شاہ رخ اور ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر اعتراض کیوں؟


ریمنڈ ڈیوس کو دیت لے کر رہا کر دیا گیا۔ بہت شور مچا کہ قوم کی غیرت کا سودا ہو گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جج نے ملکی قانون کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہیں کیا تھا؟ ورثا نے دیت لی، معافی نامے پر عدالت میں دستخط کیے، اور ریمنڈ ڈیوس بری ہو گیا۔ اب شاہ زیب کے قاتل شاہ رخ جتوئی کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ عدالتی بیان کے مطابق مقتول کے ورثا نے خدا کی راہ میں قاتل کو معاف کر دیا ہے۔ دوسرے ذرائع لمبی چوڑی رقوم دیت میں لئے جانے کا بتا رہے ہیں۔ لیکن وجہ جو بھی بنی ہو جج نے قانون کے مطابق شاہ رخ جتوئی کو رہا کر دیا ہے۔ تو پھر ان دونوں مقدمات پر اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟ شور مچانے کی ایک معقول وجہ ہے۔

درست استعمال کیا جائے تو دیت ایک اچھا قانون ہے۔ مقتول کا گھر تو تباہ ہو ہی گیا ہے مگر خیر کا پہلو دکھائی دے اور قاتل معاشرے کا ذمہ دار شہری بننے پر آمادہ ہو تو اس کا گھر تو بچایا جائے۔ لیکن یہ قانون ایک وسیع اسلامی نظامِ عدل کا حصہ ہے۔ اس نظامِ عدل کی نشاندہی حضرت صدیق اکبرؓ نے خلیفہ بنتے ہی اپنی پہلی تقریر میں کی تھی۔ ”تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں۔ اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں۔ “

اب دیت کا قانون تو نافذ کر دیا گیا ہے، مگر اس کے پیچھے وہ حکمران نہیں ہے جس کے نزدیک کمزور مظلوم قوی ہو اور ظالم کمزور ہو۔ اب ہوتا یہ ہے کہ طاقتور ظالم پہلے تو کسی کو قتل کرتا ہے، اس کے بعد اس کے ورثا کو کہتا ہے کہ تم نے اپنی جان اور عزت بچانی ہے یا اس سے بھی ہاتھ دھونے ہیں۔ خواہ ریمنڈ ڈیوس کا کیس ہو یا شاہ رخ جتوئی کا، یہ سب دیت یا دھمکی دے کر بچ جاتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اسلامی نظام تو نافذ نہیں کرتے لیکن اسلامی سزائیں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چور کا ہاتھ کاٹنے کے آرزو مند ہیں۔ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ چوری کے اسباب ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ حضرت عمرؓ نے شہریوں کی بھوک ختم کرنے کی ذمہ داری ریاست کے سر پر ڈالی تھی۔ انسان کیا وہ تو فرات کے کنارے بھوکے کتے کی بھوک نہ مٹانے پر خوف خدا سے کانپتے تھے۔ چند غلام ایک اونٹ چوری کر کے کھا جاتے ہیں۔ مقدمہ حضرت عمرؓ کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ ان غلاموں کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے۔ ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خلیفہ راشد کہتا ہے کہ سزا تو ان غلاموں کے مالک کو ملنی چاہیے جو ان کو کھانا نہیں دیتا اور وہ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری کرنے پر اتر آئے ہیں۔ کیا ہم نے اپنے ملک میں بھوک ختم کرنے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے ہیں۔ ہم دیت کے بدلے قاتل کو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ مقتول کے ورثا راضی خوشی خدا کی راہ میں قاتل کو معاف کر رہے ہیں یا خود مقتول ہونے سے ڈر کر چھوڑ رہے ہیں۔

ریاست ظالم کے ساتھ کھڑی ہے۔ لیکن طاقتور کے چھوٹنے کی وجہ صرف دیت کا قانون نہیں ہے۔ لاہور میں دن دیہاڑے زین قتل ہوتا ہے، مصطفی کانجو اور اس کے گارڈ نامزد ہوتے ہیں۔ زین کی بیوہ ماں سپریم کورٹ میں کھڑی فریاد کرتی رہ جاتی ہے کہ میں کمزور ہوں اور میری دو جوان بیٹیاں ہیں، میں ان طاقتوروں سے نہیں لڑ سکتی۔ مقتول کا ماموں اپنے بیان سے مکر جاتا ہے۔ چار گواہ دن کی روشنی میں سرعام قتل کرنے والوں کو پہچاننے سے معذور دکھائی دیتے ہیں۔ قاتل باعزت بری ہو جاتے ہیں۔

جب قتل کے مقدمات انیس انیس برس تک چلیں گے تو کیا ہو گا؟ قاتل اگر بدمعاش ہے تو پھر یکے بعد دیگرے گواہ مکرنے لگیں گے۔ جو مکرنے سے انکار کریں گے وہ مرنے لگیں گے۔ ثبوت مٹی ہو جائیں گے۔ آخر میں جج عین قانون کے مطابق گواہوں اور ثبوتوں کی غیر موجودگی کا عذر لے کر قاتل کو چھوڑنے پر مجبور دکھائی دے گا۔

بہتر یہ ہے کہ دیت کا قانون اس وقت تک کے لئے یا تو منسوخ کر دیا جائے یا معطل کر دیا جائے جب تک کہ ہمیں ایسا حکمران نہ نصیب ہو جائے جس کے نزدیک کمزور مظلوم طاقتور ہو اور بدمعاش ظالم کمزور ہو۔ اس صورت میں ریاست مدعی ہو گی اور قاتل کو معاف کرنے کی ذمہ داری صدر کو اٹھانی پڑے گی جسے بدمعاشوں سے نہ تو اپنی جان کا خوف ہے اور نہ ہی عزت کا۔ لیکن اس صورت میں بھی نظام عدل کی سستی کی وجہ سے گواہ غائب یا منکر ہوتے رہیں گے۔ اس کا کوئی حل کسی بابے کے پاس ہو تو بتائے کہ کیسے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سیشن کورٹ سے ایک مہینے اور سپریم کورٹ کی اپیل تک چار مہینے میں ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar