رابندر ناتھ ٹیگور کی دو اہم کہانیوں کا تجزیہ
یوں تو رابندر ناتھ ٹیگور نے عورتوں کے مسائل کے حوالے سے کئی اہم اور مقبول کہانیاں لکھیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں عورتوں کے ساتھ رواسماجی نا انصافی سے کس قدر اختلاف تھا۔ وہ عورتوں کی صلاحیتوں کے معترف تھے اور انہیں نہ صرف صائب الرائے بلکہ سماج میں اعلی مقام پہ بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کا اظہار ان کی ابتدا سے آخر دور تک کی لکھی کہانیوں سے بخوبی واضح ہے۔ تاہم ہم نے ٹیگور کی جن دو اہم کہانیوں کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں دونوں ہی کا تعلق ان کے کہانیوں کے درمیانی سوج پتر دور سے ہے یعنی وہ دور جس میں ابتدائی دور میں دیہات میں لکھی کہانیوں کے برخلاف بنگال کے شہر میں رہنے والے درمیانہ طبقہ کے مسائل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس وقت ملک کے بدلتے حالات کے ساتھ درمیانہ طبقہ کی عورت کے مسائل کی نوعیت بھی بدل گئی تھی۔ وہ جس جذباتی دباؤ اور ذہنی توڑ پھوڑ کا شکار تھی، شہری زندگی میں معاشی آسودگی کے حصول کی دوڑ میں مصروف مرد اس کو سمجھنے سے نہ صرف قاصر تھا بلکہ روایتی قدروں کو توڑنے سے خائف بھی۔ ان دو کہانیوں میں سوج پتر دور کی ابتدا اور ایک دھائی کے فرق میں عورتوں کے رویہ میں بیداری کو واضح طور پہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ پہلی کہانی اجڑا آشیانہ 1901 میں لکھی گئی۔ جبکہ دوسری بی بی کا خط 1914کی تخلیق ہے۔
اگر اجڑا آشیانہ کی عورت چارولتا اپنے احتجاج کو دھیمے مگر ٹھوس انداز میں وضح کرتی ہے تو بی بی کے خط کی مرنال احتجاج کے تسلسل کے اگلے قدم میں اسی گھر کو چھوڑ دیتی ہے جہاں غریب اور مجبور لڑکی بندو کے ساتھ نا انصافی کا رویہ روا ہے۔ کہانیوں کے انتخاب کی وجہ ایک تو قارئین کو اس وقت کی عورت میں بیداری کی لہر کو واضح طور پر محسوس کرانا ہے تو دوسری وجہ ان کہانیوں بالخصوص اجڑا آشیانہ میں ٹیگور کی ذاتی زندگی کی جھلک دکھانا بھی مقصود ہے۔ اس لحاظ سے گویا یہ کسی بیرونی واقعہ یا تخیلاتی کہانی کے بجائے وارداتِ قلبی کی داستان ہے جو ان کی پہلی شدید مگر ناکام محبت کا اداس اور انمٹ باب ہے کی جس کے اثر سے ٹیگور کبھی آزاد نہ ہو سکے اور ان کی تخلیقات پر اس کا واضح اثر دیکھا جا سکتا ہے۔
اجڑا آشیانہ جسے بنگالی میں نشٹ نیٹر اور انگریزی میں
(lonely wife)
کا عنوان دیا گیا ہے۔ ٹیگور کی طویل ترین کہانیوں میں سے ہے یعنی اس کے بیس ابواب ہیں۔ اس لحاظ سے اس کو ناولٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ کہانی ایک شادی شدہ جوڑے کی ہے اور شہری زندگی کی بھاگ دوڑ اور انسانی رشتوں کے درمیان ان فاصلوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ جو مادہ پرستی نے حائل کر دیے ہیں۔ کہانی کی مرکزی کردار چارولتا ہے جو مصروف اخبار کے مالک و ایڈیٹر بھوپتی کی کم سن بیوی ہے۔ بھوپتی نے بیوی کو ہر قسم کی آسائش تو مہیا کی مگر یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ اس کی بیوی اس مصروفیت اور بے اعتنائی کے سبب جذباتی آسودگی اور تنہائی کا شکار ہے۔
ایک طرف توبھوپتی اپنے اخبار کے نشے میں مست تھا۔ ادھر اس کی کمسن دلہن چارولتا رفتہ رفتہ عالم شباب کو پہنچ گئی۔ اخبار کے ایڈیٹر کو اتنے بڑے واقعہ کی پوری خبر نہ ہوئی۔ سرحد کے متعلق بھارت گورنمنٹ پالیسی جو حدِ اعتدال سے تجاوز کر رہی تھی۔ بھوپتی کے نزدیک زیادہ غور طلب بات تھی۔ صفحہ 214 ( اکیس کہانیاں)۔
تنہائی کے اس دور میں چارولتا کی زندگی میں اس کے شوہر کا کزن امل داخل ہوتا ہے جو چارو کا ہی ہم سن ہے اور اسی کی طرح خوش مزاج اور ادبی ذوق کا مالک۔ چارو کو پڑھنے کا شوق تھا تو امل کو پڑھانے کا۔ امل نے ادبی سفر شروع کیا تو چارو اس کی سب سے اچھی نقاد تھی۔ آہستہ آہستہ خود اس نے بھی لکھنا شروع کیا۔ دونوں کی ایک تخیلاتی دنیا آباد تھی کہ جس میں صرف وہ دونوں ہی تھے۔ اس طرح لاشعوری طور پر ان کی ممنوعہ اور ان کہی محبت کا شجر نمو پاتا ہے۔ کسی قسم کے جسمانی تعلق نہ ہونے کے باوجود محض ذہنی قربت نے اس محبت کو توانائی دی۔ گو دونوں نے ایک دوسرے کو کبھی بھی اپنے جذبات کا اظہار نہ کیا لیکن کہانی اتنی خوبصورتی اور باریک بینی سے لکھی گئی ہے کہ قاری اس خاموش محبت کو پھلتا پھولتا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔ امل اس شدید جذبہ عشق کو محسوس کرنے کے باوجود بے بسی محسوس کرتا ہے۔ اور یہ سوچ کر کہ چارو کے شوھر کے اعتماد کو ٹھیس لگے گی۔ خاموشی سے شادی کر کے ملک سے باھر چلا جاتا ہے۔ جو چارو کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔
چارو اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی۔ اس کے کام یونہی پڑے رہنے لگے۔ نوکر چاکر چوری کرنے لگے۔ چارو کی اس قابلِ رحم حالت کو دیکھ کر لوگ سرگوشیاں کرنے لگے مگر اسے کسی طرح ہوش نہ آیا۔
کہانی کے اختتام پہ جب بھوپتی کا کام کسی دوسرے شہر میں ہو جاتا ہے۔ تو باوجود اپنی بیماری اور تنہائی کے چارو نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے کے بجائے اسی خالی گھر میں رہنے کو ترجیح دی جہاں امل کی یادوں کا آشیانہ بنا اور پھر اجڑا تھا۔
دفعتاً چارو کا خون خشک ہو گیا اس کا چہرہ کاغذ کی طرح سفید ہو گیا اس نے اپنی مٹھی میں پلنگ کی پٹی پکڑ لی۔ بھوپتی نے فوراً کہا، چارو چارو میرے ساتھ چلو۔ چارو نے کہا نہیں یہیں رہنے دو۔ ۔ ۔ ۔ صفحہ 275 (اکیس کہانیاں)۔
چارو کا یہ قدم اس زمانے کی عورت کا انتہائی اور جراتمندانہ قدم تھا۔ جہاں اس نے ازدواجی رشتہ کو نہیں توڑا۔ مگر اس گھر سے رشتہ مضبوطی سے قائم رکھا جو اس کی روحانی قربت اور ساتھی کا یاد گار تھا۔
اس کہانی کی طوالت اور اس میں درج جزئیات کی تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیگور نے کس قدر دل سے اپنی زندگی سے ملتی جلتی کہانی کو قلمبند کیا۔ واضح ہو کہ ٹیگور کے تیرہ سالہ بھائی تیرندر ناتھ کی شادی 1868 میں کدم باری، نو سالہ لڑکی سے ہوئی۔ اس وقت ٹیگور کی عمر آٹھ سال تھی۔ اس طرح دیور بھابی ساتھ کھیل کر پلے بڑھے۔ ٹیگور کی طرح کدم باری بھی پڑھائی لکھائی کی شوقین اور بہت ذہین تھی۔ ٹیگور اپنی بھابی کو اپنی ادبی تصانیف پڑھواتے جو ان کی پہلی ناقد تھی۔ اور حوصلہ افزائی بھی کرتی۔ ٹیگور کے بھائی، کدم باری کے شوہر موسیقار، ڈرامہ نویس، شاعر اور اداکار بھی تھے۔ جو ہمیشہ مصروف رہتے۔ اور اکثر دوسرے شہروں میں کام کی غرض سے جاتے رہتے۔ پھر فن کی اس دنیا میں ان کی مداح خواتین بھی بہت تھیں۔
ٹیگور اور ان کی بھابی کے درمیان رومانوی تعلق کی واضح سند تو نہیں ملتی لیکن ٹیگور نے اپنی نظمیں اور کتابیں بھابی کے نام کی ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی شادی ان کی والد نے دس سالہ بھابا ترانی دیبی (جس کے نام کو مرلینی دیبی میں بدل دیا گیا)سے کر دی جو ان کے زمینوں پہ کام کرنے والے شخص کی غیر تعلیم یافتہ اور کم رو لڑکی تھی۔ ٹیگور کی عمر اس وقت تئیس سال تھی اور یہ سال تھا 1883 کا۔ شادی لڑکی کے گھر کے بجائے ٹیگور کے آبائی مکان جورا سانگو (کلکتہ)میں ہوئی۔ جس کے بعد نیا جوڑا کدم باری کے گھر رہا۔ کدم نے دس سالہ ننھی دلہن کا خیال رکھا، پڑھایا لکھایا اور پھر وہاں کے اسکول لوریٹو ہاؤس کونوینٹ میں داخلہ بھی کرا دیا۔ اس شادی کے تین ماہ بعد ٹیگور نے اپنی نظموں کی کتاب چھپوائی۔ جو انہوں نے اپنی بھابی کدم باری کے نام انتساب کی۔ شاید شادی اور کتاب کا چھپنا جذباتی طور پہ کدم باری سے برداشت نہ ہو سکا۔ دو ماہ بعد ہی کدم باری نے افیون زیادہ مقدار میں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس کی عمر اس وقت پچیس سال تھی اور پندرہ سال کی شادی میں وہ کبھی ماں نہ بن سکی۔ ٹیگور اپنی اس عزیز ترین دوست کی موت کے اثر سے کبھی باہر نہ آ سکے۔ اجڑا آشیانہ کی چارو لتا کی زندگی کدم باری کی زندگی کا عکس ہے جس میں ٹیگور نے امل کا روپ دھارا۔
ایک طرح سے یہ افسانہ احتجاج تھا نہ صرف روایتی انداز میں جڑنے والے رشتوں کے خلاف، بلکہ اس مشینی رویے کی خلاف بھی جو بڑے شہروں کا خاصہ ہیں۔ جہاں دولت کی دوڑ میں انسانی لطیف جذبے کہیں بھلا دیے جاتے ہیں۔
احتجاج کی یہ آواز ہمیں کہیں زیادہ واضح طور پہ ان کے دوسرے افسانہ، بی بی کا خط، میں نظر آتی ہے۔ بی بی سے مراد یہاں بیوی ہے۔ یہ ایک بیوی مرنال کا خط اپنے شوہر کے نام ہے جو احتجاجا اپنے شوہر کے گھر کو چھوڑ دیتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ اس نا انصاف گھر کی فضا سے نکلنے کے بعد اس میں اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔ یہ افسانہ 1914 میں لکھا گیا گو ایک دھائی کی مدت اتنی لمبی نہیں لیکن اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ بحیثیت مجموعی پوری دنیا کے حالات بدل رہے تھے۔ مختلف تحریکوں نے جنم لیا اور پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے صورتحال نے تلاطم کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ عورتوں کی تحریک کو بہرحال جلا ملی اور امریکہ اور ہندوستان جیسی جگہوں میں تاریخ میں پہلی بار عورتوں کو ووٹنگ کا حق 1920 میں ملا۔ کم و بیش اسی زمانے میں لکھی کہانی بی بی کا خط عورتوں کی آزادی کی تحریک کا حصہ نظر آئی۔
اجڑا آشیانہ کے برخلاف یہ کہانی روایتی انداز کی بجائے فرسٹ فارم میں لکھی گئی ہے یعنی مرنال خط کی صورت میں اپنی زندگی کی راوی خود ہے۔ یہ خط جو مرنال نے شوہر کا گھر چھوڑ دینے کے بعد لکھا کہ جب اس میں اپنی ذات میں اعتماد، یقین اور حوصلہ پیدا ہوا، جبکہ اجڑا آشیانہ کی چارولتا شادی کے بندھن کو توڑے بغیر ہی محبوب کی یادوں کے اجڑے آشیانہ، خالی مکان سے ہی جڑی رہنا چاہتی ہے۔
مرنال نے اپنا گھر شادی کے پندرہ سال بعد احتجاجی طور پہ اس نا انصافی کے خلاف چھوڑا جو اس کے سسرال میں ایک کم سن، مجبور اور کم رو لڑکی بندو کے ساتھ روا رکھا گیا۔ حتی کہ اس کا انجام اس کی موت پہ ختم ہوتا ہے۔
اجڑا آشیانہ کے دھیمے سلگتے احتجاج کے مقابلہ میں مرنال کی طاقت کی شدت کو اس کے لفظوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مرنال ایک خوبصورت اور ذہین عورت ہے۔
میں حسین ہوں اسے بھولنے کے لیے تمہیں زیادہ دن نہ لگے لیکن میں عقل بھی رکھتی ہوں۔ یہ تم لوگوں کو قدم قدم پہ یاد آ جاتا۔
میری عقل کچھ ایسی نظری اور نمایاں چیز ہے کہ تمہارے گھر میں اتنے دنوں تک زندگی گزار کر بھی اسے قائم رکھ سکی۔ اپنے گھر میں صرف مرنال ہی بندو کو محبت سے رکھتی ہے اور اس کیضروریات کا خیال رکھتی ہے۔ بندو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد مرنال کے گھر رہنے پہ مجبور ہے۔ لیکن بندو کی موجودگی اس کے سسرال والوں کو اتنی بھاری اور شاق گزرتی ہے کہ اس کی شادی کم عمری میں ہی ایک دیوانے لڑکے سے کر دی جاتی ہے۔ باوجود کوششوں کے مرنال بندو کو دوبارہ اپنے گھر میں پناہ نہیں دے سکی۔ کیونکہ اس سے پہلے ہی بندو نے گھر سے بھاگ کر خود کشی کر لی۔ مرنال خط میں لکھتی ہے۔
تم لوگ بگڑ گئے۔ کہنے لگے کپڑے میں آگ لگا کر عورتوں کا خود کشی کرنا فیشن ہو گیا ہے۔ تم لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ناٹک ہے۔ ہاں ٹھیک ہے۔ مگر ناٹک کا یہ تماشا صرف بنگالی عورتوں کی ساڑھیوں سے ہی کیوں کھیلا جاتا ہے۔ بنگال کے جوان مردوں کی دھوتی سے کیوں نہیں کھیلا جاتا۔ یہ بھی سوچنا چاہیے۔ صفحہ 404 (اکیس کہانیاں)
پھر مرنال بندو کی موت کے بارے میں لکھتی ہے۔
اگرچہ اس نے ایک بدبخت انسان کے روپ میں جنم لیا تھا لیکن اپنے تئیں وہ اس سے برتر ثابت کر گئی۔ تم لوگوں کے پاؤں اتنے لمبے نہیں کہ برابر اپنی مرضی اور دستور کے مطابق اس کی ساری زندگی کو اپنے پیروں تلے کچل سکتے۔ موت تم لوگوں سے بڑی ہے۔
مرنال سے بندو کا جو رشتہ تھا ناقدین نے اسے کدم باری (ٹیگور کی بھابی)اور اس کی بیوی سے مماثلت قرار دیا ہے۔ کدم باری نے غریب گھرانے کی کم رو دس سالہ لڑکی کو بہت محبت سے اپنے گھر رکھا اور اعتماد دیا۔ اس وقت کدم کی عمر پچیس سال کی تھی۔ مرنال کی طرح وہ بھی ذہین اور خوبصورت تھی۔
کدم باری نے خود کشی کی لیکن مرنال نے ظلم کی دنیا کو خیر آباد کہہ کر نئی زندگی کا آغاز کیا۔
آج باہر آ کر پتہ چلا کہ میری کچھ اور ہی شان ہے۔ جس حسن کی دنیا میں قدر ہوئی وہی حسن جسے پسند آیا ہے۔ وہی منبعِ حسن آسمانوں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔ اب تو منجھلی بہو مر چکی۔ صفحہ 407 (اکیس کہانیاں)
اپنے خط کا اختتام مرنال اس طرح کرتی ہے۔
اسی طرح اپنی دھن میں لگا رہنا ہی زندگی ہے۔ میں بھی زندہ رہوں گی۔ لو میں جی اٹھی۔
تمہارے قدموں کی عنایت سے بے نیاز
مرنال
صفحہ 407 (اکیس کہانیاں)
کتاب اکیس کہانیاں میں چھپی ان دو اہم کہانیوں اور مزید کہانیوں کو پڑھنے والے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ٹیگور نے کتنی دردمندی اور صدقِ دل سے سماج کی بہتری اور بطورِ خاص عورتوں کو ان کا جائز مقام دلانے کے لیے اپنے قلم سے جنگ لڑی۔ آج ٹیگور کے انتقال کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی ان کہانیوں کی مقبولیت اور ان کے تخلیقی کام پہ تحقیق اس بات کی علامت ہے کہ ٹیگور نے نہ صرف اپنے زمانے بلکہ آنے والے عہد کو بھی کتنا متاثر کیا۔ بلاشبہ ان کی کہانیاں بطورِ خاص عورتوں کی بیداری کی تحریک کے حوالے سے انسانیت کے لئے گرانقدر تحفہ ہیں۔
۔


