حساب تو آخر ہونا ہی ہے


اس واقعے کے بعد وہ خاموش رہنے لگا ۔ وہ ڈپریشن میں چلا گیا اس کو خواب میں بھوک سے بلکتے بچے نظر آنے لگے وہ پشیمان تھا کہ اس کا پیشے سے وابسطہ جنون انسانیت سے آگے کیسے نکل گیا۔ اس واقعے کے بعد 33 سال کی عمر میں کیون کارٹر نے نہایت عجیب طریقے سے خودکشی کرلی۔ وہ اپنے گھر کے پاس اسی میدان میں گیا جہاں وہ اکثر بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنی کار کے سائلنسر میں ایک ٹیوب فکس کی اس ٹیوب کو ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لایا تمام کھڑکیاں دروازے بند کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کردی گاڑی میں دھواں بھرنا شروع ہو گیا اور اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی خود کشی سے قبل کیون کارٹر نے تاریخی الفاظ میرے اور آپ کے لئے چھوڑے
“ میں بہت شرمندہ ہوں زندگی کا درد اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب خوشی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔ میں شدید ڈپریشن کا شکار ہوں۔ میرے پاس کچھ نہیں بچا میں اپنا فون تک بیچ چکا ہوں بل بھرنے کے پیسے تک نہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر بچوں کی جان بچانے کے لئے اب میرے پاس رقم نہیں ہےاور بھوکے زخمی مرتے ہوئے بچے۔ لاشیں۔ یہ سب یادیں مجھے بے حد تنگ کرتی ہیں اب مجھے جانا ہوگا ”
یہ ایک کہانی نہیں تھی پیشے اور انسانیت کے بیچ اس طرح کے لاتعداد واقعات بھریں ہیں جو فوٹو جرنلزم سے منسلک ہیں
اسی طرح امریکی اخبار نیو یارک میں 2012 میں ایک ایسے شخص کی تصویر شائع کی گئی جسے ریل کی پٹری پر دھکا دیا گیا اور ریل نے اسے کچل دیا۔ جرنلسٹ نے یہ منظر کیمرے میں قید کیا پر ایک انسانی جاں ضائع ہو گئی۔
اس بات کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کے صحافی کے کاندھوں پر بہت ذمہ داریاں ہوتی ہیں مگر کوئی بھی پیشہ انسانیت اور خدمت خلق سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ وقت گزر جاتا ہے ہم اپنے پیشہ میں جو کامیابی حاصل کرنا چایتے ہیں وہ بھی پا لیتے ہیں۔ مگر پھر ایک وقت آتا ہے کبھی ضمیر کے جھنجوڑنے کے نام پر اور کبھی حساب کے نام پر۔ ضمیر کی پکڑ ہو یاللہ کے حساب کا وقت۔ جب آن پڑتا ہے تو کوئی جائے فرار نہیں ملتی۔ سکون کی کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ہر شخص جو کسی بھی ذمہ داری پر فائز ہو اس کو اپنے پیشے وارانہ فرائض اور خدمت خلق کے درمیان فرق کو سمجھنا آنا چائے
ایک حکمران کو اپنی رعایا کے ساتھ انصاف میں، لوگوں کو آپس کے تعلقات میں ، انسان کوہر حالت میں فکر کرنی چائے اس پکڑ کی۔

