ابا، نائن ون ون کو کال کریں
آپ کا نام کافی مختلف سا ہے، کیا آپ کے آباؤاجداد روسی تھے؟ میں نے اپنے ایک مریض سے پوچھا۔ معلوم نہیں یہ نام ہمارے خاندان میں کہاں سے آیا، میری بہن نے مجھے اس سال میری سالگرہ پر ڈی این اے ٹیسٹ کٹ تحفے میں دی اور اس سے مجھے پتا چلا کہ ہم لوگ یورپین ہیں۔ جی میں نے بھی اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کیا اور میں 87% ساؤتھ ایشین ہوں۔ میرے اندر کچھ بھی عرب یا فارسی خون نہیں جیسا کہ میرے نام ہیں۔ آپ پاکستانی ہیں یا انڈین؟ ہمارا خاندان دونوں طرف کا ہے۔ سارے خطے کے لوگوں میں 98 فیصد ایک ہی جینیاتی ڈھانچہ ہے اور نفسیاتی، سماجی، معاشرتی اور تاریخی لحاظ سے بھی ایک جیسے ہیں۔
میرے بیٹے کی گرل فرینڈ پاکستانی لڑکی ہے۔ اچھا تو وہ کیسا چل رہا ہے؟ وہ ٹھیک نہیں چل رہا۔ یہ دونوں کالج میں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ اس لڑکی کی بہن نے ماں باپ سے شکایت کی، ان کے گھر میں بہت لڑائی ہوئی، وہ میرے گھر منتقل ہوگئی۔ پھر کیا ہوا؟ اس کے گھر والوں نے میرے گھر پر دھاوا بول دیا اور زور زور سے دروازے اور کھڑکیاں بجانے لگے۔ وہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ وہ لڑکی امریکی ہے اور اپنی زندگی کے لیے فیصلے کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے اور وہ اس طرح ہمارے گھر میں نہیں گھس سکتے۔ ہمیں پولیس بلانا پڑی۔ وہ لوگ فیس بک، ای میل اور خطوں سے مسلسل اس کو ہراساں کررہے ہیں۔ اس لڑکی کے والد بار بار فون کرتے ہیں کہ پاکستان آ جاؤ۔ اب وہ ہماری بیٹی ہے اور میں اس کا محافظ ہوں۔ یہ بچے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
اس لڑکی کو پاکستان مت جانے دیں۔ وہ شاید وہاں سے زندہ واپس نہیں آئے ۔ جرمنی میں 19 سالہ لڑکی کو بوائے فرینڈ بنا لینے پر اس کا باپ گلہ دبا کر مار رہا تھا اور ماں کھڑی دیکھ رہی تھی۔ انڈیا میں ایک بیٹی تو پسند کی شادی کے کتنے سال کذرنے کے بعد اپنے دو بچوں کے ساتھ واپس معافی تلافی کے بعد آئی تو اس کے ساتھ اس کے بچے تک کاٹ دیے تھے ان لوگوں نے۔ ان ماں باپ کا خون سفید ہے، وہ ظالم ہیں۔ اور اس لڑکی کو بھی یاد کرو جس کے ہاتھ اس کے پاکستانی باپ نے پکڑے ہوئے تھے اور سابقہ شوہر سے اس کا ریپ کرایا اور پھر اس کا گلہ دبا کر مار دیا۔ ایسا تو کوئی جانور بھی اپنی اولاد کے ساتھ نہیں کرتا۔ ویسے تو میں موت کی سزا کے خلاف ہوں لیکن ان دونوں آدمیوں کو ضرور پھانسی لگنی چاہئیے۔
ایسا کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی پاکستانی خاتون نے کسی غیر ملکی کو پسند کرلیا یا اس سے شادی کرلی۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اور جن ایسے جوڑوں کو بھی دیکھیں تو وہ خوش ہی دکھائی دیتے ہیں۔ نہ سسرال کا جھنجھٹ، نہ دیسی سیاست۔ جو دل چاہا کھایا، پیا، پہنا۔ زندگی اچھی گذرتی ہے۔ ان کے بچے بھی خوبصورت اور کامیاب ہیں۔ سارے ماں باپ بھی ایسے نہیں ہیں۔ بہت سارے خوشی سے ہاں کرتے ہیں، اور اپنے بچوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ حال ہی میں اوکلاہوما میں ایک پاکستانی لڑکی کی امریکی لڑکے سے دھوم دھام سے شادی ہوئی، بہت لوگ شریک ہوئے۔ ان کی وڈیو دیکھی۔ یہ لڑکا شلوار قمیض پہنا ہوا تھا اور انگریزی میوزک بج رہا تھا اس نے آکر اپنی دلہن کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اس کو گھما دیا۔ ایکدم دیسی میوزک بجنے لگا کہ تجھ میں رب دکھتا ہے یارا میں کیا کروں۔ وہ سکتے میں آگئی۔ وہ ساتھ میں گارہا تھا تجھ میں رب دکھتا ہے، یہ اپنا منہ ڈھانپ کر رونے لگی اور اپنے ہاتھ اس کے گلے کے گرد ڈال دیے۔ وہ دونوں کتنے خوش اور خوبصورت لگ رہے تھے۔
یہ خون خرابا کب تک چلتا رہے گا؟ یعنی کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی اپنے نارمل بچوں کا گلا نہ دبائے، ان کو الیکٹراکیوٹ نہ کرے، ان کے گلوں پر چھرا نہ پھیرے، ان کو گولیاں نہ مارے اور ان کو چھت پر سے نہ پھینکے۔ خاص کر لڑکی! مری ہوئی لڑکی اپنی مرضی سے جینے والی لڑکی سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کرنا، اپنی حدود کو سمجھنا اور دیگر انسانوں کے حقوق کو سمجھنا ہر انسان کی زاتی ذمہ داری ہے۔ جو لوگ وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے، ان کے لیے دنیا خود تبدیلی کردیتی ہے۔ یہ ماں باپ جو بھی ڈرامہ کریں کہ ہم بیمار ہیں، ہم مر رہے ہیں تو ہرگز واپس مت جاؤ۔ کہہ دو کہ ابا، نائن ون ون کو کال کریں۔


