ماں، بہن اور بیٹی کی گالیوں میں سیکس کا کوئی پہلو نہیں
’ ہم سب ‘ پر ہی ہم سب اس کے کچھ اقدامات پر کھل کراظہارِ رائے کر رہے ہیں یوں حاسدین کو خود ہی خوش ہو نے کا موقع دے رہے ہیں لیکن کیا جمہوریت پسندوں کو اس سے بڑی کو ئی مثال ملے گی۔
برہنگی، سے مراد ہم عورت کا جسم ہی لیتے ہیں، اور اسی کو لے کر سارے مرد برہنہ تصا ویر کی نمائش کے حق اور مخالفت میں بحث کر رہے ہیں، ہم نے سوچا اس بحث کی جڑ عورت ہے اور اب تک کسی خاتون نے ہی اس میں حصہ نہیں لیا۔
اپنے گھر میں سب سے زیادہ آزادی مجھے تھی اکیلے جاؤں، کہیں جاؤں، کچھ پڑھوں کوئی روک ٹوک نہیں تھی، امی کہتیں، آپ نے اسے بہت آزادی دے رکھی ہے، پاپا کہتے، یہ بہادر ہے۔
مگر میں اتنی بھی بہادر نہیں تھی واجدہ تبسم کی تحریر میرا دماغ بھی بھٹکاتی لیکن میں پورا تحریر ختم کر کے ہی دم لیتی اور پھر سمجھ آتا کہ کہانی کی نوعیت کے اعتبار سے جملے کچھ اتنے بیہودہ بھی نہیں تھے۔ عصمت چغتائی منٹو اور دیگر کی تحریریں بھی پڑھیں اور پھر دماغ کے لیے وہ سب غیر اہم ہو تا چلا گیا اور ذہن میں صرف جملوں کی ساخت، روانی اور جزئیات کا کمال بیان رہ جاتا۔ ایل ایل بی کی کلاسز کے دوران مسلم لا پڑھانے کے دوران استاد غیر ضروری طور پر عورت اور مرد کے تعلقات بیان کرتے، دوسرے لڑکے کنکھیوں سے میری طرف دیکھتے، لیکن میں نے اسے بھی اہمیت نہیں دی،
وکالت کی سند ملنے سے پہلے سینئر وکیل کے ساتھ پریکٹس کے دوران جب ریپ کیسز میں میڈیکل آفیسر سے سوالات کیے جاتے تو گھبراہٹ طاری ہو جا تی، اٹھ کر کمرہء عدالت سے چلی جاتی، سینیر وکیل صاحب نے سمجھایاکہ پیشے سے اخلاص کا تقاضا ہے کہ کیس کے اہم نکات پر غور کیا جا ئے، نہ کہ غیر ضروری شرم میں سیکھنے کا وقت برباد ہو۔ اب خیال آتا ہے کہ واقعی میں بہادر بھی ہوں اور مضبوط بھی اور یہ سب خود کی مشقی، آزمائشی تربیت کرنے سے ہوا۔
چلی ہے سمتَ مخالف میں طبع ماہی عشق
ہے کتنا دم ترے آبِ رواں میں دیکھنا ہے
میکے میں تین بہنوں کے بعد بھائی تھے، اور میرے ہاں کوئی بیٹی نہیں تھی، سمجھ نہیں آتا تھا بیٹوں کی تربیت کیسے کروں گی، میاں درویش صفت ہیں، کسی معاملے میں دخل نہیں دیتے۔ جب میرے بیٹے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے تھے سوچا ٹی وی کیبل ہٹا دیا جائے، پتہ نہیں بچے کیا کیا دیکھیں گے، ہم ان پر سارا وقت تو نظر نہیں رکھ سکتے پھر خود کو خود کی مثال سے سمجھا یا، کہ ان چیزوں کو غیر اہم بنانے کا یہ ہی طریقہ ہے کہ انہیں اہمیت نہ دی جا ئے دیکھ لیں گے تو دیکھ لیں، تجسس ہی اکساتا ہے نہ پھر اسی تجسس کے لیے دوستوں کے گھر تو نہ جائیں گے چھپ چھپ کے بار بار تو نہ دیکھیں گے۔
ایک بار ٹی وی پر خالد روٗف چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کا پروگرام کر رہے تھے، میں نے اپنے بیٹوں کو پورا پروگرام دکھایا رشی، رامش دس گیارہ سال کے تھے، انہیں کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں، میں نے بغیر جھجکے انہیں بڑوں کی بچوں کے ساتھ کچھ غلط حرکتوں کے بارے میں بتایا اور آخر میں یہ کہہ کر بھی ڈرا دیا کہ کچھ بچے بڑے ہو کر خود بھی وہی سب کچھ کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوا ہوتا ہے لیکن ایسے بچوں کے cheeks کی ہڈیاں باہر نکل جا تی ہیں اور وہ بہت بد صورت لگتے ہیں۔
شرم کا تعلق عورت ہی کے لیے مختص ہے یہ ہر ایک میں ہوتی ہے، کم یا زیادہ، یا بالکل نہیں، لیکن یہ گھر کے ماحول یا حالات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے، ہماری امی برقعہ پہنتی تھیں، ہم نے ان سے کہا کہ وہ صرف ایک لمبی سی چادر لے لیا کریں، لیکن انہیں اپنا چہرہ کھلا رکھنے پر ہی بہت شرم آیا کرتی پھر آہستہ آہستہ وہ عادی ہوئیں۔ بعض لڑکیا ں بغیر دوپٹے آرام سے گھوما کرتی ہیں، مگر ہمیں شرم آتی ہے کیوں کہ ہم نے خود کو اس کا عادی بنا نے کی کوشش نہیں کی، لیکن ہم انہیں جو دوپٹہ نہیں لیتیں قطعی بے شرم نہیں سمجھتے۔
تم جو چاہو تو کفِ تاب الٹ کر دیکھو
کس قیامت کی حیا دیدہٗ بے باک میں ہے
ہاں مجھے شرم آتی ہے جب کوئی مرد میرے سامنے ماں بہن کی گالی دیتا ہے، غصے میں دی گئی گالی میں دینے اور سننے والے کو کوئی سیکس نظر نہیں آتا، جب کہ اس کی ماں اور بہن کو اس میں لپیٹا جا تا ہے۔ میں نے ہر مرد کی زبان سے ماں بہن کی گالی سنی ہے، آپ مرد تو مذاق میں بھی ہنستے ہنستے یہ گالیاں یوں دے جاتے ہیں جیسے کوئی بات نہ ہو، اور میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے کچھ دوستوں کو اخلاقیات کا دورہ پڑا ہوا ہے، مارکیٹوں میں سرِ عام خواتین کے انڈر گارمنٹ دیکھ کر کسی کو یہ اخلاقیات کیوں یاد نہیں آتیں، بات وہ ہے کہ مار کیٹس میں یہ سب دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں، عادی ہو گئے ہیں گالیوں کے، اس لیے سن کے یا دے کر محسوس ہی نہیں ہو تا کہ سیکس ابھا را گیا ہے وہ بھی ماں، بیٹی اور بہن کے نام پر۔
کنواری لڑکیاں گھر میں اور بھائی نئی نویلی دلہن کے ساتھ سہاگ رات منا رہا ہوتا ہے۔ بڑی بہن کنواری ہے چھوٹی بہن دلہن بن کر رخصت ہوجا تی ہے۔خیالات، جذبات اور اعصاب پر دباؤ کے لیے محض عریاں تصویر کا دیکھ لینا بے کار بات ہے، سب جانتے ہیں کہ دماغ میں دھیان کوئی اور ہو تو کیسی بھی تصویر ہلچل نہیں مچاتی، کب کسی کا دماغ چنچل ہو اس کا عریاں تصویر سے لینا دینا نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو پڑھنے باہر بھیج دیتے ہیں، تب ہمیں ان سب باتوں کا خیال کیوں نہیں آتا، کس لمحے آپ اسٹرونگ ہوں اور کب دماغ کو آزاد چھوڑ دیں اس کے لیے کبھی بھی کوئی گائڈ لائن دی ہی نہیں جا سکتی، آگ پر چلنے والوں کے پیر کی جلد سخت ہو جا تی ہے، گرم دیگچی پکڑ پکڑ خواتین کے ہاتھوں کے پور سخت ہو جا تے ہیں۔
یہ جو آپ سیکس، عریانی اور فحاشی کے خوف سے اپنے بچوں کے بگڑنے اور ان کی ذندگی کے خراب ہونے کی فکر میں مبتلا ہیں کیا آپ کو خبر ہے کہ جب آپ کے بچے کا امتحانی نتیجہ برا آتا ہے تو آپ کے خوف سے اس کی کیا حالت ہوتی ہے، کیا آپ نے سوچا کہ جب آپ کا لڑکا یا لڑکی کسی ایسے لڑکے یا لڑکی کے عشق میں گرفتا ر ہو جا تے ہیں جس کے بارے میں وہ آپ کو بتا تے ہوئے اس لیے گھبراتے ہیں کہ انہیں آپ کے خیالات کاپتہ ہو تا ہے کہ آپ یہ سنتے ہیں سخت غصے میں آجا ئیں گے۔ جب رات کو آپ بے چینی سے اپنی بیوی کو کمرے میں بلا کر کنڈی لگاتے ہیں اور آپ کی بیگم آپ سے لاکھ احتجاج کرتی ہیں کہ بچے بڑے ہیں جاگ رہے ہیں ابھی نہیں تب آپ فلسفیانہ انداز سے کہتے ہیں کہ بچے بڑے ہیں سمجھ دار ہیں۔۔۔۔۔
ایک اسٹوڈینٹ نے مجھے سلام کیا، وہ برقعے میں تھی نام بتایا تو میں نے اسے پہچانا، میں نے پوچھا برقعہ کیوں پہن لیا کیوں کہ وہ خاصی ماڈرن گھرانے سے تھی، کہنے لگی اب ہم جس علاقے میں شفٹ ہوئے ہیں وہاں عجیب وغریب مرد ہیں گھو گھور کر دیکھتے ہیں۔ بات پھر وہ ہی ہے ماڈرن علاقوں میں خواتین کو یہ شکائت اس لیے نہیں ہوتی کہ وہاں مرد عادی ہوتے ہیں۔
کہنے کا مطلب وہی کہ یہ عریانی اور فحاشی کے خلاف خواتین کو ہی احتجاج سوٹ کرتا ہے۔ آپ کو روکنا ہے تو ان تمام گالیوں کے خلاف تحریک شرع کریں جن میں سیکس کا پہلو نکلتا ہے۔
خوب صورت ڈانسر اور اداکارہ نور نے پچاس سال کی عمر میں حجاب لینا شرع کر دیا ہے۔ بولیں اللہ جس کو چاہے ہدائت دے دے۔یہ ہی بات اداکارہ وینا ملک نے مولانا طارق جمیل سے ہدائت ملنے کے بعد کی تھی، مگر اب وہ دوبارہ بنا حجاب کے ہیں، ہم ان کی صلاحیتوں کے جب بھی معترف تھے اب بھی معترف ہیں۔


