کچھ مولانا طارق جمیل کے دفاع میں


مولانا طارق جمیل آج کل شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ان کی چند تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں وہ ایک مہنگی لیموزین سے اترتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ تنقید جائز ہے؟

مولانا طارق جمیل ایک مقبول مقرر ہیں۔ ان کی تقاریر کا موضوع مذہب ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں سنا ہے کہ انہوں نے میڈیکل کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر مذہبی تعلیم کو اختیار کیا اور اس شعبے میں وہ پاکستان کے نامور ترین لوگوں میں شامل ہو گئے۔ لوگ ان کے درس سننے جوق در جوق آتے ہیں۔ ان کی خاص خوبی یہ ہے کہ وہ کسی پر تنقید یا برائی کر کے مقبول نہیں ہوتے۔ اپنی بات کو منفیت سے پاک رکھتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی بہت ہی برے شخص کے بارے میں بھی اچھے الفاظ ادا کریں یا اس کا ذکر کرنے سے اجتناب کریں۔

ان کی زمین جائیداد کے بارے میں یہ سننے میں آتا ہے کہ خاندانی طور پر وہ ایک اچھے بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے دروس کی مقبولیت ہی ہے کہ ان کے وافر رزق کا بندوبست بھی خدا نے مذہب سے محبت کرنے والوں کے توسط سے کر دیا ہے۔ سننے میں آتا ہے کہ وہ حج اور عمرے کی ایک کامیاب کمپنی چلاتے ہیں جو ہر برس تین سو لوگوں کو حج کراتی ہے اور فی کس سولہ لاکھ روپے لیتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ بات مولانا کے معترضین کی جانب سے کہیں جاتی ہے کہ مولانا کے گروپ میں شمولیت کے اتنے پیسے لئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حج کمپنی جنید جمشید مرحوم کی ملکیت تھی اور مولانا کا اس سے مالی تعلق جوڑنا درست نہیں ہے۔ ہم برائے بحث معترضین کے موقف کو اختیار کر کے دیکھتے ہیں کہ اس میں کتنی جان ہے۔

حج کے مختلف پیکج ہوتے ہیں۔ سرکاری پیکج ساڑھے تین لاکھ کے آس پاس ہوتا ہے۔ سرکاری پیکج میں بھی سستا اور کچھ مہنگا پیکج آ جاتا ہے۔ پھر نجی پیکج ہوتے ہیں جو اس سے کچھ زیادہ رقم کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد وی آئی پی لیول کے پیکج آتے ہیں جو پندرہ لاکھ یا اس سے زیادہ رقم کے ہوتے ہیں۔ اگر مولانا طارق جمیل بھی ایک وی آئی پی پیکج آفر کر رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ سینکڑوں دوسرے لوگ بھی تو یہ کر رہے ہیں۔

ہم نے جب حج کیا تو پانچ لاکھ کا پیکج لیا۔ اس میں حرمین شریفین کے قریب اچھی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ کافی آسانی تھی۔ وہیں ہمارے ایک عزیز بھی ملے۔ انہوں نے پندرہ لاکھ والا وی آئی پی پیکج لیا تھا۔ ان کے انتظامات ہمیں پسند آئے اور اگر ہمارے پاس زیادہ پیسے ہوتے تو ہم بھی ویسا پیکج لیتے۔ اس بنیاد پر ان عزیز کے ایجنٹ کو یا انہیں برا کہنا ہمیں غلط لگتا ہے کہ وہ مہنگا حج کیوں کر رہے تھے۔ جس کی جیب جتنی اجازت دیتی ہے وہ اتنا پیسہ خرچ کر کے اپنے لئے سہولیات لے لیتا ہے۔

ایسے ہی اگر مولانا طارق جمیل کے مہنگے حج پیکج کو لیا جائے تو اس پر بھی اعتراض کی وجہ ہمیں تو کوئی نہیں دکھائی دیتی۔ ہم حج سے آمدنی کا درست حساب کتاب نہیں جانتے مگر پندرہ لاکھ فی کس کے پیکج اس میں سے آدھے پیسے بھی بچتے ہوں تو صرف حج کے ذریعے وہ 22 کروڑ سالانہ سے اوپر آمدنی حاصل کر لیتے ہوں گے۔ صرف اسی آمدنی سے وہ ایک پرتعیش لائف سٹائل اختیار کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بحیثیت حج ٹور آپریٹر وہ اس آمدنی پر ٹیکس بھی لازمی ادا کرتے ہوں گے۔

اس کے علاوہ ان کے عقیدت مند ان کو شہر شہر اور ملک ملک بلاتے ہیں تو وہ ان کو کچھ نذرانے بھی دیتے ہوں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے سابقہ امریکی صدور کلنٹن اور اوباما یا جنرل پرویز مشرف مختلف جگہوں پر جا کر لیکچر دینے کے اچھے بھلے پیسے لیتے ہیں۔ یہ لیکچر دینے کے لئے بلانے والے ان سب کے قیام طعام اور نقل و حرکت کے لئے بندوبست بھی خود کرتے ہیں۔ یہی سب کچھ اگر مولانا طارق جمیل بھِی کرتے ہیں تو ان پر اعتراض کیسا؟ وہ بھی اپنی فیلڈ کے لیکچر دیتے ہیں اور اس سے آمدنی حاصل کرتے ہوں گے۔ لیکچروں کے لئے بلانے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل دکھتے ہیں کیونکہ مولانا طارق جمیل کی تصویر ہمیں لیموزین پر بھی دکھائی دیتی ہے اور موٹرسائیکل پر بھی۔

اسلام یہ نہیں کہتا کہ آدمی کے پاس کھلے پیسے ہوں تو بھی وہ غریبانہ لائف سٹائل اختیار کرے۔ بلکہ اپنی آمدنی کے حساب سے لائف سٹائل اختیار کرنے کا کہتا ہے۔ اگر مولانا یہ کر رہے ہیں تو اس پر اعتراض مناسب نہیں ہے۔ ہاں اگر مولانا میرے یا آپ کے لائف سٹائل پر تنقید کرتے یا ان کے قول و فعل میں کوئی بڑا تضاد دکھائی دیتا تو پھر ہمیں بھی روا تھا کہ ان کے لائف سٹائل پر تبصرہ کرتے۔ وہ درویش اپنے حال میں مست ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar