قبائلی علاقہ جات کو سیاست کی نذر نہ کریں


قبائلی علاقہ جات کے شہریوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دینے کو پورا ملک بے تاب ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود یہ گتھی سلج نہیں رہی۔ صوبہ بنائیں یا پھر خیبر پختون خوا میں ضم کردیں؟ برسوں سے یہی دوآپشن زیر غو ہیں۔ سیاسی جماعتیں دھڑوں میں بٹ چکی ہیں۔ حکمران نون لیگ کے اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی الگ صوبہ بنانے کے علمبردار ہیں۔ اس کے برعکس اکثر جماعتیں فاٹاکو خیبر پختون خوا میں شامل کرانا چاہتی ہیں۔ عام الیکشن سے پہلے کوئی فیصلہ کرنا ضروری ہے تاکہ قبائلی الیکشن میں ووٹ ڈٓل کر قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔

دنیا بھر میں جہاں بھی اس طرح کا تنازعہ درپیش ہوتاہے، اس کے حتمی حل کے لیے شہریوں سے رجوع کیا جاتاہے تاکہ وہ آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ کچھ عرصہ پہلے برطانوی شہریوں سے پوچھا گیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ وابستگی جاری رکھنا چاہتے ہیں یا الگ تھلگ رہنا پسند کرتے ہیں۔ شہریوں نے ریفرنڈم میں یورپی یونین چھوڑنے کا ناگوار فیصلہ کیا۔ وزیراعظم ٹریسامے کا خیال تھا کہ عوام کی بھاری اکثریت یورپی یونین کے ساتھ وابستگی کو ترجیح دے گی کیونکہ اس کے بے شمار کاروباری اور سیاسی فوائد تھے لیکن ایسا نہ ہوا۔ سیاستدانوں اور کاروباری طبقات کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا لیکن اس کے باوجود اسے قبول کر لیا گیا کیونکہ یہ عوام کا فیصلہ تھا۔

کیا ہم قبائلی علاقہ جات کے پچاس لاکھ شہریوں سے نہیں پوچھ سکتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ یہ جو سیاسی جماعتیں ان کی نمائندگی کی دعوے دار ہیں ان کے پاس نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔ قبائلیوں نے انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔ تحریک انصاف، نون لیگ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی یا جمعیت علماءاسلام ان علاقوں کی مقبول جماعتیں نہیں۔ عوامی مقبولیت جاننے کا پیمانہ عام الیکشن ہیں جو ان علاقوں ستر برس سے ہوئے ہی نہیں۔ ہر ایک گروہ اور شخصیت قبائلیوں کے نام پر سیاست کررہی ہے تاکہ اگلے الیکشن میں اسے چند نشستیں مل سکیں۔ میرا نہیں خیال کہ عام الیکشن ہوں تو کوئی ایک جماعت وہاں اکثریت حاصل کرپائے گی۔ مقامی خان اور موثر قبائل کی حمایت رکھنے والی شخصیات غالباً منتخب ہوکر سامنے آسکتی ہیں۔ کنفیوژن سے نکلنے اور قابل قبول حل تلاش کرنے کی خاطر بہتر ہوگا کہ حکومت قبائلی علاقہ جات میں ریفرنڈم کرائے جس میں شہریوں سے پوچھا جائے کہ وہ الگ صوبہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں ضم ہونے کے خواہش مند ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو مکمل آزادی دی جائے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کے حق میں رائے عامہ ہموار کریں۔

سیاستدانوں میں اتفاق رائے پیدا کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر وفاقی حکومت فاٹاکو صوبہ بناتی ہے تو تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں ناخوش ہوں گی۔ خیبر پختون خوا میں ضم کرتی ہے تو حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمودخان اچکزئی نون لیگ سے شاکی ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر عوام آزاد مرضی سے فیصلہ کریں توتمام فریقین کے لیے اسے خوش دلی سے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اس طرح قبائلیوں کو ووٹ ڈالنے، جلسے جلوس کرنے اور سیاسی مہم چلانے کی عام الیکشن سے قبل تربیت بھی ہوجائے گی۔ وہ الیکشن میں زیادہ بہترطریقے سے بروئے کار آسکیں گے۔

یہ طالب علم اگر قبائلی علاقہ جات کا شہری ہوتاتو مولانا فضل الرحمان کی طرح الگ صوبے کے حصول کو ترجیح دیتا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمام قبائلی ایجنسیوں میں آہنگی کا فقدان ہے۔ رسل وسائل کے مسائل درپیش ہیں۔ صوبے کے لیے درکار انفراسڑکچر موجود نہیں۔ یہ سب وہ ایشوز ہیں جو ہر صوبے یا نئے قائم ہونے والے ضلع کو درپیش ہوتے ہیں لیکن چند سال میں حل ہوجاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے وسائل سے ایک سو بیس ارب کے لگ بھگ بجٹ الگ صوبہ بننے کی صورت میں فاٹا کو مل سکتاہے۔ اس علاقے کے اپنے بھی وسائل بے پناہ ہیں۔ پاکستان کی فوج بھی اس علاقے کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی چند دن قبل قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کو عسکری اداروں کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایاہے۔ علاوہ ازیں دنیا کے کئی ممالک اور ادارے بھی قبائلی علاقہ جات میں روزگار کے منصوبے لگانے کے لیے وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

اس کے برعکس اگر قبائلی علاقہ جات خیبر پختون خوا میں ضم ہوگے تو پھر ان کی داستاں بھی نہ ہو گی داستانون میں۔ ہر ایجنسی کو منسلکہ ضلع کے ساتھ مربوط کردیا جائے گا جہاں پہلے سے ایک نظام حکومت پایاجاتا ہے اسے قبائلی علاقہ جات تک توسیع دے دی جائے گی۔ آج قبائلی وفاقی نوکرشاہی کے رحم وکرم پر ہیں تو کل یہ پشاور والوں سے وسائل کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ اگر فاٹا الگ صوبہ بن جاتاہے تو ملک کے لیے ایک مثبت نظیر قائم ہ گی اور دیگر صوبوں کا سائز چھوٹا کرنے کی مہم کو بھی مہمیز ملے گی۔ ممکن ہے کہ حوصلہ پاکر وفاقی حکومت دیگر صوبوں کو بھی چھوٹے صوبوں میں تقسیم کردے۔ مزید صوبے بنانے سے پنجاب کی بالادستی کا ہوا اکھڑجائے گا اور مسابقت کا ماحول بھی پیدا ہوگا۔ ہر صوبہ اپنے وسائل پیدا کرنے اور دوسروں سے زیادہ اچھی گورننس دینے کی خاطر محنت کرے گا۔ آٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے پہلے ہی کافی با اختیار ہوچکے ہیں۔ صوبائیت کے نام پر نفرتوں کے سودا گر بھی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ افغانستان کے34 صوبے ہیں۔ ازبکستان پاکستان سے سائزاور آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ہے لیکن اس کے بھی بارہ صوبے ہیں۔ ایران جو پاکستان سے رقبہ کے اعتبار سے لگ بھگ ڈیڑھ گنا بڑا ہے کہ31 صوبے ہیں حالانکہ اس کی آبادی محض آٹھ کروڑ سے ذرا اوپر ہے۔ ایسی درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جہاں شہریوں کو سہولتیں پہنچانے کی خاطر حکومتوں نے چھوٹے انتظامی یونٹ قائم کیے۔ پاکستان کو بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

افسوس! صوبوں کا سائز چھوٹا کرنا تو درکنار ہمارے ہاں تو بلدیاتی اداروں کو بھی با اختیار نہیں بنایاجاتا۔ سپریم کورٹ نے زور زبردستی بلدیاتی الیکشن کرادیئے لیکن صوبائی حکومتوں نے انہیں وسائل فراہم کیے نہ اختیارات منتقل کیے۔ شہری توقع کرتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندے ان کے مسائل حل کریں لیکن وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے وسائل کی عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood