باتیں میرے ابا کی


میرا دادھیال لکھنؤ کی ایک مضافاتی آبادی” نگرام” سے ہے جو لکھنئو سے صرف چند کوس کے فاصلے پر واقع تھا۔ نگرام اور خاص طور سے میرے خاندان میں بڑی بڑی علمی اور ادبی شخصیات نے جنم لیا جو اپنے وقت میں برصغیر کی سطح پر جانے اور مانے گئے۔

میرے والد مرحوم بھی نگرام ہی میں غالباً بیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوئے۔ میرے دادا جناب مختار احمد کے تین بیٹے تھے۔ سب سے بڑے بیٹے میرے والد بزرگوار تھے ان کا نام اشتیاق احمد رکھا گیا ان سے چھوٹے دو اور بیٹے جناب سردار احمد اور انصار احمد مرحوم تھے جبکہ بیٹی کوئی نہ تھی اور اب تو دادا کی اولاد میں کوئی بھی نہ رہا۔۔۔ قل رب الرہمحما کما ربیانی صغیراً۔

دادا مرحوم پولیس سروس میں تھے اور ان کا تبادلہ مختلف اضلاع میں ہوتا رہتا تھا۔ دادا کی آخری تعیناتی سلطان پور- یوپی، میں ہوئی جہاں والد مرحوم اور دونوں چچائوں نے ہوش سنبھالا، وہیں تعلیم حاصل کی اور نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ یہیں معروف شاعر اور گیت نگار مجروح سلطانپوری اور میرے چچا کی دوستی کا آغاز ہوا جو آخری سانسوں تک قائم رہا۔ مجروح صاحب چچا کے لڑکپن کے ساتھی اور دوست تھے لہذا وہ ابا کا احترام بڑے بھائی ہی کی طرح کرتے تھے۔ اسی طرح مجروح صاحب میری اماں کا بھی بے حد ادب کرتے تھے اور ان کو ” بھوجی” کہ کر بلاتے تھے۔ ان ہی دنوں ان کا پہلا فلمی گیت "ساون آیا جھوم کے” مشہور ہوا جو انہوں نے فلم "شاہجہاں ” کے لئے لکھا تھا۔ مجروح صاحب اپنی نوجوانی کے دنوں میں اکثر چچا مرحوم کے ساتھ گھر آتے۔ اماں کو مترنم آواز میں اپنی شاعری اور گیت سناتے اور ان کے ہاتھ کا پکا کھانا بھی کھاتے۔ مجروح صاحب نے چچا کو اپنےشعری مجموعے کا تحفہ دیا اور سر ورق پر کیا خوب لکھا۔

” ایام طفولیت کے ایک آوارہ ہمسفر سردار احمد کے لئے "

چھوٹے چچا بھائیوں اور دادا کے لاڈلے تھے جس کی وجہ سے وہ شاید زیادہ نہ پڑھ سکے لیکن کیا مجال ہے کہ کبھی تہذیب سے گری کوئی حرکت ان سے سرذد ہوئی ہو۔ وہ نہایت سلیقہ مند اور رکھ رکھائو والے اور لکھنوی اقدار کا اعلی نمونہ تھے۔ ساری زندگی کرتہ پائجامہ، شیروانی اور اسی کپڑے کی دوپلی ٹوپی، سلیم شاہی جوتے، ہاتھ میں خوبصورت ڈوریوں والا بٹوہ اور پان کی ڈبیہ جس میں نہایت سلیقے سے لگے ہوئے پان ہوتے۔ زبان بہت شستہ اور فصیح تھی۔ جگر اور مجاز کے اشعار خوب لہک لہک کر با آواز بلند پڑھتے۔

کیا ہوئے وہ لوگ اور کہاں گئیں وہ اقدار۔

ریٹائرمنٹ کے بعد دادا مرحوم لکھنئو منتقل ہوگئے۔ آبائی گھر نگرام ہی میں تھا اور میری والدہ وہیں بیاہ کر آئیں۔ اماں پرتاب گڑھ کے ایک متمول زمیندار گھرانے کی بیٹی تھیں جہاں دولت کی ریل پیل تھی اور ہر کام کیلئے نوکروں اور خادمائوں کی فوج میسر تھی۔

اماں جس گھرانے میں بیاہ کر آئیں وہاں علم و ادب اور تہذیب و شرافت تو تھی لیکن مالی حالت بہت زیادہ مستحکم نہ تھی جس کی ایک وجہ دادا کے کزنز کے درمیان زمین کے تنازعہ پر مقدمہ بازی تھی جو سالہا سال چلتی رہی۔ والد نے اس میں کبھی کائی دلچسپی نہیں لی اور وہ سب چھوڑ کر پاکستان آگئے اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پاکستان میں عزیزوں اور احباب نے بہت کہا کہ یہاں اپنا کلیم داخل کردو یہاں تک کہ چچا مرحوم نے جو اس وقت تک پاکستان نہیں آئے تھے زمینوں کے کاغذات بھی بھیجے کہ ابا کلیم داخل کردیں لیکن ابا نے ایسا نہیں کیا- کہتے تھے جو چھوڑ دیا اب اس کی طرف مڑ کر کیا دیکھنا۔ حالانکہ لوگوں نے ان دنوں جھوٹے کلیموں کے ذریعہ بہت کچھ حاصل کیا اور تو اور کچھ لوگوں نے تو یہاں آکر اپنی شناخت ہی تبدیل کرلی۔

سنہ اکاون میں میرے والدین بھی بہت سے دوسرے مہاجرین کی طرح پاکستان کا خواب آنکھوں میں سجائے اپنی پہچان اور اپنی شناخت مٹاکر ایک انجانی راہگزر پر چل نکلے اور نئی پہچان ” پاکستانی اور صرف پاکستانی” ہونے کی جستجو میں زندگی ایک نئے سرے سے شروع کی۔ نیا ملک، نئے لوگ، بے آسرا، چار بچے اور روزگار کوئی نہیں۔ بقول انہی کے روز صبح تلاش معاش کیلئے نکل جاتے اور اکثر مایوس واپس آتے۔ چونکہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار تھے لہذا جلد ہی ملازمت کی متعدد پیشکش ہوئیں جو کہ تمام کی تمام سرکاری تھیں جنہیں والد مرحوم نے رد کردیا۔ بالآخر ایک برٹش کمپنی MRVP جو کراچی کی بندرگاہ بنا رہی تھی میں انہیں جاب کی آفر ہوئی لیکن تنخواہ ذرا کم تھی لیکن حالات کے پیش نظر انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ اتفاقاً وہاں ابا کے ایک انگریز افسر مل گئے جو ان کو انڈیا سے جانتے تھے انہوں نے جب ابا کی تنخواہ کا موازنہ ان کی پچھلی تنخواہ سے کیا تو وہ کافی کم تھی اس نیک دل گورے نے کہا مسٹر احمد اس تنخواہ میں آپ گزرنہیں کرسکتے کیونکہ آپکی فیملی پرانی آمدنی میں ایڈجسٹ ہوگئی ہے اور اس نے ابا کو کئی انکریمنٹ دیکر تنخواہ پہلی تنخواہ کے برابر کردی۔ ابا اب ایک معقول تنخواہ کے ساتھ نئے وطن میں آرام سیے بسر کرنے لگے۔

سنہ ساٹھ کے اوائل ایک روز وہ شاید جلدی میں بغیر شیو کئیے آفس چلے گئے اس زمانے تک انگریز بھی روایات اور ڈسپلن کے سخت پابند تھے ابا کے ایک گورے کولیگ نے یہ کہ دیا کہ مسٹر احمد آج آپنے شیو نہیں کی۔ ابا نے اس کی بات کو سیریس لیا اور اسی روز ایک ماہ کی چھٹی لےاور دوسرے ہی دن سے انہوں نے داڑھی بڑھانا شروع کردی ایک ماہ بعد جب وہ آفس گئے تو باقائدہ داڑھی کے ساتھ گئے اور سب سے پہلے اسی گورے کے پاس گئے اور اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے کہا کہ میں تمھارا شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے میرا ایک مذہبی فریضہ یاد دلایا۔ اب نہ جانے اس گورے پر کیا گزری ہوگی۔

سنہ پینسٹھ میں ابا کی پوسٹنگ کینڈا کردی گئی جو انہوں نے بوجوہ قبول نہیں کی اور پاکستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور جو رقم ملی اس سے کاروبار کرنے کا ارادہ کیا لیکن بری طرح ناکام ہوئے اور کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ مرحوم بڑے فراخ دل اور شاہ خرچ تھے کبھی بچت کا نہیں سوچتے جتنا ملتا سب جلد از جلد خرچ دیتے اور مطمئن رہتے۔ پوتے پوتیوں اور بچوں سے بہت پیار کرتے اپنے پاس غباروں، چاکلیٹس اور ٹافیوں کا ذخیرہ رکھتے اور بچوں کو بانٹ کر خوش ہوتے۔ کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا انکے ذخیرے میں کمی آچلی ہے اور اب انکا ہاتھ بھی اتنا کھلا نہ رہا۔ وجہ میں سمجھ گیا تھا۔ ایک دن میں ان کو بنا بتائے اپنے ساتھ بینک لے گیا اور اپنا سارا اکائونٹ انکے نام پر ٹرانسفر کردیا جس پر پہلے تو وہ حیران ہوئے اور پھر ناراض کہ تم یہ کیا کررہے ہو میں نے جواب دیا یہ سب میرا نہیں، انہیں کا تو ہے۔ اور میں نے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شفقت اور فخر دونوں ساتھ ساتھ تھے۔ میرے لیے اس سے بڑی اور سعادت کیا ہوتی اس روز مجھے خود اپنا یہ عمل بہت اچھا لگا اور آج جب یہی سب میرے بچے میرے ساتھ کررہے ہیں تو لگتا ہے جیسے اسی پرانی فلم کا ری میک ہو۔

فکر معاش سے جب ذرا فرصت ملی تو ابا پھر سے فارغ اوقات میں جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ تقسیم سے قبل بھی وہ جماعت اسلامی لکھنئو سے وابستہ تھے اور اس کے بنیادی رکن تھے۔ پروفیسر غفور انکے جونئیرز میں سے تھے۔

ایوب خان کے بنیادی جمہوریت کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے ابا کو دستگیر سوسائٹی سے ٹکٹ دیا اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ الیکشن کے دن ابا نے ایک جاننے والے کو بوگس ووٹنگ کرتے ہوئے پکڑ لیا کہ تم ابھی تو ووٹ ڈال کر گئے ہو دوبارہ کیسے آگئے اس نے کہا انکل آپ ہی کو دوبارہ ووٹ دے رہا ہوں۔ ابا نے اسے پولنگ بوتھ سے نکال دیا اور فرمایا دوبارہ نظر آئے تو پولیس کے حوالے کروں گا۔ یہ تھا اس زمانے کی جماعت اسلامی اور اس کے کارکنوں کا کردار۔

چیئرمین کے چنائو کے لئے ممبران پر بڑا دبائو تھا اور ایوبی مسلم لیگ خوب خرید وفروخت کررہی تھی۔ گاڑیاں گھر پر آتیں اور ابا کو مختلف پیشکش کی جاتیں۔ آخر تنگ آکر ابا اپنے بھائی کے گھر چلے گئے اور اس وقت تک گھر واپس آئے جب چیئرمین کا الیکشن نہیں ہوگیا۔ ابا نے اپنی مرضی اور جماعت کے مشورے سے محترمہ فاطمہ جناح کے نمائندے ایڈوکیٹ عبید الرحمان صآحب کو ووٹ دے دیا۔

والد محترم ایک انتہائی نظریاتی، مخلص اور دیانتدار انسان تھے۔ ساری زندگی انگریزوں کے ساتھ کام کیا لیکن کبھی انگریزی لباس نہیں پہنا ہمیشہ کرتا پاجامہ اور شیروانی ہی پہنی اور گرمیوں میں کاٹن کی واسکٹ۔ وہ ایک بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ گورا رنگ، چہرے پہ خشخشی داڑھی، نکلتا ہوا قد اور چھریرا بدن، داڑھی اور سر کے بالوں میں قدرے سرخی اور آنکھیں بھوری۔ میرے اکثر یورپین دوست ان سے ملنے کہ بعد پوچھتے کیا یہ افغانی یا ایرانی تو نہیں۔ وہ بہت سادہ طبیعت اور قناعت پسند لیکن بہت مضبوط کردار کے مالک تھے، ضرورت سے زیادہ صاف گو اور حالات کی پرواہ کئے بغیر حق اور سچ کو برملا کہ دینے کے عادی جس کی وجہ سے لوگ اکثر ان سے خوش نہیں رہتے لیکن وہ کسی نفع نقصان کی پرواہ کئیے بغیر اپنی حق گوئی پر قائم رہے۔ کبھی کسی سے نہ تو مرعوب ہوئے اور نہ چاپلوسی کی جس کی وجہ سے بہت نقصانات بھی اٹھائے۔

ابا اچھا کھانا کھانے اور کھلانے کے شوقین تھے خاص طور پر میٹھے پکوان۔ کسی زمانے میں جب وہ جب کم کم وہابی تھے ہمارے گھر میں شب برات بڑے اہتمام سے منائی جاتی اور خوب حلوے بنتے عزیزوں اور آس پڑوس میں تقسیم کئیے جاتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے حلوے میں ہمیشہ گھی اور میٹھا کم ہونے پر اماں سے تکرار ہوتی اور وہ اماں کی نظر بچا کر مزید گھی اور چینی شامل کر دیتے معلوم ہونے پر اماں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتیں اور اکثر فالتو گھی ایک الگ کٹورے میں نکال لیتیں۔ چنے کی دال کا حلوہ، سوجی کا حلوہ، میدے اور کھوپرے کا حلوہ شب برات میں بنتا جبکہ سردیوں میں ابا گاجر اور انڈوں کا حلوہ ضرور بنواتے۔

ہمارے گھر بناسپتی گھی کا چلن بہت بعد میں آیا۔ والد مرحوم بازار سے خالص مکھن لاتے۔پھر وہ مکھن ایک بڑے دیگچے میں ڈال کر ایک بڑی سی انگیٹھی جس میں کوئلے دھک رہے ہوتے پر چڑھا دی جاتی اور وہ خود اس مکھن میں چمچہ چلاتے رہتے یہاں تک کہ اس کے اوپر برائون رنگ کا جھاگ آجاتا جس کا ذائقہ کچھ کھٹا سا ہوتا اسے علیحدہ کردیا جاتا۔ جب جھاگ آنا بند ہوجاتا تو گھی تیار ہوتا اس کی خوشبو اور ذائقہ آج بھی نہیں بھولتا۔ یہی انگیٹھی سردیوں میں بھی خوب کام آتی۔ اماں اکثر بیمار رہتیں اور دیر سے جاگتیں جبکہ ابا بہت صبح بیدار ہونے کے عادی تھے۔ ان دنوں گھروں میں گیزر تو ہوتے نہیں تھے لہذا وہ اٹھتے ہی انگیٹھی میں کوئلے دھکا کر اس پر ایک بڑے سے برتن میں پانی گرم ہونے کے لیے رکھ دیتے۔ ہم بھائی بہنوں کے سرہانے سویٹر اور مفلر رکھ دیتے اور جب پانی گرم ہوجاتا تو ہم سب کو اٹھاتے اور تاکید کرتے کہ سویٹر اور مفلر پہن کر پہلے انگیٹھی کے پاس بیٹھ کر آگ تاپیں اسکے بعد ہی دوسری ضروریات سے فارغ ہوں۔ ہم سب کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے اور آداب دسترخوان پر بہت زور دیتے کیا مجال جو کسی نے پلیٹ میں کچھ جھوٹا چھوڑ دیا ہو یا کھانے کے دوران کسی کے منھ سے چپ چپ کی آواز آجائے۔ آم بالٹی میں بھگو دئے جاتے ابا آم گھلا گھلا کر پہلے خود چکھتے اور اگر کھٹا نہ ہوتا تو ہم میں سے کسی کو دے دیتے خود کم ہی کھاتے اور باری باری ہم بھائی بہنوں کو میٹھے میٹھے آم کھلاتے۔ ہائے کیا کیا یاد کریں!

والد مرحوم آم کے موسم میں بیٹیوں کو آم ضرور بھجواتے۔ والدین کے انتقال کے بعد یہ روایت میں الحمد للہ آج تک نباہ رہا ہوں اور آموں کی فصل میں اپنی بہنوں کو آم کا تحفہ ضرور بھیجتا ہوں۔ اب دو بہنیں تو امریکہ سدھاریں جو تیسری کراچی میں ہیں وہ شوگر کی مریضہ ہو گئیں لہذا اب یہ روایت بھی دم توڑتی محسوس ہورہی ہے۔

مرحوم والد اردو اور انگریزی کے علاوہ فارسی پر مکمل دسترس اور عبور رکھتے تھے۔ انگریزی اور اردو کی تحریر بہت پختہ لکھتے۔ اردو اور فارسی ” خط شکستہ ” میں لکھتے جو ایک زمانے میں صرف اہل علم حضرات کی پہچان تھی اب تو یہ تحریر اکثر لوگ پڑھ ہی نہی سکتے۔ مقام شکر ہے کہ میرے نانہال اور دادھیال میں علم کا ہمیشہ چرچا رہا اور بڑے بڑے باعلم بزرگ پیدا ہوئے۔ شاید اسی کا کچھ اثر ہم تک بھی آیا وگرنہ اب تو علم مفقود ہوگیا اور صرف تعلیم ہی باقی بچی ہے۔ نوجوان نسل اپنے اجداد کی میراث کو سنبھال نہیں سکی اور تعلیم برائے حصول روزگار میں لگ گئے جبکہ علم برائے کردار سازی کو یکسر نظر انداز کردیا گیا یہی وجہ ہے آج تعلیم یافتہ اشخاص کی تو کمی نہی لیکن باعلم افراد عنقا ہوگئے۔ قحط الرجال شاید اسی کا نام ہے۔

میں بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور بقول سب کے ان کا لاڈلا تھا۔ ایک روز بڑے بھائی صاحب نے شکایت کی کہ ان کو ابا کم چاہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا میاں جب آپ کی اولاد ہوگی تو پوچھیں گے آپ کسے زیادہ چاہتے ہیں اور یہ بھی کہا آپ نے یہ تو دیکھ لیا کہ میں چھوٹے کو زیادہ قریب رکھتا ہوں لیکن آپ نے وہ راتیں نہیں دیکھیں جب میں سجدے میں آپ سب کیلئے دعائیں کرتا ہوں۔

گھر میں جماعت اسلامی کے جریدے اور رسالے ہمیشہ سے آیا کرتے تھے۔ ترجمان القرآن، تفہیم اور مودودی صاحب کی تصانیف ہمارے گھر میں خوب پڑھی جاتی تھیں۔ گھر میں حزب اختلاف بھی موجود تھی۔ بڑے بھائی صاحب اور چچا ترقی پسند ادب اور کسے حد تک سوشلزم کی طرف مائل تھے۔ خوب بحث ہوتی اور نتیجہ کبھی کچھ نہیں نکلتا اور نہ ہی کوئی بد مزگی ہوتی۔ بڑا ادبی اور جمہوری ماحول تھا۔

جب میں ذرا بڑا ہوا ابا مجھے جماعت کی کارنر میٹںگز اور گھریلو اجتماعات میں لے جایا کرتے تھے اور اس طرح میرا بھی رجحان جماعت کے طرف ہوگیا اور میں بھی بینرز وغیرہ لگانے لگا اور بالآخر جمیعت کا کارکن بن گیا اور وہ کچھ دیکھا جو ناگفتنی ہے لہذا اس سے کنارہ کشی ہی میں عافیت جانی۔ سنہ چھیاسی میں کراچی میں ہونے والے کئی واقعات پر والد مرحوم بہت دلبرداشتہ تھے اور پھر جماعت کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف کی بنا پر انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی۔

سنہ پچھتر کے اوائل سے ابا کچھ بیمار رہنے لگے اکثر کہتے چکر سا محسوس کرتا ہوں ایک صبح فجر کے لئیے اٹھے تو چکرا کے گرے اور بیہوش ہوگئے۔ اس زمانے میں ناظم آباد میں ڈاکٹر نقوی کا بڑا چرچا تھا اور وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر بھی تھے۔ گھر پر مریض دیکھنے کی فیس پانچ روپے لیتے تھے ان کو بلا کر دکھایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد مذاقاً کہا ان کا دل کبھی کبھی دھڑکنا بھول جاتا ہے اور انہیں ہارٹ اسپیشلسٹ سے رائے لینے کو کہا۔ بڑے بھائی صاحب نے پروفیسر شریف سے کارڈیو ویسکیولر میں وقت لیا۔ پوفیسر شریف نے فوراً پیس میکر لگوانے کی تجویز دی۔ فوری طور پر باہر سے پیس میکر منگوا کے لگوایا گیا اس کے بعد ان کی طبیعت اچھی ہوگئی اور وہ معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہو گئے۔ والد مرحوم کبھی کبھی مذاقاً کہتے میں” بایونک مین ” بن گیا ہوں۔

سنہ چھیاسی کے آخر میں ابا کی طبیعت پھر سے ڈائون رہنے لگی اور کھانے پینے سے ان کی رغبت بھی کم ہوگئی۔ میں نے ایک دن کہا ابا آپ کھاتے کیوں نہیں تو فرمایا ” یار میرا راشن ختم ہوگیا ہے ” شام جب میں آفس سے آتا تو گھر کے باہر پڑی بنچ پر بیٹھے ملتے۔ میں انکو خوب پہچانتا تھا اور وہ بھی مجھ سے اپنا احوال کہ دیا کرتے تھے۔ اندر جاکر میں اماں سے پوچھتا کہ آج ابا نے کیا کھایا، کیا دوا لی اماں یہی کہتیں یہ کہاں کسی کی سنتے ہیں کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی دوا لی۔ میں بیگم سے سوپ وغیرہ بنواتا اور اپنے ہاتھوں سے پلاتا تو انکار نہیں کرتے اور مجھ سے دوا بھی کھا لیتے تو اماں بھنا کے کہتیں ” اب اپنے چہیتے سے دوا بھی کھالی اور سوپ بھی پی لیا ” تو ابا بڑے پیار سے کہتے کوئی اتنی محبت سے کھلائے تو۔ جس پر اماں برا مان جاتیں اور یہ چھیڑ چھاڑ یونہی چلتی رہتی۔

دسمبر چھیاسی کی پچیس تاریخ تھی میں ان دنوں کچھ زیادہ مصروف تھا میرے فرانس آفس سے ایک ٹیم آئی ہوئی تھی جسے میں کنڈکٹ کررہا تھا۔ میں رات گئے گھر پہنچا۔ میری ہمیشہ سے عادت رہی کہ آفس جاتے ہوئے اور واپسی پر پہلے والدین کے کمرے میں جاکر ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتا پھر اپنے کمرے میں جاتا۔ چنانچہ اس دن بھی پہلے انکے کمرے میں گیا اور دیر تک باتیں کیں پھر انکی اجازت سے اپنے کمرے میں سونے کے لئیے چلا گیا۔۔ صبح ساڑھے پانچ یا چھے بجے اماں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا دیکھو تمھارے ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں فوراً باہر آیا تو دیکھا کہ بستر پر ٹیک لگا کے بیٹھے تھے اور انکی سانس تیز چل رہی تھی میں سمجھا شاید سردی کی وجہ سے ایسا ہے لہذا میں نے کافی بنائی اور طشتری میں ڈال کر ابا کو پلانے کی کوشش کی جو وہ نہیں پی سکے انہوں نے مجھ سے ہومیوپیتھی کی ایک دوا مانگی میں وہ دوا دی جسے ابا نے بڑی عجلت میں کھائی۔ کچھ دیر بعد مجھ سے کہا ” بیٹا مجھے لٹا دو” لیٹتے ہی انہوں نے آنکھیں بند کیں اور پھر ان کی سانس آہستہ آہستہ کم ہونے لگی مجھے کچھ کچھ معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگیا تھا میں نے فرسٹ ایڈ کے طور پر انکے سینے پر CPR (مساج) شروع کردیا جس پر انہوں نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پھر ہمیشہ کیلئے بند کرلیں۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مجھے معلوم تھا کہ اب ابا نہیں رہے لیکن دل نہی مانتا تھا کیونکہ ان کا پیس میکر چل رہا تھا۔ میں ابا کے معالج اور مشہور کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر عبدالحق کے گھر گیا اور ان سے درخواست کی کے وہ چل کر ابا کو دیکھ لیں۔ ان کو لے کر آیا۔ معائنہ کے بعد انہوں نے کہا بڑے پرسکون طریقہ سے گئے ہیں جب میں نے کیا کہ ان کا پیس میکر تو چل رہا ہے تو ڈاکٹر نے جواب دیا انکی موت کی وجہ پیس میکر نہیں بس وقت پورا ہوگیا ہے۔

یہ جمہ کا دن تھا اور وقت تھا صبح سات بجکر چالیس منٹ۔ جب میرا بچپن مجھ سے چھن گیا اور میں اچانک بڑا ہوگیا۔ ابا کی رحلت کے بعد میں زمانے کی کڑی دھوپ میں تنہا رہ گیا وہ نہ صرف میرے باپ بلکہ دوست اور قوت تھے جنہوں نے مجھے آگے بڑھنے اور ہمت نہ ہارنے کا سبق دیا آج بھی ان ہی کی دعائوں کو اپنے اطراف محسوس کرتا ہوں۔

ابا کی نماز جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد ادا کی گئی جس میں کئی ہزار لوگ شامل تھے تدفین میں بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ابا کی وفات کے بعد ان کی استعمال میں رہنے والی اشیاء کو سب تبرک کے طور پر لے گئے کسی نے ان کی کتابیں کسی نے چشمہ اور کسی نے کپڑے لے لئیے میں نے کچھ نہیں لیا شاید مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں تھی انکی یادیں اور باتیں ہی میرے لئے ایک بڑا اثاثہ تھیں اور ہیں جو ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔ میرا یقین ہے کہ والدین جانے کے بعد بھی اپنی اولاد سے غافل نہیں رہتے۔

اس کی ایک مثال ہے کہ ملازمت کے دوران میں دو سال فیملی کے ساتھ اسلام آباد میں رہا۔ ایک رات سخت بارش اور سردی تھی، بچے چھوٹے تھے وہ گرج چمک سے خوفزدہ ہوکر میرے ہی کمرے میں سو گئے۔ رات پچھلے پہر میں نے اپنے والد مرحوم کو خواب میں دیکھا وہ مجھ سے کہ رہے ہیں کہ” اٹھو دیکھو تمھارے گھر میں دھواں بھر گیا ہے ” میری آنکھ کھل گئی لیکن غنودگی طاری تھی لیکن میں نے کہیں پانی گرنے کی آواز مجسوس کی اندھیرا بہت تھا میں کمرے سے باہر آیا تو عجیب منظر تھا کہ گھر میں ٹخنوں سے اوپر پانی بھرا تھا اور چیزیں اس میں تیر رہی تھیں میں اوپر گیا تو دیکھا کہ ٹیرس میں پانی بھرا ہوا تھا جو شاید حالیہ وائٹ واش کے دوران پرنالے بند کردینے کی وجہ سے ہوا۔ پانی ٹیرس سے ہوتا ہوا نیچے آیا اور پورا گھر جھل تھل کرگیا۔ ابا نے کس طرح بروقت مجھے نیند سے جگا دیا۔ محھے وہ آج بھی اپنے آس پاس کہیں بہت قریب محسوس ہوتے ہیں۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔

Facebook Comments HS