فحاشی کو مصوری سے نکالیں مگر ادب سے نہیں۔۔۔


فحش تصاویر پہ رواں بحث کا حوالہ دیے بغیر بات کا آغاز کرنے کا خیال تھا، مگر اس حوالے کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ فحاشی مصوری میں ٹھیک نہیں اور ادب میں اس کے چٹخارے موجود رہنے چاہیئے یا نہیں؟ اس پہ ابھی رائے نہیں بنی مگر عمل خاموشی سے جاری ہے۔ مرد اور خواتیں مصنف اس میں بلا تفریق موجود رہے ہیں۔ اپنے نقطہ نظر پہ انحصار کر کے اختلاف رکھنا زیادہ مناسب رویہ ہے، بہ نسبت اس کے کہ مقابل موقف کو طنز کے تیر سے گھائل کیا جائے۔ اگر تو موقف کی ترویج مقصد ہے تو پھر زیر کرنے کے جذبے سے ہٹ کر بات کیجئے۔ قائل کرنے والی فکر زیادہ موثر، موزوں اور کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔عنوان پہ گفتگو پہلے ہی طویل تجربے اور مطالعے کی صدارت میں ہو چکی ہے، بس اتنی اجازت کا طلب گار ہوں کہ علمی بحث میں روایتی جذباتی طاقت کو ایک طرف رکھ دینا چاہیئے اور ساتھ ہی مروجہ لہجے کی کاٹ کا بھی اندیشہ رہنا چاہیئے تا کہ توہین کا گماں نہ ہو۔ اصل ہدف ہنر مندی اور وکیلانہ کاریگری قطعی نہیں ہونا چاہیئے، جسے بعد میں پھرمعذرت کا غسل دینا پڑے۔ باقی فحش نگاری اور فحش بینی سے انکار جب ممکن نہیں تو پھر موجودہ حالات کی تصویر کشی پہ معترض ہونا بھی ایک سخت معاملہ محسوس ہوتا ہے۔ جب آپ سماجی موضوعات پہ ہاتھ سیدھا کریں گے تو اس میں اخلاقیات اور آداب کے ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی پابندی صرف خود پہ عائد کر سکتے ہیں مگر دوسروں پہ نہیں۔ جب آپ تنقیدی اوزار سے تبدیلی کی شبیہ تراشیں گے تو سماج کی اخلاقی چھال یا کھال اترے گی، اس تیشہ گری پہ بہت گرانی ڈھائی جاتی رہی مگر اس قافلے کے مسافر اپنی پیش رفت جاری رکھتے ہیں۔ کبھی اس حرکت کو بغاوت کا لباس پہنایا جاتا ہے تو کبھی حیا کے خیال سے ننگ کو ڈھک دیا جاتا ہے۔ مگر تہذیب کے بدن پہ موجود قدامت پسندی کے دھبوں کو ہم صرف رسمی تعلیمات و تسلیمات سے نہیں چھپا سکتے۔

ہم دوہرے کردار نبھانے والے بھلے مانس اپنے نمائشی کردار کے ذریعے شناخت کرانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ نیچے موجود تہہ میں جو ہے، وہی حقیقی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا میں انسانیت کے پرچم کو بظاہر بلند کر کے اس کے سائے تلے غیر انسانی مشقوں کو ہم جواز فراہم کرتے رہتے ہیں۔ ہر مکتبہ فکر دوسرے مکتبہ فکر سے نفرت کی الوہی وجوہات پیش کرتا ہے۔ ہر معاشرت نے اپنے حالات اور مخصوص تاریخی سفر میں رہتے ہوئے حالیہ شکل اختیار کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے تحت لوگوں آمادہ نہیں کر سکتے کہ وہ بھی اسی حقیقت کو مانیں جو ہمارے نزدیک حتمی ہے۔ ہمیں جینے کے لیئے دوسروں کے جینے کے حق کو ماننا پڑے گا۔ گلوبل ولیج کے تحت جب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعےاستفادہ حاصل کر رہے ہیں، بین الاقوامی تعاون کی امید رکھ کےاور بین الاقوامی زبان کے بیانیے سے کلی یا جزوی اتفاق کر کے یہ فرمان جاری کرتے ہیں کہ ہماری اپنی ثقافت ہے، ہماری اپنی تہذیب ہے۔ ہم اس غلط فہمی کو مشتہر کرتے ہیں کہ ہماری اپنی اقدار ہیں۔ حالانکہ یہ عیاں ہے کہ صاحب! آپ جب دنیا میں مختلف اقوام کی مشترکہ میز پہ جا کے بیٹھنے کے لیئے تیار ہیں، آپ تعاون پہ یقین رکھتے ہیں تو پھر کیوں آپ ثقافت پہ عالمگیریت کے اثرات سے منکر ہیں۔ یہ وہی بات ہو گئی کہ کرنے پہ آمادہ ہیں مگر ماننے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں فحش بینی کا تناسب کیا ہے؟ کیا یہ اعدادو شمار سماجی رغبت کے عکاس نہیں۔ ہم اپنے اندر حاضر حقائق کو باہر دیکھنے سے جتنا گریز کر لیں مگر یہ ہو رہا ہے اور اس مسلسل وقوعے کو کب تک اوجھل رکھا جا سکتا ہے۔ یہ بڑا سنجیدہ سوال ہے۔ گزشتہ برسوں میں اخلاقی پیمانوں کو کتنا ڈھیلا کرنا پڑا ہے، اس پہ ایک نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ٹی وی کمرشلز اور دیگر پروگرامز میں بالواسطہ یا بلا وا سطہ جو تحرک ملا، اس کو ہماری اخلاقیات نے کیسے گوارا کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقیات میں بھی اپنے آپ کو زمانے کے مطابق آراستہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو اندازہ کیجیئے کہ آگے کیا شکل بننے کو ہے۔ کیا ہم اپنے لحاظ سے کوئی اخلاقی ڈھانچہ محفوظ رکھ پائیں گے، یا ہماری علاقائی اقدار بین الاقوامیت کے اثرات سے بچ پائیں گی۔ اس لحاظ سے کوئی بھی قطعی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

دنیا میں نظریات اور ثقافت کے اختلاف پہ نفرت کے پیچھے معاشی مفادات جیسے محرکات موجود رہے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ تاریخ کی تمام جنگی مہمات ایسے ہی مفادات کا پتہ دیتی ہیں۔ لیکن لوگوں کے مابین دشمنی کے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کر کے اور ان کی شعوری کیفیات سے معاونت لے کے نفرت کی آبیاری ہوتی ہے۔ ایک معاشرے کو جتنا بھی روشن خیال اور معتدل بنا دیا جائے لیکن پھر بھی دوسرے معاشرے یا قوم سے نفرت اور دشمنی کے تمام امکانات کو زندہ رکھا جاتا ہے اور لوگ زیادہ تر انہی خطوط پہ اپنا موقف قائم رکھتے ہیں۔ ترتیب نو جلد یا بدیر ہو کے رہتی ہے اور یقینا اس وقت علمی اور شعوری سطح ہی تعین کرتی ہے کہ لوگ اپنی فکر پہ اخلاقی پہرے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ جب تک ہم اخلاقیات کے سابقہ تاریخی خط کا جائزہ نہیں لیتے کہ کس طرح ہمارے اخلاقی ضوابط نے اپنی شدت کو کم کیا ہے، تو اس وقت ہم درست انداز سے اخلاقی اقدار کی بدلنے والی صفت کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ جو کچھ ہمیں دکھائی دکھاتا ہے وہ دراصل ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ جو عام حالات میں اوجھل ہو، اچانک دکھائی دینے پہ عجیب طرح کی نا گواری محسوس ہوتی ہے۔ بہت سے واقعات اور بہت سی رسوم کو ہم اپنی اپنی فکری سطح کے مطابق پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔ اس میں انسان اگر اپنے مکمل اختیار کا استعمال کر بھی لے تو وہ کسی حد تک ہی کسی ناپسندیدہ شے کو قبول کرتا ہے۔ یہ سب آزادیاں فطرتا انسان کو حاصل ہیں کہ وہ اپنے لحاظ سے اشیا یا اعمال کا انتخاب کرے۔ مگر ایسی آزادی تک رسائی ممکن نہیں جو کسی بھی انسان کو یہ اختیار دے کہ اسکے مکتبہ فکر کے مطابق جو بھی غلط ہے وہ دکھائی نہ دے۔ حتی کہ یہ بھی آزادی نہیں ہے کہ ہم کسی کے موقف سے اختلاف رکھنے کا اظہار طنز کے تیز دھار نشترکے ذریعے کریں، چاہے بعد میں پھر اس کی ناگواری پہ معذرت خواہانہ رویہ ہی اپنانا پڑے۔ میں ایک بار پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں ایک رواج ہے کہ ہم بعض اوقات غیر محسوس طریقے سے خود پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے موقف سے زیادہ ہمیں اپنی بات کی اہمیت درکار رہتی ہے، بات کی صحت پہ ہمیں نظر ثانی کرنی چاہیئے اور میرے ناقص خیال کے مطابق اس کے لیئے خود پسندی کے عنصر کو کھوجنا پڑے گا جو لاشعور کی پست تریں تہوں سے وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شعور کی چکا چوند کر دینے والی روشنی سے ہی اس مضر جاں کا سراغ لگانا پڑے گا۔ ایک اشارہ کہیں سے ملا ہے کہ جب ہمیں یہ گماں ہو کہ جو ہم نے سمجھا ہے وہ حتمی ہے، اگرچہ اس امر کا اظہار نہ بھی ہو مگر ہمارا انداز بتاتا ہو تو وہیں سے خود پسندی کا حلقہ شروع ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS