کیا نواز شریف کی سیاسی چال کامیاب ہو گی؟


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ملک کے آئیندہ وزیر اعظم کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے گزشتہ جولائی سے جاری افواہوں اور مسلم (ن) کے انتشار کے علاوہ شریف خاندان کے درمیان اختلافات کی خبروں کی روک تھام کے لئے ایک مؤثر اور واضح فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ اس طرح مسلم (ن) یا نواز شریف کی مشکلوں میں تو کمی نہیں ہوگی لیکن نواز شریف نے کم از کم یہ بات واضح کردی ہے کہ دونوں بھائی آئیندہ انتخابات میں مل کر مخالفین کا مقابلہ کریں گے۔ شہباز شریف کے بارے میں عام طور سے یہ تاثر موجود ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں اور نواز شریف کے مقابلہ میں مفاہمانہ پالیسی کے حامی ہیں، اس لئے شہباز شریف کے وزیر اعظم کے امید وار کے طور پر سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ(ن) کے اپنے بل بوتے پر منتخب ہونے والے اراکین کو ورغلانے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پارٹی چھوڑنے سے پہلے اب ہر رکن بہت احتیاط سے سیاسی حالات کا جائزہ لینے پر مجبور ہوگا۔

شہباز شریف کے وزارت عظمی کا امیدوار بننے سے اگرچہ نوازشریف کی احتجاج کی سیاست کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ او وہ وزارت عظمیٰ سے نااہل ہونے کے بعد سے ’ اصولوں‘ کی پاسداری کرنے کے جو دعوے کرتے رہے ہیں ، ان کا پول بھی کھل گیا ہے۔ لیکن اس طرح نواز شریف پارٹی سربراہ کے طور پر اپنی سیاسی جماعت کو مزید غیر یقینی صورت حال سے بچانے میں ضرور کامیاب ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کو امید وار بنانے کا یہ مقصد نہیں ہو سکتا کہ مسلم لیگ (ن) آئیندہ انتخابی معرکہ مار لے گی۔ البتہ اب 2018 کے ممکنہ انتخابات میں پا رٹی کو بدستور ایک اہم اور سخت مقابل کی حیثیت حاصل رہے گی۔ انتخابی مہم کے دوران نواز شریف کا ہی سحر چلے گا کیوں کہ ووٹر ان کے نام اور شخصیت سے ہی شناسا ہے اور شہباز شریف کو بہتر منتظم کی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود سیاسی لحاظ سے وہ قامت نصیب نہیں ہو سکی جو نواز شریف کے حصے میں آئی ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان مفاہمت اور اتفاق رائے کی یہ خبر کے سامنے آنے کے بعد بھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ نواز شریف پنجاب اور مرکز میں پارٹی کے اقتدار کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے حدیبیہ ملز کیس دوبارہ کھولنے کے بارے میں نیب کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اگرچہ یہ سمجھا جارہا ہے کہ شہباز شریف کے سیاسی مستقبل پر سے سائے کم ہو گئے ہیں لیکن اب بھی ماڈل ٹاؤن سانحہ ان کے لئے کسی بھی وقت ناگہانی آفت کی طرح سامنے آسکتا ہے۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے سوال پر بھی ابھی شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو اس عہدہ کے لئے تیار کرتے رہے ہیں لیکن ابھی یہ بات یقینی نہیں ہے کہ شہباز شریف کو ملک کا سب سے بڑا عہدہ پیش کرنے کے بعد نواز شریف ان کے بیٹے کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی قبول کرلیں گے۔ پنجاب میں بہت سے سیاسی لیڈرشہباز کے بعد اس پوزیشن کے امید وار ہو سکتے ہیں جن میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سر فہرست ہیں۔ نواز شریف کی خواہش ہوگی کہ وہ پنجاب میں اپنا قابل بھروسہ اور وفادار وزیر اعلی لاسکیں۔ حمزہ سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی مضحکہ خیز اور ملک کے جمہوری کلچر کے لئے افسوسناک ہوگی کہ بات وزیر اعظم ہو اور بیٹا سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے۔ نواز شریف حمزہ کے حوالے سے اپنے بھائی کی خواہش مسترد کرتے ہوئے اس دلیل کو بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن حمزہ شہباز کو انکار کرنے کے بعد شہباز شریف کا متبادل لانا آسان کام نہیں ہوگا۔

نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو مستقبل میں پارٹی اور ملک کی قیادت سنبھالنے کے لئے تیار کرتے رہے ہیں لیکن پاناما کیس کے نتیجے میں مریم نواز بھی احتساب عدالت میں مقدمات کا سامنا کررہی ہیں۔ اس مقدمہ میں سزا کی صورت میں ان کا سیاسی مستقبل طویل عرصہ کے لئے تاریک ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں گزشتہ چند ماہ کی سیاسی رسہ کشی اور مباحث کے دوران یہ معاملہ زیر غور رہا ہوگا جس کے بعد بالآخر نواز شریف کو اپنے چھوٹے بھائی کو وزارت عظمی کا آئیندہ امید وار بنانے کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ اب بھی ان کی خواہش ہوگی کہ مریم جب بھی کرپشن کے الزامات سے بری ہوسکے تو اسے پارٹی اور ملکی سیاست میں آگے لایا جائے تاہم اس کا انحصار عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں پر ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر نواز شریف نے آج جو فیصلہ کیا ہے وہ ملک کے سیاسی منظر نامہ میں اگرچہ ایک اہم سیاسی چال سمجھی جا سکتی ہے کہ اس طرح اقتدار خاندان میں رکھنے اور پارٹی کو انتشار سے بچانے کی ٹھوس کوشش کی گئی ہے۔ لیکن نہ تو یہ فیصلہ کسی جمہوری روایت کا آئینہ دار ہے اور نہ ہی ملک میں سول اداروں کو مستحکم اور باختیار کرنے کے لئے کوئی مثبت قدم ثابت ہو گا۔ پارٹی سیاست کو ایک خاندان میں محدود کرنے اور پارٹی کے لئے کام کرنے والے دیگر کارکنوں اور لیڈروں کے لئے اعلیٰ ترین پوزیشن تک رسائی کا راستہ روکنے سے ملک کے سیاسی ادارے اور جماعتیں کمزور ہوں گی اور ان پر عوام کا اعتماد بھی کم ہوگا۔ اب ملکی سیاست کو اس دائرہ سے باہر نکلنے اور سیاسی جماعتوں کو شخصیات کے سحر سے نجات دلانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد نواز شریف کے لئے ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بننے کا راستہ کھوٹا ہوچکا ہے۔ تاہم وہ قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کی اکثریت کے بل بوتے پر قانون میں ایسی ترمیم کروانے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ پھر سے پارٹی کی صدارت پر فائز ہیں۔ وہ چاہیں تو مسلم لیگ ( ن) میں جمہوری روایت کو مستحکم کرتے ہوئے ملک میں سول اداروں کی قوت میں اضافہ کے لئے کام کرسکتے ہیں۔ نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ اب ’نظریاتی ‘ ہو چکے ہیں۔ ایک نظریاتی لیڈر صرف قلیل المدت پارٹی اور شخصی مفاد کا اسیر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسے اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا پڑتا ہے۔ نواز شریف فوج کے دباؤ اور عدالتوں کی ’ناانصافی‘ کو ختم کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ کام صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر ملک کی سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں اور جمہوری روایت کے مطابق اس کی قیادت کا انتخاب عمل میں آسکے۔ ایسی جماعتیں سامنے آنے سے ہی ملک میں جمہوری سیاست نادیدہ قوتوں کے دباؤ سے نجات حاصل کرسکے گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali