نجمہ کی کہانی


بچپن میں جب بھی ویکیشن ہوتیں ہمارے گھر والے شہر آجاتے شہر میں ہمارا گھر اصل شہر سے نسبت دورہی تھا۔ یہاں شہر والی چہل پہل شورو غوغا کوئی منظم بازار یا اس وقت کی مقبول تفریح سینما تک نہ تھا۔ ہماری آپائیں ناراض ہوتیں یہ کوئی شہر ہے بھلا۔ خاموش چپ چاپ بنگلے بھی لائین میں نہ تھے اکثر پلاٹ خالی تھے۔ ہمارے گھر کے سامنے سے سڑک ایک گاؤں کو جاتی تھی کبھی کبھار کوئی گاڑی گزرتی ورنہ تو ہم سب سڑک کے بیچوں بیچ ہی کھیل رہے ہوتے تھے۔ گھر کے سامنے ہی ایک اجاڑ میدان تھا جہاں اب ایک بہت بڑی کالونی بن گئی ہے۔

ہمارے گھر سے کوئی تیسرے نمبر پر ہی ایک گیراج تھی جہاں وہ لوگ ہر وقت کام میں مگن معلوم دیتے تھے یہی وجہ تھی کے گاؤں سے رشتے دار بچے آنے کے بعد ہم لوگ کچھ زیادہ ہی تحرک میں آجاتے۔ گیراج سے بچے اتنی خاموشی سے ایک ایک کرکے پڑے ہوئے وھیل چرا کر آتے کے ان لوگوں کو کانوں کان خبر تک نہ ہوتی کھسکائے ہوئے آگے لے جاتے سڑک پر دوڑائے جاتے۔ میں بہت چھوٹی تھی کار کا وھیل مجھ سے بڑی مشکل سے اٹھایا جاتا تھا پر کسی طرح گھسیٹ لاتی تھی پر چلایا نہیں جاتا تھا سو ایک طرف رکھ کر اس پر بیٹھ جاتی تھی اور حسرت سے بڑے بچوں کو دیکھتی رہتی۔ گیراج والوں کو کچھ دیر میں پتہ لگ ہی جاتا تھا وہاں سے کوئی بھاگتا آتا تو سب بچے وھیل چھوڑ کے اندر کو بھاگتے بالاآخر انہوں نے بابا سے شکایت کی تو ڈانٹ ڈپٹ سے یہ مشغلہ کھٹائی میں پڑگیا۔

میں بہت شرارتی بچی تھی جس کی وجہ سے امی نے ہماری رشتے دار لڑکی کو میرے پیچھے لگا رکھا تھا۔ وہ موٹی چوٹی والی لڑکی میری حرکتوں پہ نظر رکھتی اور امی کو رپورٹ دیتی رہتی تھی۔ اس کا نام نجمہ تھا۔ میں نجمہ سے بہت تنگ تھی وہ کوئی بھی کام مجھے آزادنہ نہیں کرنے دیتی تھی۔ میری عادت تھی کہ دیوار پر اٹکل سے چڑھ جاتی تھی گیٹ پر چڑھ کر سائیڈ والے بنگلے میں کھڑے پپیتوں کے درخت میں پتھر مارکر گرانے کی کوشش کرتی۔ پڑوس سے شکایت آنا معمول تھا۔ یہ سارے معاملات نجمہ کی نظر میں تھے۔ خاص طورپر فنس کے ڈبوں سے کھیلنے کا عشق تھا جہاں بھی چھپائے جاتے میں ڈھونڈ نکالتی جیسے وہ ایک کام وہ چھڑواتی تو ویسا ہی دوسرا کرنے لگتی تھی۔

مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی اصل پانی پت کی لڑائی غسل خانے میں ہوتی کہ نجمہ کھینچ کھانچ کے مجھے نہلاتی میں اس کے منہ پر پنجے مارتی بالوں کو پکڑ کر کھینچتی تھی۔ ایسے حالت میں بھی وہ گانا گاتی رہتی جو وہ اکثر گاتی تھی۔ جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا۔ مجھے صابن لگاتے ہوئے۔ شدت غم سے آشنا ہوکر اپنے محبوب سے جدا ہوکر جب کوئی ستارا ٹمٹمائے گا۔ وقت کے ساتھ میں سمجھدار ہوگئی نجمہ کی کہیں شادی ہوگئی کچھ ہی سالوں میں پتہ لگا نجمہ بہت بیمار ہے۔ پھر پتہ لگا وہ کالے یرقان کے آخری اسٹیج پہ پہنچ گئی ہے۔ اس کا آخری وقت بغیر دیر کے پہنچ گیا تھا۔ یادوں کی بارات جب بھی ڈھول پیٹتی آتی ہے تو میں یوٹیوب پر یہ گانا لگاکے دیکھتی ہوں۔ جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا۔

Facebook Comments HS