اے قائد اعظم تیرا، احسان ہے احسان

ہر سال پچیس دسمبر کو ہم دھوم دھام سے بابائے قوم کا یوم پیدائش مناتے ہیں۔ کیوں نہ منائیں اس ہستی نے ہمیں ایک ملک دیا جس میں ہم نے خوب ہلا مچا رکھا ہے۔ ابا کے مرنے کے بعد جس طرح جوان اولاد بیوہ ماں کے سامنے سینہ تان کر ابا کے مکان کے بٹوارے کا مطالبہ کرتی ہے اسی طرح ہم میں سے کئی نے بھی یہ مطالبہ کیا۔ بیچاری اماں کیا کرتی ننگے سر تو تھیں لیکن کبھی کبھی سر اٹھا کر بیچارگی سے اوپر نیلی چھتری والے کو دیکھ لیتیں تو بے لگام اولاد کی زبان پر وقتی قفل پڑتا جو پھر کچھ دنوں بعد کھل جاتا۔ اسی توتو میں میں، میں ستر سال گزر گئے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ منچلے نوجوان کچھ کرسمس کے جوش میں تو کوئی چھٹی کے زور پر مزار پر حاضری دے دیتے ہیں۔ جو زیادہ پر جوش ہو خود کو اسپائیڈر مین تصور کرتے ہوئے مزار کی دیوار پر مکڑی کی طرح چڑھنے دوڑنے لگتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے بابا کو سلامی دینے جاتا ہے کہ بڑے صاحب آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے ایسا وطن دیا جہاں ہمیں کھلی چھوٹ ہے جب دل چاہے سڑک بند کردیں، جب دل چاہیں استعفی کے لئے شہر بند کردیں، جب دل چاہے فتوی دے کر کافر، تو غدار قرار دے کر نظر بند کردیں۔
آزادی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ مسجد میں بیٹھا ملا بھی لاؤڈ اسپیکر پر نفرت انگیز خطبہ دے ڈالتا ہے تو کوئی لیڈر مائیک پر پاکستان کے خلاف نعرے لگوادیتا ہے۔ جب کسی بڑی مچھلی کو پکڑا جائے تو عدالت کے سامنے اس کے حامی ڈگڈی بجا کر بندر ناچ شروع کردیتے ہیں تو کوئی ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا پر توپوں کے دہانے کھول کر سمجھتا ہے کہ اس نے 1965 کے بعد کا سب سے بڑا ٹینکوں کا محاز جو چونڈہ میں کھلا تھا یہاں کھول لیا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس کی آواز آتی ہے اور اردگرد کی گاڑیوں کے اسٹرئینگ وہیل کو تھامے معزز حضرات کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ جاہل لوگ کہیں کے، یہ ملک رہنے لائق ہی نہیں ہے، فریڈم نام کو نہیں ہے یہاں، مسائل بے شمار، وسائل محدود اس سے اچھا ہے آدمی کہیں باہر سیٹل ہوجائے۔
بات تو درست ہے آپ کی، آپ کا یہاں رہنا بنتا بھی نہیں۔ آپ نے کیا ہی کیا ہے؟ بنا بنایا مکان مل گیا نہ اس کا کرایہ دینا ہے، نہ کوئی مرمت کروانی ہے۔ ابا کی جو جاگیر تھی ویسے بھی پرانے کھنڈر مکان کو لیپا پوتی کرنے سے نقص تھوڑی نہ چھپ جانے اس کا واحد حل یہی ہے کہ گھر کو چھوڑئیے نکلتے بنئے۔ لیکن سنیں؟ آپ جائیں گے کہاں؟ کوئی دوسرا گھر ہے نظر میں؟ اتنے پیسے ہیں کہ وہاں عیش سے رہ سکیں؟ سنا ہے بدیس میں تو کتے کو بھی گھورو اور وہ ہراساں ہوکر بھونک دے تو مالک جرمانہ کردیتا ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ وہاں سڑک ہو یا دفتر، عمارت ہو یا بس اسٹاپ اس کے اطراف تھوکنے کی بھی اجازت نہیں۔ لمبی لمبی گاڑیوں کی قطار بھی ہو تو ہارن بجانے کی ممانعت ہے۔ تنخواہ آتے کے ساتھ ہی ٹیکس پہلے کٹ جاتا ہے۔ بڑا نپا تلا حساب کتاب ہوتا ہے۔ سخت موسم میں بھی آٹھ گھنٹے سے بھی زیادہ اوقات میں کام کرنا پڑتا ہے گھر کا ہر فرد کمانے گھر سے باہر نکلتا ہے۔ ڈگری اصلی ہی چلتی ہے، پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے کہ کہیں اس ملک کا اصل باشندہ خفا نہ ہوجائے، اول تو بینک بیلنس بنتا نہیں اور اگر غلطی اور قسمت سے بن جائے تو اثاثے ظاہرکیے بناءگزارا نہیں، چھپالو تو حوالات سے باہر آنے کا چارہ نہیں۔ ایمبولینس کی لین میں جلدی کے باوجود گاڑی چڑھانے کی اجازت نہیں۔ مر جاؤ تو کفن اور دو گز زمین کا خرچہ بھی اتنا ہی جتنے میں اس ملک میں اچھا کارنر کا کمرشل پلاٹ مل جاتا ہے۔ ٹچ ٹچ ٹچ، مطلب یہ آپشن تو فیل ہوگیا۔ اب اگلا کیا ہے؟ چلیں آپ سوچیں آپ سے اگلے پچیس دسمبر تک ملتے ہیں امید ہے کہ آپ کو تب تک آپ کے معیار کا گھر مل چکا ہو۔
آپ ذرا بتائیے گا، جی آپ وہ جو سب سے زیادہ ٹی وی پر ائیر ٹائم لیتے ہیں، سنا ہے آپ کو اس ملک کے سسٹم سے بڑی شکایت ہے۔ سوال یہ تھا کہ سسٹم بنایا کس نے؟ اسے ٹھیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ آپ تو پہلے یہ ہی طے نہیں کر پائے کہ ملک کو آئین دینا ہے تو کیسا؟ زبان بنگالی رکھنی ہے یا اردو؟ مجیب الرحمن کو 160 سے زائد نشستوں کے باوجود قبول کرلیا تو بنگالی برتر نہ ہو جائیں۔ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تو غدار نہ کہلادیے جائیں، ملک میں سیکولر نظام ہو یا اسلامی، دارالحکومت کراچی ہو یا اسلام آباد؟ سجدہ امریکہ کو کریں یا سوویت یونین کو، اپنی جنگ لڑیں یا باڑے کے سپاہی بن کر کمائی کرلیں۔ او ہاں یاد آیا! اس ملک پر تو فوج کا راج ہے، تو صاحب فوج کو یہ راستہ دکھایا کس نے؟ کس احمق نے بتایا تھا کہ جمہورہت میں آمریت کے امرت کی آمیزش کریں تو جام زیادہ مزہ دے گا؟ گھر کی فصیل اور د روازے کی حفاظت پر مامور کو جب کمرے میں چھپائے پوشیدہ خزانے کی چابیوں کا گچھا پکڑا کر آپ یہ کہیں کہ مجھے تجھ پر بھروسہ ہے پر اپنے گھر کے نظام چلانے والوں پر نہیں تو قبضے کا شکوہ کیسا؟ ملک کے سیاسی اور فوجی ادوار پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم پڑتا ہے سب کی کہیں نہ کہیں نانی ایک ہی ہے۔ معذرت اگر برا لگا چلیں سب ایک ہی تھالی میں پڑی مکس سبزیاں ہیں۔ جو پک کر ویسے بھی ذائقہ ایک ہی دینے لگتی ہیں۔
کبھی کبھی تو مجھے یہ ملک اجمیر شریف کی لنگر کی دیگ سا محسوس ہوتا ہے جس میں اس ملک کے غریبوں کے کھانے کو اتنا کچھ ہے کہ ستر برسوں میں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کسی نے لندن، فرانس تو سعودیہ میں جائیداد بنالی تو کسی نے کم عمری میں ہی بچے اربوں پتی بنا لئے، تو کسی کی حلال تو کسی کی حرام آف شور کمپنیاں ہیں، اور تو اور یہ محنتی اتنے کے اقامے بھی رکھتے ہیں اور برادر ملکوں میں بھی محنت کش ہیں، سادے اتنے کہ کوئی بنی گالہ کی کئی سو ایکٹر زمین لئے بیٹھا ہے تو کوئی گاڑی کے بجائے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کے باوجو د اس ملک کی عوام کو سادگی کے درس دیتا ہے۔ اس دیگ سے اتنے مفلس و اسیر سیاستدان اور غریب و معصوم جرنیل فیضیاب ہوئے ہیں کہ مزار کی اب گدی نشینی کے جھگڑے طوالت پکڑ چکے۔
ایسے میں روز ان تماشوں میں بڑے بابا کے مزار کی روشنیاں رات گیارہ بجے مدھم ہوتی ہیں اور پھر بارہ بجے تاریکی میں ڈوب جاتی ہے، پچیس دسمبر کا سورج چڑھتے ہی باجا زور سے بچتا ہے، بوٹوں والوں کے سر سیڑیوں کے پیچھے سے نمودار ہوتے ہیں، سال بعد ڈرائی کلین کی ہوئی شیروانیاں زیب تنکیے، مشیروں سے رٹے رٹائے چند جملے کاغذ پر لکھ کر زبردست پروٹول میں جھنڈے والی گاڑیوں میں بیٹھے وزیر، گورنر، وزیر اعلی تو کاندھوں پر چاند ستارے سجائے اس ملک کے رکھوالے مزار کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ کیمرے قطار در قطار، لائیو کٹ کرو کی چنگاڑ کے درمیان ہی میں ایک دھن سنائی دیتی ہے اور پھر ٹامک ٹوئیاں کرتے ہاتھوں میں پھولوں کی چادر اٹھائے چند باضمیر، وطن کی محبت اور خدمت سے سرشار، بے تاثر چہرے لئے چند شخصیات جناح کی قبر پر پھول رکھتی ہیں، کیمرے آن ہوتے ہیں اور ہر سال کی طرح سنا سنا سا جملہ سماعت سے ٹکرا تا ہے۔ یہ ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد ملا ہے اس کی حفاظت اور آزادی کی قدر کرنے کی ذمہ داری اب ہمارے کاندھوں پر ہے۔ ہم آج جہاں بھی کھڑے ہیں اس ہستی کی بدولت ہیں جس نے ہمیں یہ ملک دیا۔ ہم تاقیامت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان نہیں چکا سکتے۔ جن کی وجہ سے آج ہم اور آپ اس آزاد وطن میں سانس لینے کے قابل ہوئے ہیں۔ بہت بہت شکریہ۔
جلدی سے ٹکرز دو، میرا بیپر کراو، او رپور ٹر فون پر ڈیسک سے مغز ماری میں لگ جاتا ہے، بلیٹن شروع ہونے سے قبل کہیں سے نغمے کے بول سنائی دیے۔
لڑنے کا دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ، نہ بندوق، نہ تلوار، نہ بھالا
سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
جناح تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
رات کے گیارہ بجنے والے ہیں تاریخ بدلنے میں اب ایک گھنٹہ ہی باقی ہے مزار قائد کے اطراف اب گہرا سناٹا ہے صبح جو رونق تھی اب وہ ماند پڑ چکی، رات کی تاریکی میں اب کچھ ڈھونڈنے سے بھی کچھ ملنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں ایک آواز مزار کے اندر سے سنائی دیتی ہے آہ! کوئی رہ گیا ہے یا ابھی اور بھی کسی نے آنا ہے؟ اندھیرا کردو میں اب کچھ دیر اور سونا چاہتا ہوں، امید ہے کہ اگلے برس کچھ تبدیل پاوں۔
سدرہ ڈار، کراچی
(نیو نیوز میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، سیاسیات کی طالبہ، صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں)

