باچا خان یونیورسٹی کا نام سید مودودی یونیورسٹی رکھا جائے
اے این پی کے گڑھ چارسدہ میں اے این پی کے دور میں بنائی گئی باچا خان یونیورسٹی کا ایک نوٹیفیکیشن قابلِ توجہ ہے۔ یہ یونیورسٹی اے این پی نے بنائی ہے تو ہمارا گمان یہی تھا کہ انہوں نے ہی یہاں کا سٹاف بھی بھرتی کیا ہو گا جو یہاں لبرل خیالات کا پرچار کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کر ڈالے گا۔ لیکن شکر ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں دیسی لبرل کی بجائے صالحین اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے محبت کی جاتی ہے۔ جون میں اس حکومت نے ڈاکٹر ثقلین نقوی کو باچا خان یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کر دیا۔
گو کہ جولائی میں کچھ اڑچن پڑی تھی جس کے نتیجے میں نومبر میں ان کی تعیناتی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دے ڈالی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے 13 نومبر 2017 کو خبر لگائی تھی کہ یونیورسٹی کے ایک ملازم شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ثقلین نقوی کی تعیناتی غیر قانونی ہے کیونکہ وہ پیر مہر علی شاہ بارانی یونیورسٹی میں اپنی گزشتہ تعیناتی کے دوران ایک طالبہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کے جرم میں سزا یافتہ ہیں۔ خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ثقلین صاحب نے وفاقی محتسب کی سزا کو لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔
اب گیارہ دسمبر 2017 کو باچا خان یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کر کے یونیورسٹی کے گندے بچے بچیوں کو پہلی اور آخری وارننگ دے ڈالی ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کو دیکھ کر آپ خود فیصلہ کر لیں کہ زنانہ مردانہ میل جولے کے معاملے میں وائس چانسلر صاحب کتنے سخت ہیں۔ چیف پراکٹر ڈاکٹر شکیل کے اس نوٹیفیکیشن کے پانچ نکات کچھ یوں ہیں:
1۔ یونیورسٹی کی حدود میں سموکنگ پر پابندی ہے
ہم نے یہ نوٹ کیا ہے کہ طلبا کی گمراہی کا پہلا قدم سگریٹ سلگانے سے ہی اٹھتا ہے۔ اس کے بعد وہ سوال بھی اٹھانے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ کہ وہ نیک اساتذہ کی تقلید کرنے کی بجائے کتابوں سے پڑھے اور خود سوچے ہوئے نت نئے خیالات کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ طلبا کو سگریٹ سے دور رکھا جائے تو وہ برے خیالات سے بھی بچ جائیں گے۔ حکما کہہ گئے ہیں کہ گربہ کشتن روز اول۔ یعنی بلی کو پہلے دن ہی مار دو۔
2۔ یونیورسٹی کے طلبا اور ملازمین کے لڑکیوں کے ساتھ فالتو بیٹھے رہنے یا گھومنے پھرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ گو کہ قانونی طور پر پاکستان میں 18 برس یعنی تقریباً تھرڈ ائیر کے طلبا کو اتنا زیادہ بالغ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ان کو خود سے شادی بیاہ کرنے اور قوم کا لیڈر چننے کا اہل سمجھ لیا جاتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے 18 سے 24 برس کے نوجوان لڑکے لڑکیوں اور نہایت عمر رسیدہ ملازمین کو اس بات کا اہل بھی سمجھ لیا جائے کہ وہ خود سے فیصلہ کر سکیں کہ انہیں کس سے ملنا جلنا چاہیے یا بات کرنی چاہیے۔ ریاست اگر کوئی غلط قانون بنا بیٹھی ہے تو اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے تین چار سو ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹ، یونیورسٹی کے چیف پراکٹر سے زیادہ عقلمند ہیں۔
3۔ طلبا کو تمام عمارات بشمول ہوسٹل کی چھت پر جانے سے منع کیا گیا ہے۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یونیورسٹی کا سٹاف بلیو وہیل گیم کھیلتا رہا ہے اور جانتا ہے کہ اس بھیانک گیم کا آخری چیلنج یہی ہوتا ہے کہ بچہ یونیورسٹی کی چھت سے چھلانگ لگا دے۔ اس لئے طلبا کو چھت پر جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔
4۔ چادر استعمال کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
کوتاہ بین حضرات اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ چادر اور چار دیواری کے تقدس اور رواج کے خلاف ہے اور طالبات کو چادر استعمال کرنے سے روکنا غلط ہے۔ مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ چیف پراکٹر صاحب یہ چاہتے ہیں کہ طالبات چادر کی بجائے شٹل کاک برقع استعمال کریں۔ چادر اٹھتے بیٹھتے نہ صرف ڈھلک جاتی ہے بلکہ ہوا کے دوش پر اڑ بھی سکتی ہے۔ یوں طالبات اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز کرنے کی بجائے سارا وقت چادر کے بارے میں پریشانی کا شکار رہتی ہیں۔ شٹل کاک برقع پہننے والی طالبات کو ایسی کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ علاوہ ازیں وہ کسی بورنگ لیکچر کے دوران تروتازہ ہونے کی خاطر کسی کے نوٹس میں آئے بغیر ایک جھپکی بھی لے سکتی ہیں۔
5۔ آخری پوائنٹ میں کچھ الجھن کا امکان ہے اس لئے پہلے اسے اسی انگریزی میں لکھتے ہیں جو چیف پراکٹر ڈاکٹر شکیل صاحب نے استعمال کی ہے، اس کے بعد اس کی تشریح کی کوشش کرتے ہیں۔
Rigging/fooling with new students
کوئی بھی ذی شعور شخص کوئی لفظ سمجھ میں نہ آنے کی صورت میں کسی مستند لغت سے رجوع کرتا ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ”رِگ“ کا مطلب یہ لکھا ہوا ہے
الف: کوئی چیز یا ڈیوائس یا ڈھانچہ نصب کرنا، عموماً عارضی طور پر یا جلدی میں۔ مثلاً فلاں نے ایک طرح کا تنبو رگ کر دیا (تان دیا)۔
ب: کسی شخص کو کوئی خاص قسم کے کپڑے فراہم کرنا۔
دوسرے لفظ فولنگ کا مطلب یہ لکھا ہے کہ کسی کو دھوکہ دینا۔
اب صاف ظاہر ہے کہ چیف پراکٹر صاحب کی منشا یہ ہے طلبا کو اس بات سے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں تنبو نہ تانیں اور یونیورسٹی کی حدود میں غیر قانونی تعمیرات سے گریز کریں۔ نیز طلبا و طالبات کو اس بات سے بھی منع کیا جا رہا ہے کہ وہ نئے طلبا و طالبات کو خاص قسم کے کپڑے فراہم کرِیں۔ اسی طرح پرانے خلیفہ قسم کے طلبا کو اس بات سے بھی منع کیا جا رہا ہے کہ وہ معصوم نئے طلبا کے ساتھ کسی قسم کا دھوکہ اور فراڈ کریں۔ شمالی امریکی انگریزی میں تو فول اراؤنڈ کا ایک ایسا مطلب بتایا جا رہا ہے جس کے لئے اردو میں بھی ایک برا سا لفظ ہے تو ہم وہ نہیں بتائیں گے۔
ہم رگنگ کا مطلب تلاش کر رہے تھے تو ایک صاحب کہنے لگے کہ چیف پراکٹر صاحب کا اشارہ rigging نہیں بلکہ یونیورسٹی میں ہونے والی ریگنگ ragging کی طرف ہو گا۔ ریگنگ کا مطلب ڈکشنری میں یہ لکھا ہے کہ تفریح لیتے ہوئے کسی کا زور شور سے مذاق اڑانا۔ ہماری رائے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ چیف پراکٹر ڈاکٹر شکیل صاحب کو ان دو بالکل متضاد الفاظ میں فرق کا علم نہ ہو اور وہ ایک آفیشل نوٹیفیکیشن میں جو وائس چانسلر سے لے کر تمام طلبا کو بھیجا جا رہا ہے، ایسی غلطی کریں۔ اس لئے ہم ان صاحب کی اس غلط فہمی کو جرنیلی انداز میں ریجیکٹ کرتے ہیں۔
بہرحال یہ سب نہایت ہی اچھے اقدامات ہیں۔ اس سے پہلے طلبا کو اتنا زیادہ نیک بنانے کا فریضہ صرف پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ نہایت زور و شور سے سر انجام دیتی رہی ہے۔ اب سابق ناظم اعلی جناب سراج الحق کے پختونخوا کی حکومت میں آنے کے بعد سرکاری طور پر بھی پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل کو صالح بنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔
ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ سراج الحق صاحب اپنے حکومتی اتحادی عمران خان صاحب کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اس یونیورسٹی کا نام سرخ لبرل سیکولر نظریات والے باچا خان جیسے لیڈر کی بجائے جماعتی نظریات کے بانی سید مودودی کے نام پر سید مودودی یونیورسٹی بھی رکھ دیں تاکہ آخری تنکا بھی رکھا جائے۔




