سیلفیاں اور کھانے
یونانی دیو مالائی داستا نوں میں ایک Narcissus نام کے شکاری کا ذکر ملتا ہے جو بہت خوبصورت تھا۔ اس نے پانی کے تا لاب میں اپنا عکس دیکھا اور یہ جانے بغیر کہ یہ اس کا اپنا عکس ہے اپنے ہی عکس کی محبّت میں گرفتار ہو گیا۔ یہ خود کا عکس دیکھتے دیکھتے ہی دنیا سے گزر گیا۔ بھلا ہو اس وقت ابھی سمارٹ فون نہیں آئے تھے ورنہ اپنی سیلفیاں لے لے کر ہمیں بھی زچ کر دیتا۔ ابھی تازہ ترین تحقیق کے مطابق اپنی ہی محبت میں گرفتار ہونے والے اس وقوعے نے بڑی ترقی کر لی ہے اب لوگ نارکسس کی طرح خود جان سے نہیں گزرتے بلکہ دن رات اپنی سیلفیاں دکھا دکھا کر دوسروں کی جان جلاتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق کچھ جوان کے بچے تو دن بھر سیلفیاں لیتے ہیں اور دن میں چھ بار سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کرتے ہیں۔ اب کیا کریں متاثرین لے دے کر دل کڑا کر کے نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ لائیک بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ ناراضگی کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔
چلو یہ تو ہوا سو ہوا اور ان کا کیا کریں جو اپنے ہر لذیذ کھانے کی تصویر بھی ہمیں دکھانا اپنا فریضہ گردانتے ہیں۔ سچ پو چھیں تو ہم پرہیزی کھانا کھانے والے لوگ ان دعوت دیتی تصویروں کو کنکھیو ں سے دیکھتے ہیں اور کف افسوس ملتے ہیں کی کیوں دیکھا۔ سوچیں ہم ہری بھری سلاد سے اپنی بھوک بہلا کر بیٹھے ہیں اور سامنے آ گئی مزے دار آئس کریم کی تصویر ساتھ پزا۔ ایسے ظالم لوگوں کو تو پورا ہفتہ ٹینڈے کھلانے چاہئیں جو معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
سوشل میڈیا پر جو بھی تبادلہ خیالات ہوتا ہے اس میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بات ہوتی ہے وہ کھانا ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کے جن خواتین کے پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں وہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ سرگرم ہوتی ہیں۔ شا ید اسی لئے بچے بھی ہوش سنبھالتے ہی فون کی فرمائش کرنے لگے ہیں۔
اکیانوے فیصد موبائل انٹرنیٹ سوشل میڈیا پر صرف کیا جاتا ہے۔ وقت نے ایسی قلابازی کھائی ہے کہ نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کی ہم دوستوں رشتہ داروں سے قریب آ گئے ہیں پر اپنے گھر کے لوگوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ہم بچے تھے تو ہمارا سوشل نیٹ ورک وہ بچے ہوتے تھے جن کی ساتھ مل کر ہم شام کو کھیلا کرتے تھے۔ کھیل کے میدان اور گلیاں آباد تھیں۔ اب تو بچوں کو زبردستی کھلانا پڑتا ہے وہ بھی اس غیر حقیقی زندگی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
کوشش کریں دن میں کچھ گھنٹے فطرت کے قریب رہ کر گزاریں۔ اپنے آپ کو نیا اور تازہ پا ئیں گے۔

