرتے ہیں اور ہنستے ہنساتے ہیں، ان لوگوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں جو ساری دنیا کے غم آپ پر اس لئے لادتے ہیں کہ ان کے چار پیسے بن جائیں یا وہ کوئی دوسرا مفاد حاصل کر لیں۔ یہ جان لیں کہ دوسروں سے نفرت پیدا کرنے والے نفرت کے بیوپاری ہوتے ہیں اور انہوں نے صرف اپنا سودا بیچنا ہوتا ہے خواہ اس کا نتیجہ تباہی ہو۔

