سیلفیاں اور کھانے

چلو یہ تو ہوا سو ہوا اور ان کا کیا کریں جو اپنے ہر لذیذ کھانے کی تصویر بھی ہمیں دکھانا اپنا فریضہ گردانتے ہیں۔ سچ پو چھیں تو ہم پرہیزی کھانا کھانے والے لوگ ان دعوت دیتی تصویروں کو کنکھیو ں سے دیکھتے ہیں اور کف افسوس ملتے ہیں کی کیوں دیکھا۔ سوچیں ہم ہری بھری سلاد سے اپنی بھوک بہلا کر بیٹھے ہیں اور سامنے آ گئی مزے دار آئس کریم کی تصویر ساتھ پزا۔ ایسے ظالم لوگوں کو تو پورا ہفتہ ٹینڈے کھلانے چاہئیں جو معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
سوشل میڈیا پر جو بھی تبادلہ خیالات ہوتا ہے اس میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بات ہوتی ہے وہ کھانا ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کے جن خواتین کے پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں وہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ سرگرم ہوتی ہیں۔ شا ید اسی لئے بچے بھی ہوش سنبھالتے ہی فون کی فرمائش کرنے لگے ہیں۔
اکیانوے فیصد موبائل انٹرنیٹ سوشل میڈیا پر صرف کیا جاتا ہے۔ وقت نے ایسی قلابازی کھائی ہے کہ نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کی ہم دوستوں رشتہ داروں سے قریب آ گئے ہیں پر اپنے گھر کے لوگوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ہم بچے تھے تو ہمارا سوشل نیٹ ورک وہ بچے ہوتے تھے جن کی ساتھ مل کر ہم شام کو کھیلا کرتے تھے۔ کھیل کے میدان اور گلیاں آباد تھیں۔ اب تو بچوں کو زبردستی کھلانا پڑتا ہے وہ بھی اس غیر حقیقی زندگی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
کوشش کریں دن میں کچھ گھنٹے فطرت کے قریب رہ کر گزاریں۔ اپنے آپ کو نیا اور تازہ پا ئیں گے۔

