دادی اور میں۔۔۔دونوں نے وعدہ خلافی کی!
دادا ، یا تو کھیتوں میں کام کر رہے ہوتے یا جانورچرانے نکلے ہوتے۔ میں ڈھوک پر اکیلادیوانہ وار باؤلنگ کرتا رہتا اور فرضی عالمی شہرت یافتہ بیٹسمینوں کو آؤٹ کرتا رہتا۔ یاد ہے بہت قلیل عرصے میں پاکستان کی طرف سے کھیل کر پاکستان کو کافی میچ جتوائے۔ کبھی گیند وکٹوں سے دور سے ہوتی ہوئی صحن عبور کرتے گھر کے اس حصے کی جانب چلی جاتی جہاں دادی اپنی سرگرمیوں میں مشغول ہوتیں۔ میں گیند اٹھانے جاتا تو چوری چھپے شیشہ دیکھتی دادی ٹھٹھک جاتی۔ ایسے جیسے کسی نے چوری پکڑ لی ہو۔ شیشہ فورا رکھ دیتیں اور پھر خود ہی میری طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے ہنس پڑتیں، ایسا ہنستیں کہ گلنار ہو جاتیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ دادی شیشہ دیکھتے ہوئے پکڑے جانے پر شرماتی کیوں ہے۔
کبھی پاس بیٹھا ہوتا تو کہتیں ، ہم سدا سے ایسے نہیں تھے۔ اب شیشہ دیکھیں تو خوف آتا ہے۔ابھی کل کی بات ہے ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے۔ مجھے دادی کی یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ان جھریوں کے پیچھے بہت سارے سال ہیں اور بہت سارے سال گزرتے گزرتے تو بہت وقت گزرتا ہوگا جبکہ دادی کہتی ہے ابھی کل کی بات ہے ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے۔
پھر یہ بات تو سمجھ آ گئی کہ وقت کیسے گزرتا ہے لیکن دادی چلی گئی۔ آج سمجھ میں آتا ہے کہ جب انسان کے چہرے پر پہلی جھری پڑتی ہے تو اس کی یادداشت میں ماں کی گود کی گرمی ایسے محفوظ ہوتی ہے جیسے کل کی بات ہو۔ جب وہ گھر کے بل وغیرہ جمع کروا رہا ہوتا ہے تو ایسے لگتا ابھی کل ہی تو ہاتھ میں تختی تھی، گاچی تھی، سیاہی تھی اور ہاتھ سے سیاہی سے ہر وقت آلودہ رہتے تھے۔ یہ کیا آفت آپڑی ہے جس نے اتنی قلیل مدت میں اتنی خوف ناک تبدیلیاں پیدا کر دیں ہیں۔
دادی آخری عمر میں کسی آس امید پر شیشہ دیکھتیں تھیں۔ شاید جھریاں پڑنے کی رفتار رک گئی ہو۔ شاید میں اپنی ہم عمروں سے کم عمر دکھائی دیتی ہوں۔ بہرحال دادی آخری عمر تک باقاعدگی سے شیشہ بھی دیکھتی رہیں اور سر پر مہندی بھی لگاتی رہیں۔ ایک دفعہ ایسی بیمار پڑیں کہ بستر سے جا لگیں۔ میں دادا اور دادی ڈھوک پر ہوتے تھے۔ امی ابو اور تایا وغیرہ پنڈی میں رہتے تھے۔ موبائل وغیرہ کی سہولت نہیں تھی کہ دادی کی صحت کے حوالے سے پنڈی اطلاع کر دوں۔ بیماری کی پریشانی اپنی جگہ تھی اور بیماری کے باعث دادی جو جذباتی بیانات دیے چلےجا رہیں تھیں وہ مزید پریشان کرتے تھے۔
داد ی بڑی مشکل سے اٹھیں اور مجھے اشارہ کیا کہ میں ان کے ساتھ ساتھ آؤں۔ میں نے سہارا دیا تو ایک کمرے کی جانب چلنا شروع ہو گئیں۔ ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔ کمرے میں گئیں تو اندھیرے میں ایک ٹین کا صندوق کھولنے کی کوشش میں لگ گئیں۔ سفید سے کپڑے نکالے اور کچے فرش پر بیٹھ گئیں ۔ مجھے پاس بلایا اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگیں، ‘تمہاری ماں کو شاید عین وقت پر یہ نہ ملے اس لیے تمھیں بتا رہی ہوں دھیان سے سن لو ۔یہ میرا کفن ہے۔ جب ہم حج پر گئے تھے تو اس کو آب زم زم سے دھویا تھا۔ اس صندوق کو دیکھ لو اور اپنی ماں کو بتا دینا’
میں خاموش ، نہیں جانتا تھا کہ ایسے میں کیا ردعمل دینا چاہیے۔ میں نے اس تکلیف دہ موضوع سے جان چھڑانے کے لیے کہا، ‘اچھا اچھا جگر بتا دوں گا ‘ (دادی کو جگر ، لڑکی، سوہنی وغیرہ مختلف ناموں سے پکارتا تھا) تو میں نے کہا اچھا اچھا جگر بتا دوں گا ابھی یہ کپڑے صندوق میں رکھو اور باہر چلو۔۔دادی نے مجھے غصے سے دیکھا اور کہا ۔۔کپڑے نہیں یہ کفن ہے۔۔میں جھنجلاہٹ سے بولا اچھا جگر کفن ہو گا ابھی باہر چلو۔ میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد دادی کی موت سے متعقلہ تفصیلات اور منظر کشی سے جان چھوٹے۔ دادی نے کمرے کے ماحول کو اپنی باتوں سے بوجھل کر دیا تھا۔
میں اور دادی باہر آئے تو دادی ریت پر اکڑوں بیٹھ گئیں۔ مجھے اشارے سے کہا میری بات سنو۔ میں پاس بیٹھا تو سرگوشی سے کہا۔۔ایک بات مانو گے؟ میں نے فورا کہا، جگر موت سے متعلقہ مزید کچھ نہیں ہے تو مانوں گا۔ ایک وہی شرمیلی اور شرارتی سی مسکراہٹ دادی کے ہونٹوں کے کناروں پر دکھائی دی یا شاید مجھے شائبہ ہوا۔ کہنے لگیں۔۔مرتے ہوئے انسان کی بات کو کبھی نہیں ٹالنا چاہیے۔میں نے پھر دادی کی طرف چڑ کر دیکھا اور کہا ، یارایک تو میں اور تم ڈھوک پر اکیلے ہیں اوپر سے تمہاری اس موت کی منظر کشی نے میرے حواس اڑا کر رکھ دیے ہیں۔ بہرحال بتاؤ کیا بات منوانی ہے؟
دادی نے کہا ، نہیں تم وعدہ کرو۔ میرا کچھ پتہ نہیں آج ڈھوک پر ہوں کل شاید قبر میں ہو سکتی ہوں۔ مجھے آج کی رات آخری لگتی ہے۔ کل صبح میں نہیں دیکھ سکوں گی۔ بس اس دنیا میں میرا اتنا ہی وقت مقرر تھا۔ ابھی بھی حالت یہ ہے کہ اگلے سانس کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہاں ریت سے اٹھ کر چارپائی تک بھی جا سکوں گی یا نہیں۔ میں نے فورا وعدہ کیا کیونکہ دادی معاملات کو انتہائی جذباتی موڑ تک لے آئیں تھیں۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کر کہنے لگیں۔۔سنگرٹ (سگریٹ) چھوڑ دو ۔ میں نے تھوک نگلتے ہوئے دادی کو دیکھا اور یم یم یم کہا۔دادی نے دنیا دیکھی تھی دانشور خاتون تھیں۔ کہنے لگیں نہیں میرے سامنے پورا جملہ کہو کہ میں آئندہ سنگرٹ نہیں پیوں گا۔ ۔میں نے اٹکتے اٹکتے یہ جملہ کہہ دیا۔
آج آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مرتے ہوئے انسان سے وعدہ کرنے کے باوجود میں یہ لت کیوں نہیں چھوڑ سکا؟ کیا مجھے دادی کے ساتھ کیے وعدے کا پاس نہیں رکھنا چاہیے تھا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ پاس ہم دونوں کو رکھنا چاہیے تھا۔ دادی اپنی اس موت کی منظر کشی اور جذباتی بیانات کے بعد ۔۔۔۔آٹھ سال زندہ رہیں۔ الحمد اللہ!




