شریہنہ کا پیڑ


گاؤں کے پرائمری سکول کے صحن میں یوں تو اور بھی نیم، شیشم، بیری اور گوندنی کے پیڑ تھے مگر جو شان شریہنہ کے پیڑ کی تھی وہ دوسرے درختوں کو نصیب نہیں تھی۔ بہار میں شگوفے پھوٹتے، ترو تازہ پتے سبز شاخوں پہ ڈیرہ جماتے، پھول کھل کھل جاتے جن کی بھینی بھینی خوشبو آس پاس گھومتی رہتی۔ ہوا کے لمس سے پھولوں کے ریشے تار تار اڑتے پھرتے۔ شہد کی مکھیاں پھول پھول بھنبھناتی رہتیں اور بھنورے ڈال ڈال منڈلاتے رہتے۔ شریہنہ کے پھولوں کی دکان جو کھولتا تو بوۓ من پسند کے متلاشی جوق در جوق کھنچے آتے۔

ادھر گرما کی چھٹیاں ہوتیں ادھر شریہنہ پورے جوبن پر آ جاتا۔ جلتی دھوپ میں اس کی گھنی چھاؤں ایک سکھ سنیہڑا ہوتی۔ سورج کی برہمی کو تہہ در تہہ شاخیں اور پھول پتے اپنے سینے پہ جھیل لیتے۔ اس کے نیچے ٹھنڈک کا گہرا احساس رہتا تھا۔ گاؤں میں تب بجلی نہیں آئی تھی۔ بزرگ، بچے، جوان سب دوپہر ہوتے ہی امڈ آتے۔ چارپائیاں بچھ جاتیں۔ ہلکی پھلکی چٹکلوں بھری گفتگو کا سلسلہ چلتا رہتا۔ دکھ سکھ بٹتے تو من ہلکے ہو جاتے۔

ٹولیوں میں بھانت بھانت کے کھیل تماشے چلتے۔ ادھیڑ عمر اپنی موج میں مست تاش کھیلتے رہتے۔ جو جیت جاتا وہ ببلیاں بلا کر ہارنے والے کا ٹھٹھا اڑاتا یا پھر اپنے ہی سینے کا ڈھول پیٹ کر جھومر ڈالنے لگتا۔ کچھ لڑکے زمین پہ آلتی پالتی مارے ’اڈا کھڈا‘ کھیلتے رہتے۔ چند بالے پاس ہی بیٹھے ’بارہ ٹانی‘ کا مزہ لیتے۔ کچھ چادر بچھا کے بازی کھیل رہے ہوتے۔ سلور کے گلاس میں گوٹیوں کی چھنکار دور تک سنائی دیتی۔

 کبھی گاؤں کے لڑکے باندر کلا کھیلتے پھرتی دکھاتے نظر آتے۔ کبھی دو نوجوان لنگوٹ باندھ کشتی کے اکھاڑے میں اتر آتے۔ کبھی زمین پہ گھریاں بنا کے وانجو کا میچ شروع ہو جاتا۔ وینی پکڑنے کے مقابلے تو روز ہوتے تھے۔ شاوا شاوا، واہ واہ کے نعرے بلند ہوتے۔ گھڑی گھڑی قہقہے گونجتے رہتے۔ زندگی شریہنہ کے پیڑ کی طرح جوبن پہ ہوتی۔

آۓ روز مداری ڈگڈگی بجاتے آ دھمکتا۔ بندر کا تماشا دکھاتا۔ ایک میلہ سا لگ جاتا جس میں تالیوں کی گونج ہوتی۔ رش دیکھ کر پھیری والے بھی لچھے اور لنگڑے آم بیچنے چلے آتے۔

بشیر ڈھولچی آتے جاتے رک جاتا۔ ڈھول کی تھاپ پہ ڈھولے، ماہیے اور گیت گاتا تو سماں بندھ جاتا۔ فرمائشی گیت سنے جاتے۔

وے ڈھول سانول نہ رولی سانوں

ویکھی کنڈیاں دے وچ نہ توں تولی سانوں

وگدی اے راوی وچ سٹاں کھنگیاں ہائے سٹاں کھنگیاں

تیرا ماہیا بڑا سوہنا مینوں سییاں کہندیاں

بشیر ڈھولچی کے ماہیوں میں یہ ماہیا ضرور شامل ہوتا تھا۔

ددھ کڑھدا ابھر گیا

کسے نہ ہائے کیتی ملکو وسدا اجڑ گیا

پرندوں کو شریہنہ سے پیار تھا۔ کوے، چڑیاں، مینائیں، طوطے اور فاختائیں سارا دن اس کی شاخوں پہ بسیرا کرتے۔ خوب غل مچاتے۔ نہ جانے دانہ چگنے کب جاتے ہوں گے!

دور گاؤں جاتے مسافر، ریوڑ ہانکتے چرواہے، بستی بستی جاتے پھیری والے، در در مانگتے بوڑھے فقیر اور پڑوس کی ڈھاریوں سے آنے والے گھی، چینی پتی کے خریدار جب شریہنہ کی گھنی چھاؤں دیکھتے تو کچھ پل سستانے کو ضرور رک جاتے۔

 کسی کے ہاں مہمان آتے تو ان کی سیوا کے لیے بھی شریہنہ کی چھاؤں موزوں ٹھہرتی۔ ایک شجر سایہ دار کیا تھا گویا مہمان خانہ، مسافر خانہ، پنڈال، تھیٹر اور کھیل کا میدان تھا۔ پیڑ کیا تھا جی خوشیوں کا سندیسہ تھا۔

گاؤں میں کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا تو اسی شریہنہ کی چند ٹہنیاں گھر کے دروازے پہ لٹکائی جاتی تھیں۔ بیٹی پیدا ہوتی تو نیم کی شاخیں۔

 کی چھاؤں میں کئی جنازے بھی پڑھے جاتے تھے۔ اس پیڑ نے صرف زندگی سے بھرپور ہنستے چہرے نہیں دیکھے تھے بلکہ موت کے مارے بے جان جسم بھی دیکھے تھے۔ بوڑھے حکیم کا جواں سال بیٹا جب نیم کے درخت سے نمولیاں اتارتے گر کر فوت ہوا تھا تو اس کا جنازہ اسی شریہنہ کے نیچے پڑھا گیا تھا۔ پرندوں کے شور کے باوجود بوڑھے باپ کی سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

افسوس کہ ہم گاؤں والے شریہنہ کا خیال نہ رکھ پائے۔ بچوں نے ٹہنیاں توڑیں تو بڑوں نے منع نہیں کیا۔ ہل کانگڑا کھیلتے کتنی ہی شاخیں تڑاخ سے ٹوٹ جاتی تھیں۔ شاخوں سے جھولا جھلاتے ٹہنیاں کڑک جاتی تھیں۔ حقہ چلم دھرنے کے لیے بھی شریہنہ کے تنے کو نوچا۔ گھر کا چولہا جلانے کے لیے اس کی لکڑی کا ایندھن بنایا۔ کسی نے جانور ہانکنے کا ڈنڈہ بنانے کے لیے اسی کے بازو کاٹ لیے۔ کسی نے مسواک کے لیے توڑا تو کسی نے چھپر کے چھتیر کے لیے اس پہ کلہاڑی چلائی۔ کسی نے آبیاری نہیں کی۔

پھر یوں ہوا کہ موسم بہار میں بھی شریہنہ میں زندگی کی رمق نہیں آئی۔ دھیرے دھیرے سوکھ گیا۔ لوگ سوکھی لکڑیاں کاٹ کے لے گۓ۔ تنا بھی چلم چولہوں میں راکھ ہو گیا۔ جس جگہ پر کبھی شریہنہ کی گھنی ٹھنڈی چھاؤں ہوتی تھی آج وہاں دھوپ ہی دھوپ ہے۔ اس کی چھاؤں میں بیٹھنے والوں ہی نے شریہنہ کو ختم کر دیا۔

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti