27 دسمبر کے دن بے نظیر اور پیپلز پارٹی مر گئے


27 دسمبر پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ دلیر بھٹو کی بہادر بیٹی نے اس دن جانتے بوجھتے موت کو گلے لگایا۔ پاکستان واپسی سے پہلے ان کو علم تھا کہ وہ جہاں جا رہی ہیں وہاں زندہ رہنا مشکل ہے۔ کارساز دھماکے کے بعد وہ اس زمانے میں خطرناک ترین سمجھے جانے والے شہر پشاور میں جلسے سے خطاب کرنے چلی گئیں۔ اس کے بعد ان کی منزل راولپنڈی کا لیاقت باغ ٹھہرا جو ان کی آخری منزل ثابت ہوا۔

2007 میں طالبان کی طاقت اور دہشت عروج پر تھی۔ اس وقت ان کے خوف سے بڑے بڑے لیڈر دبکے ہوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے کسی خوف کے بغیر طالبان پر کھل کر تنقید کی اور اقتدار میں آ کر ان سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا۔ محترمہ ایک دور اندیش لیڈر تھیں۔ ان کو دکھائی دے رہا تھا کہ طالبان ملک کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ دوسرے لیڈروں کے برخلاف انہوں نے جان کے خوف سے سچ بات کو نہیں دبایا۔ انہوں نے جانتے بوجھتے اپنی جان دی تاکہ تباہ حال پاکستان میں ایک نئی جان پڑے۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر برانگیختہ جذبات کو ٹھنڈا کیا۔ ان کی حکومت میں قانون سازی کے لئے قابل قدر کام ہوا۔ ایک طویل عرصے بعد پہلی مرتبہ دکھائی دیا کہ مقننہ کی توجہ اپنے اصل فرض یعنی قانون سازی پر مرکوز ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ شدت پسندوں سے جنگ میں وہ دلیری نہ دکھا سکے جو بے نظیر کا خاصہ تھی۔ ان سے یہی سننے میں آیا کہ اب پیپلز پارٹی کفن دے دے کر تھک گئی ہے۔ اب کوئی دوسرا قربانی دے۔ ہر سیاسی حکومت کی طرح ان کی حکومت بھی اسٹیبلشمنٹ کا نشانہ بنتی رہی اور میاں نواز شریف بھی اس کے خلاف استعمال ہوئے۔ لیکن آصف زرداری کی حکومت کی سب سے بڑی کوتاہی یہ رہی کہ وہ عوام کو کوئی بڑی ریلیف نہ دے سکے۔ کارکن سے رابطہ رکھنے والی بھٹو خاندان کی روایت کو انہوں نے توڑ دیا اور پیپلز پارٹی کو عوامی پارٹی کی بجائے ڈرائنگ روم کی پارٹی بنا دیا۔ کارکن پارٹی سے روٹھ گیا۔ جیالے کی پیپلز پارٹی 27 دسمبر کے دن بے نظیر کے ساتھ مر گئی۔

اب بلاول کی دوبارہ میدان میں آمد کے بعد پیپلز پارٹی میں کچھ جان تو پڑتی دکھائی دے رہی ہے مگر اصل حال الیکشن سے دو تین مہینے پہلے ہی معلوم ہو گا جب بے نظیر کی بیٹیاں بھی بلاول کے ساتھ ڈائس پر کھڑی ہوں گی۔ بلاول، بے نظیر جیسے لہجے میں اردو بولتا ہے۔ اسے ٹی وی پر زیادہ آنا چاہیے اور انگریزی کو ترجیح دینی چاہیے جس میں وہ زیادہ اچھے طریقے سے بات کر سکتا ہے۔ نوجوان ووٹر پر اس کا اثر ہو گا۔ اردو میں بے نظیر کا لہجہ بلاول کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب اسی لہجے میں آصفہ جلسے سے خطاب کرتے گی تو پھر کارکن یہی پکارے گا کہ بے نظیر کی بیٹی آئی ہے۔ وہ لہجہ جو بلاول کے لئے منفی ہے، آصفہ کے لئے طاقت ثابت ہو گا۔

اس وقت پاکستان مذہبی شدت پسندی کے باعث مزید تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے والے خال خال ہیں۔ عمران خان طالبان سے بات چیت میں فلاح دیکھتے ہیں اور ان کا نام لے کر ان کی مذمت نہیں کرتے۔ آصف زرداری مزید شہادتوں کے خوف سے گھبراتے ہیں۔ پاپولر لیڈروں میں لے دے کر صرف نواز شریف ہی بچتے ہیں جو مذہبی شدت پسندوں کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی بدقسمتی کہ ان کو طالبان سے زیادہ بڑی جنگ اسٹیبلشمنٹ سے لڑنی پڑ رہی ہے۔ اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ ڈیڑھ دو ہزار شدت پسند افراد کا غیر مسلح جتھا بھی ان کی پارٹی کی حکومت کو شکست دے کر اپنی من مانی شرائط پر ان سے دستخط کروا سکتا ہے۔

اگر بے نظیر موجود ہوتیں تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ بلاول اگر حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے تو وہ ایک مخلوط حکومت ہو گی۔ مخلوط حکومت جتنی کمزور ہوتی ہے اور جس جس طرح سے وہ بلیک میل ہوتی ہے اس سے سب بخوبی واقف ہیں۔ بلاول کیا کر پائیں گے؟ لیکن سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف بے نظیر کی طرح ایک جرات مندانہ اور واضح موقف اختیار کر سکتے ہیں؟ وہ خود سے سیاسی فیصلے کریں تو پھر ہی ایسا ہو گا ورنہ نہیں۔

بلاول اور عمران خان حوصلہ نہ کریں تو پھر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ طالبان سے جنگ لڑنے کے لئے ہمارے پاس نواز شریف کی صورت میں صرف ایک لیڈر ہی باقی بچے گا جسے ووٹ دینا بھی شرمندگی ہے اور نہ دینا بھی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar