بھارت نے پاکستان پر زنانہ جوتے چوری کرنے کا الزام لگا دیا


آج بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ کو ان سے ملاقات کروانے کے لئے اسلام آباد میں دفتر خارجہ لایا گیا۔ ملاقات سے پہلے سکیورٹی پروٹوکولز کی تکمیل کے لیے کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کا لباس تبدیل کرایا گیا اور ان کے چہرے دھلوائے گئے۔ جس کے بعد انھیں دفترِ خارجہ کے آغا شاہی بلاک کے پیچھے کنٹینر میں لے جایا گیا جہاں کلبھوشن جادھو موجود تھے۔ اس ملاقات کے بعد یہ دونوں خواتین واپس ہندوستان چلی گئیں اور بھارتی وزارت خارجہ نے ترنت پاکستان پر ان کے جوتے چوری کرنے کا الزام لگا دیا۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سکیورٹی کے نام پر کلبھوشن کی ماں اور بیوی کے مذہبی اور ثقافتی اداب کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے منگل سوتر اتروائے گئے۔ ان کے کنگن اور بندی بھی اتروا لی گئی۔ یہی نہیں ان کے کپڑے بھی بدلوائے گئے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہمیں اس کی کوئی وجہ نہیں سمجھ میں آرہی کہ پاکستانی حکام نے میٹنگ ختم ہونے کے بعد کلبھوشن کی اہلیہ کا جوتا کئی بار درخواست کرنے کے باوجود واپس کیوں نہیں کیا۔ ہم انھیں متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے کوئی چال چلنے سے باز رہیں‘۔

ان خواتین کو ننگے پاؤں تو واپس نہیں جانے دیا گیا ہو گا۔ کوئی نہ کوئی جوتا پہنایا ہی گیا ہو گا۔ اور فراخ دل وزارت خارجہ سے پوری امید ہے کہ کوئی مہنگا جوتا ہی ان کی نذر کیا گیا ہو گا۔ اس کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ کی جان ان جوتوں میں کیوں اٹکی ہوئی ہے؟ وہ کس چیز سے دہل رہے ہیں؟ کیا ان کو خطرہ ہے کہ ان کا جوتا ان کے سر برسے گا؟ اس جوتے میں ایسی کیا خاص بات ہے جو ایک پوری پریس کانفرنس ہی جوتے پر کر دی گئی ہے؟ پاکستان یہ جوتے پہن کر کیسی چال چل سکتا ہے جس کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور انسان کے دماغ میں اچھل پھاند مچا رہے ہیں۔

جہاں تک منہ ہاتھ دھلوانے کا الزام ہے تو ہمیں اس بات پر حیرت ہے کہ اس پر اعتراض کیوں؟ یہ ٹھیک ہے کہ آج کل موسم سرد ہے اور خود ہم بھی پانی سے دور رہنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں مگر کسی سے ملنے جانا ہو تو منہ دھو بھی لیا کرتے ہیں۔ کسی کے منہ دھونے کو سفارتی کانفرنس کا حصہ بنانا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

بھارتی ترجمان نے کہا کہ ’کلبھوشن کی والدہ کو ان کی مادری زبان مراٹھی میں بات نہیں کرنے دی گئی اور جب بھی وہ مراٹھی میں بات کرنے کی کوشش کرتیں انھیں روک دیا جاتا‘۔ ہماری رائے میں یہ کلبھوشن اور بیگم کلبھوشن کو ندامت سے بچانے کے لئے کیا گیا ہو گا۔ یاد رہے کہ کلبھوشن اس وقت ایک بھارتی جاسوس کی حیثیت سے شناخت ہوئے تھے جب وہ اپنی بیگم سے فون پر بات کر رہے تھے۔

ان کی بیگم نے یہ سوچ کر کہ وہ پردیس میں عیاشیاں کر رہے ہیں، ان کو فون پر ہی جلی کٹی سنانی شروع کر دیں کہ اجی تم ادھر عیش کر رہے ہو اور ادھر بچوں نے میری جان عذاب میں ڈالی ہوئی ہے۔ کلبھوشن نے مناسب ریسپانس نہ دیا تو بیگم کلبھوشن نے اپنے کلام کی تاثیر بڑھانے کو مراٹھی زبان میں چار سنا دیں۔ اب یہ کال آئی ایس آئی کے ریکارڈنگ یونٹ نے پکڑ لی کہ بلوچستان میں کون مراٹھی بول رہا ہے اور یوں کلبھوشن پکڑا گیا۔ اب تو پاکستانی اہلکار کلبھوشن کو چھیڑتے ہوں گے کہ ’اور سناؤ، مراٹھی میں بات کرنی ہے؟ ‘

سنڈریلا کے جوتوں کے بعد اب یہ جوتے دنیا میں مشہور ہوئے جا رہے ہیں۔ ہم پاکستانی وزارت خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نے یہ جوتے پہن کر جو بھی چال چلنی ہے، اسے ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ بھارت جس چال سے خوفزدہ ہے وہ کیسی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar