چیف صاحب: استعفیٰ سے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے گزشتہ روز سینیٹ کی کمیٹی کو ملک کی سلامتی کو درپیش اندیشوں سے آگاہ کیا۔ چار گھنٹوں سے زائد مدت پر محیط اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن نے ایک گھنٹہ تک اندرونی اور بیرونی محاذ پر ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں مطلع کیا۔ اس کے بعد تین گھنٹے تک پاک فوج کے سربراہ نے نہایت بے تکلفی اور دیانتداری سے سینیٹرز کے سوالوں کے جواب دیئے۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اس موقع پر پوری سینیٹ کو کمیٹی میں تبدیل کر دیا تھا تاکہ ایوان بالا کے تمام ارکان اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سوالات کر سکیں اور ملک کی صورت حال کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکیں۔ پاک فوج کی موجودہ قیادت کے اس رویہ کو اگر دس سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے طرز عمل کے مقابلے میں پرکھا جائے تو صورت حال میں زمین آسمان کا فرق نوٹ کیا جا سکتا ہے۔ مارچ 2007 میں پرویز مشرف نے ملک کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو آرمی ہاﺅس طلب کرکے اپنے ساتھی جرنیلوں کے سامنے ان پر الزامات عائد کئے اور استعفیٰ کے لئے دباﺅ ڈالا تھا۔ افتخار چوہدری کے انکار پر انہیں برطرف کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ملک گیر تحریک چلائی گئی تھی جو پرویز مشرف کے زوال پر منتج ہوئی۔ اب فوجی قیادت ایک منتخب ادارے کے سامنے حاضر ہو کر صورت حال کی وضاحت کرنے کے لئے آئی تھی۔

ملک میں جمہوری روایت کے استحکام اور پارلیمنٹ کے اختیار کے حوالے سے یہ صورت حال یقینا خوش آئند ہے۔ لیکن فوجی قیادت کی طرف سے خیر سگالی کے اس اظہار کے باوجود ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے اندیشوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ آرمی چیف کو ان وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ملک میں یہ بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ عوام بے چینی کا شکار ہیں اور اقتدار کی دوڑ میں شریک سیاستدان اپنے اپنے طور پر فوج کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی بات کرتے ہیں تاکہ 2018 کے انتخابات میں فوجی اداروں کی سرپرستی میسر آ سکے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ سرپرستی کس حد تک اور کس طرح فراہم ہوتی ہے لیکن ٹاک شوز کے مباحث اور اخباری کالم اس موضوع پر قیاس آرائیوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ متعدد کالم نگار جو اندر کی خبریں جاننے کے دعویدار ہیں، یہ بتاتے رہتے ہیں کہ ملک کے سیاسی معاملات اور مختلف لیڈروں کے مستقبل کے حوالے سے اسکرپٹ میں کیا لکھا جارہا ہے، یا کون سا وقوعہ اسکرپٹ کے عین مطابق ہوا ہے اور اس حوالے سے مستقبل میں کون سا اچنبھا رونما ہونے کی ا مید ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب ایک منتخب ادارے کے سامنے جا کر عوام کے نمائندوں کی تشویش کو دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو انہیں یہ زحمت بھی کرنا ہوگی کہ وہ یہ سچ سامنے لا سکیں کہ ملک میں طاقت کے کون سے خفیہ مراکز کی طرف سے اشارے سامنے آتے رہتے ہیں اور اسکرپٹ رائٹر کس بلا کا نام ہے اور یہ کس کو جوابدہ ہے۔

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے چار گھنٹے کے اجلاس میں ملک و قوم کو درپیش درجنوں اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے خطرہ، امریکہ کے ساتھ تعلقات، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے معاملات، ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات، فوجی عدالتوں کی کارکردگی اور لاپتہ افراد کے بارے میں فوج کا موقف بعض اہم ترین امور ہیں۔ ان میں سے ہرمعاملہ طویل گفتگو کا متحمل ہو سکتا ہے تاہم کل جنرل قمر جاوید باجوہ کی پارلیمانی بریفنگ کے بعد جس خبر نے نمایاں جگہ حاصل کی اور جس کے بارے میں سب نے توجہ مبذول کی وہ جنرل باجوہ کا یہ اعلان تھا کہ اگر فیض آباد دھرنا میں فوج کے ملوث ہونے کی بات ثابت ہو جائے تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

یہ ایک حوصلہ مندانہ بیان ہے لیکن اس سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ آرمی چیف کو بھی اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے اپنے ذاتی عہدہ کی قسم کھانا پڑی ہے۔ اس طرح اصل مسئلہ فیض آباد دھرنا اور فوج کا کردار نہیں رہا بلکہ بداعتمادی کی وہ فضا تشویش کا باعث بنتی ہے جس میں فوج کے سربراہ ایک سادہ بات کہنے کے لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی بات کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سادہ مزاجی اور جمہوریت پر یقین سے زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہے۔ اور یہ صورت حال کسی آرمی چیف کی طرف سے کسی معاملہ کی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دینے سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے پاک فوج کی قیادت کو سیاسی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے اپنے ادارے کے رہنما اصولوں کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ فوج کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فوج کی طرح ملک کے سیاستدان، پارلیمنٹ کے ارکان اور عام شہری بھی ملک و قوم کے وفادار ہیں اور اس کی بھلائی کے لئے اقدام کرتے ہیں۔ ملک کا ہر ادارہ اپنے اپنے دائرہ کار میں بہتری اور عوام کی سہولت کے لئے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس اصول کو تسلیم کرتے ہوئے، عام طور سے اس کا اقرار کیا جائے تو مستقبل میں کسی فوجی سربراہ کو پارلیمنٹ کے سامنے یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ فوج کی فلاں غلطی ثابت ہونے پر وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ تب دو طرفہ اعتبار کار شتہ استوار ہو سکے گا۔ پھر فوج کے ذیلی اداروں میں ملکی مفاد اور سلامتی کے ذمہ داران اس بات پر تشویش کاشکار نہیں ہوں گے کہ ان کی مداخلت کے بغیر اقتدار پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو جائے گا جو ملکی مفادات کا سودا کر سکتے ہیں۔ تب کسی منتخب وزیراعظم کو بھارت کا یار اور سکیورٹی رسک قرار دینے کا درپردہ یا علی الاعلان اظہار سامنے نہیں آئے گا۔

اس طرح ملک کی پارلیمنٹ کے ارکان، میڈیا کے نمائندے، سیاسی کارکن اور تبصرہ نگار مسلسل اس تگ و دو اور فکر میں غلطاں نہیں رہیں گے کہ فوج کسی وقت ناراض ہو کر ملک میں جمہوریت کا بستر گول کر سکتی ہے۔ یا کسی طویل المدت ٹیکنوکریٹ حکومت کو سامنے لا سکتی ہے جو سیاستدانوں کی پیدا کردہ مشکلات کو دور کر سکے۔ جب تک باہمی اعتبار کی یہ فضا قائم نہ ہو سکے اور جب تک فوج کی طرف سے مسلسل ایسے اشارے موصول نہ ہوں جن سے اندازہ ہوتا رہے کہ فوج یہ تسلیم اورقبول کرنے لگی ہے کہ وہ ریاست کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو منتخب حکومت کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ اگر فوج اپنی اس حیثیت کو تسلیم کرے تو منتخب وزیراعظم یا اس کے نمائندوں کو ہر تھوڑے وقفے کے بعد فوج کے سربراہ سے ملاقات کرکے جمہوریت کے تسلسل کی یقین دہانی حاصل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ آرمی چیف کو بھی وزیراعظم سے ملنے کی بجائے اپنے سیکریٹریٹ کے ذریعے وزارت دفاع سے ہدایت موصول کرنے اور ان پر عمل کرنے کا سکھ اور سکون نصیب ہو سکے گا۔ بداعتمادی کی موجودہ فضا میں تو وزیر دفاع نام کا عہدہ بے مقصد اور غیرضروری ہے۔ معاملہ کسی خبرکی اشاعت کا ہو یا کسی دھرنے کو ختم کرنے سے متعلق ہو، جی ایچ کیو کی براہ راست مداخلت روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس ملک میں کوئی ایسا دوسرا ادارہ موجود نہیں ہے جو براہ راست فوج کے اختیار میں بھی نہ ہو اور جو اپنے طور پر سیاست اور حکومتی امور میں فوجی اداروں کی مداخلت کی تحقیقات کرکے یہ بتا سکے کہ کسی معاملہ میں فوج ملوث تھی یا نہیں۔ اور نہ ہی پارلیمنٹ و حکومت سمیت کسی ادارے میں اتنا حوصلہ ہے کہ کسی معاملہ میں فوج کے ناجائز کردار کی تحقیقات کا بیڑا اٹھانے کا اعلان کر سکے۔ جب ایسی کوئی تحقیقات ممکن ہی نہیں ہیں تو کسی معاملہ میں فوج کے ملوث ہونے کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ کے استعفیٰ کی بات کرنے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ آرمی چیف اگر فیض آباد دھرنا کے حوالے سے واقعات کے تسلسل کا جائزہ لیں تو انہیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ معاملات اتنے سادہ اور بے بنیاد نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ فوج کے تعلقات عامہ ISPR کے ڈائریکٹر جنرل نے کل سینیٹ کمیٹی کے سامنے آرمی چیف کی گفتگو پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ تین چار روز میں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ لیکن 27 نومبر کو حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی پابندی کی خاطر طوعاً و کرہاً دھرنے کے خلاف آپریشن شروع کیا تو تھوڑی دیر کے بعد ہی آئی ایس پی آر کے ڈی جی کا یہ ٹویٹ منظر عام پر آ گیا کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ یہ پیغام عام ہونے ہی کے نتیجہ میں پولیس آپریشن ناکام ہوا اور ملک بھر کے شہروں میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

دھرنا کے خلاف وفاقی حکومت کے آپریشن کی ناکامی کے بعد جب وزارت داخلہ نے فوج کو اہم تنصیبات کی حفاظت کے لئے طلب کیا تو ایک فوجی افسر نے اس کے جواب میں ایک شرائط نامہ وزارت داخلہ کو روانہ کیا۔ یہ خط وزارت داخلہ کو خفیہ دستاویز کے طور پر بھیجا گیا لیکن اسی لمحے سوشل میڈیا کے ذریعے گھرگھرپہنچ چکا تھا۔ اس طرح یہ بات عام کی گئی کہ حکومت فوج کے ذریعے دھرنے کے خلاف آپریشن کروانا چاہتی تھی لیکن فوج نے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے آرمی چیف ثالث بن کراپنے زیر نگراں اداروں کے ذریعے دھرنا ختم کروانے کے لئے پہنچ گئے۔ حکومت اور دھرنا دینے والوں کے درمیان معاہدہ پر آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ افسرکے دستخط سے یہ ساری صورت حال خود اپنی کہانی بیان کر رہی ہے۔ اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ اگلے روز ڈی جی رینجرز کی سیلفیوں، تھپکیوں، اظہار یکجہتی اور معاوضے تقسیم کرنے کی ویڈیو نے پوری کردی۔

 یہ ساری تصویر سامنے ہونے کے بعد صرف یہ کہنے سے کیسے بات بن سکتی ہے کہ فوج اس معاملہ میں ملوث نہیں تھی۔ دریں حالات تو جنرل باجوہ سے دست بستہ یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ ”حضور استعفیٰ تو بنتا ہے لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ استعفے کی باتیں کرنے کی بجائے اصلاح احوال پر توجہ مبذول کی جائے تو بہت بہتر ہ وگا۔“

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali