ٹھاکر صاحب کی یاد میں


ٹھاکر صاحب مرحوم رنتھمبور کے مہاراجہ اودھے سنگھ چوہان کی نسل سے تھے۔ رنتھمبور ہمیشہ سے بدقسمت رہا ہے۔ روایت ہے کہ اس قلعے کی وجہ شہرت یہ ہے کہ جس نے بھی اس پر حملہ کیا اسے زیر کر گیا۔ ٹھاکر صاحب بھی اپنی ذات میں ایک قلعہ تھے۔ ان کے پرکھے لکھنو کے تعلقہ دار تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مانگا منڈی میں گھر بسایا۔

مرحوم اپنی مردانگی برقرار رکھنے کے لئے ہر برس شادی کرتے تھے۔ لیکن کبھی چار کی شرعی حد سے تجاوز نہ کیا۔ ہر سال کوئی نہ کوئی منکوحہ خلع لے لیتی تھی یا لوگوں کے کہے سنے میں آ کر اسے طلاق دینا پڑتی تھی۔ بڑی ٹھاکرانی نے کئی مرتبہ اصرار کیا کہ کسی اچھے حکیم کو دکھا لیں تاکہ یہ مسائل ختم ہوں مگر ٹھاکر وضعدار انسان تھے۔ ہمیشہ یہی کہا کہ ہمیں اپنی عزت کا پاس ہے، کوئی جاتی ہے تو جائے مگر ٹھاکروں کے حکیم کے پاس جانے سے عزت جاتی ہے۔

دیگر بیماریوں کے باب میں بھی ان کا یہی وطیرہ تھا۔ دائمی قبض کے مریض تھے مگر کبھی کسی حکیم ڈاکٹر سے علاج نہیں کروایا۔ کہتے تھے کہ خاندانی لوگوں کو ایسی بیماریاں نہیں ہوتیں۔ لوگ چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھتے تو یہی سمجھتے کہ ٹھاکر صاحب کو قوم کا غم ستا رہا ہے۔

ورثے میں خاندانی دولت بہت پائی تھی۔ زمانے کے وضعدار رئیسوں کی طرح ساری طوائفوں پر لٹا دی۔ کہتے تھے کہ بالا خانوں پر جانا خاندانی رئیسوں کا کام ہے اور وہی یہ کرتے اچھے لگتے ہیں۔ عام لوگ بھی ایسا کرنے لگے ہیں۔ ان کو فحاشی اور فن کے بیچ نزاکت کا کیا پتہ؟ پھر انہوں نے حاضرین کی راہنمائی کے لئے آسان سا نقطہ بتایا کہ جو کام ٹھاکر صاحب کرتے ہیں وہ فن ہوتا ہے اور جسے دنیا فن کا نام دیتی ہے وہ فحاشی کہلاتی ہے۔

بالا خانوں اور نان و نفقے پر ساری خاندانی دولت لٹا دی مگر کسی کو عسرت کا پتہ نہیں چلنے دیا۔ ساہوکار سے قرض لے لے کر بھرم قائم رکھا۔ کہتے تھے کہ عزت میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ خاندانی رئیسوں کے پاس عزت ہی تو سب کچھ ہوتی ہے۔ اخیر عمر میں تو ساہوکار بھی ان کو دس باتیں سنا کر پیسہ ٹکا دیتا تھا۔ ان تاجر پیشہ لوگوں کو کیا پتہ کہ خاندانی لوگوں کی عزت کیسے کرتے ہیں۔ زمانہ ہی خراب ہے۔

بات ہے بھی سچ۔ خاندانی رؤسا کہیں پیچھے رہ گئے اور عام لوگ پڑھ لکھ کر اور محنت کر کے حاکم بن بیٹھے۔ بنیے بقال تجارت سے پیسہ کما کر شان سے رہنے لگے اور شرفا کی آمدنی نہ رہی۔ کہاں کبوتر اور بٹیر بازی جیسے شرفا کے کھیل اور کہاں کرکٹ فٹ بال جیسا گلی محلے کے لفنگوں کا کھیل۔ مراثی بھانڈ ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں ارب پتی بنے بیٹھے ہیں اور خاندانی ٹھاکر قرض کی مے پیتے ہیں۔

ٹھاکر صاحب دوسرے نوابی شوق بھی رکھتے تھے۔ بٹیر لڑانے کے شوقین تھے۔ بلکہ آخری عمر میں تو ان کا مزاج بھی ایسا سا ہو گیا تھا کہ ہر وقت گویا پالی میں گھومتے تھے اور خود کو صف شکن سمجھتے تھے۔ ٹھاکر کا کبوتر خانہ بھی بہت بڑا تھا لیکن دیکھنے کی چیز تو ان کا سگ خانہ تھا۔ کتوں سے اس حد تک محبت کرتے تھے کہ لوگ باگ ان کو ٹھاکر سگ پرست کہنے لگے تھے۔ کہتے ہیں کہ آدمی جس مخلوق کے ساتھ رہنے لگے اس کا اثر ضرور لیتا ہے لیکن ٹھاکر کی رگوں میں رنتھمبور کے مہاراجوں کا خون تھا۔ کتے کی مشہور ترین خوبی کا ان میں شائبہ تک نہ ہوا۔ ہاں ناک اور چشم طوطے کی سی ضرور تھی مگر ہم نے ان کے پاس کبھی طوطا نہیں دیکھا۔

لباس کا ہمیشہ خاص خیال رکھتے تھے۔ جسم پر چوبیس گھنٹے نیلے رنگ کا ایوننگ سوٹ ہوتا تھا اور سر پر ٹوپی۔ کہتے تھے کہ خاندانی آدمی اپنے لباس سے ہی پہچانا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے خاص طور پر سر پر ٹوپی پہنتے تھے۔ کہتے تھے کہ ننگے سر عزت نہیں ہوتی اور سرد ہوا تکلیف بھی دیتی ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ ٹھاکر صاحب اب تو گنجے پن کا علاج آ گیا ہے مگر وہ کہتے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اب خاندانی لوگ بھی ڈاکٹروں کے پاس جانے لگے ہیں۔

عزت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ کبھی اپنے بارے میں کوئی بری بات نہیں کی۔ لیکن بلا کے حق گو تھے۔ ساری دنیا کے بارے میں ببانگ دہل سچ بولتے تھے۔ عزیز و اقارب اور محلے داروں کی ان کو خاص فکر تھی۔ محلے بھر کے لونڈوں کو گھر بلا بلا کر ان کے گھروں کے حالات جاننے کی جستجو کرتے تھے تاکہ کوئی عزت دار گھرانہ کسی مشکل میں ہو تو دوسروں کو اس کے بارے میں بتا سکیں۔ بڑی ٹھاکرانی نے کہہ سن کر یہ سلسلہ ختم کروایا۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ لونڈے چھوٹی ٹھاکرانیوں کے لئے بھی محلے بھر کے حالات پرچوں پر لکھ کر لاتے ہیں اور ٹھاکر صاحب کا گھر نہیں بسنے دیتے۔

محلے والے ان سے حسد میں مبتلا تھے اور ان کو دور سے دیکھ کر ہی راستہ بدل لیتے تھے مگر ٹھاکر صاحب کا دل وسیع تھا۔ دوسروں کی خبر گیری کرتے رہتے تھے اور ان کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دو مرتبہ چند حسیناؤں نے بہت واویلا بھی کیا کہ وہ ان کو نامناسب باتیں لکھ کر نامہ و پیام کرتے ہیں، مگر ٹھاکر صاحب نے کبھی اس بات کا برا نہیں منایا۔ ہمیشہ ہر حسینہ کو اپنی چوتھِی بیگم بنانے کی نیت سے ہی دیکھا۔

ٹھاکر صاحب مرحوم بلا کے مہمان نواز تھے۔ جیسے ہی خبر ملتی کہ کوئی مشہور شخص ان کے شہر میں آ رہا ہے تو اسے زبردست اصرار کر کے اسے اپنے پاس ٹھہراتے۔ اس کی خوب ٹہل سیوا کرتے۔ محفل جماتے۔ افیم کے دور چلاتے۔ بدقسمتی سے جانے کے چند دن بعد ہی یہ مہمان ٹھاکر صاحب کے دل سے اتر جاتے۔ روز و شب قریب سے دیکھ کر ان مشہور لوگوں کا ملمع اتر جاتا اور ان کی اصل صورتیں دکھائی دینے لگتیں۔ ٹھاکر صاحب بقائمی ہوش و حواس تو بہت کچھ سہہ جاتے مگر کبھی افیم تیز نکل آتی تو پھر شام ڈھلے نہ صرف ببانگ دہل حق بیان کرتے بلکہ مہمان کی زندگی کے ان خفیہ گوشوں کو بھی بے نقاب کر ڈالتے جن کا انہوں نے اپنے باطنی علم کی مدد سے اندازہ لگا لیا تھا۔

ایسی ہی ایک غمگین شام تھی جب ایک سابقہ مہمان کے متوقع رویے سے ٹھاکر صاحب اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ دل قابو میں نہ رہا۔ بڑی ٹھاکرانی نے کہا بھی کہ ڈاکٹر بلا لیتے ہیں مگر ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ ڈاکٹر آیا تو محلے بھر کو میرے جملہ امراض کے بارے میں پتہ چل جائے گا، عزت دو کوڑی کی نہ رہے گی۔ یہ کہہ کر سر تکیے سے ٹکا دیا۔ اگلی صبح جب نہ اٹھے تو پتہ چلا کہ شہر سے شرافت کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پرا گندہ طبع لوگ۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar