پیدا کیوں کرتے ہو؟
دل بوجھل، آنکھیں اشک بار اور ہاتھوں میں قلم اٹھانے کی تاب نہیں۔ معاشرے کے چہرے پر لتھڑی کالک پونچھتے پونچھتے حواس مختل، اعصاب سلب اور سانسیں بھاری ہونے لگی ہیں، مگر کالک تھوپنے والوں کے ہاتھ تھک کر تھم نہیں رہے۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ گوجرانوالہ میں ہونے والے واقعے کا ذمے دار کس کو قرار دوں؟ اس وحشی باپ کو جس نے دو سالہ بیمار بچے کو چھت سے پھینک کر اپنی ذمے داریوں سے جان چھڑانے کا گھناؤنا اور غیرانسانی عمل اختیار کیا یا عقل کی دہلیز پر ریاست کے خلاف پرچہ کاٹ کر تمام معاشرتی اداروں کو سرِعام پھانسی دوں کہ ان کی بداعمالیوں کی باعث زندگی اپنے کواڑ غریبوں کے لیے بھیڑ چکی ہے۔ پھر سوچتی ہوں کہ قصور باپ کا کہاں اور ریاست کس بات کی ذمے دار ہے؟ قصور تو سارا اس معصوم کا ہے جو بِنا سوچے سمجھے ہی خدا کی امان سے غریب کے مکان میں جا پہنچا۔ جنت سے نکل کر خفت اٹھانا ہی تو بس آدم کا مقدر ہے۔ ننھے فرشتے نے دنیا میں قدم رکھ کر ابھی چلنا ہی سیکھا ہو گا کہ انسانی لبادے میں قید ایک شیطان نے اسے واپس جنت کی طرف ہنکا کر آج تک ہر باپ کی اولاد کی خاطر دی جانے والی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی سعی لاحاصل کر ڈالی۔
دو سالہ معصوم تو باپ کے ہاتھوں مرا، سو مرا، اپنے پیچھے ان گنت سوالات چھوڑ گیا۔ جن کی تلاش میں اب میڈیا کے نمائندے گردش میں آئیں گے۔ چٹپٹی کہانی کی تلاش میں کیمرا اور مائیک سنبھالے جیل کا رخ کریں گے۔ مجرم کی کسی دولہا کی طرح رونمائی کی جائے گی۔ بچے کی پیدائش کے طریقے سے لے کر قتل تک کے واقعات مجرم کی زبانی سنوائے جائیں گے۔ کہانی کے اختتام پر مجرم باپ نہایت معصومیت سے کہے گا،”جناب! مجھ سے بڑی غلطی ہوگئی ہے جس کے لیے میں خدا سے معافی کی امید رکھتا ہوں۔” اور پھر اینکر چلا چلا کر کہیں گے،”ناظرین! یہ اپنے ناقابل معافی گناہ کو غلطی قرار دے رہا ہے۔ آپ ہی بتائیے بھلا یہ سفاک، وحشی اور قاتل باپ کیا معافی کا مستحق ہے؟ فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔”
گھر بیٹھے ناظرین نہایت تاسف کے ساتھ گردن نفی میں ہلائیں گے، مجرم پر نفرین بھیجیں گے، معاشرتی بگاڑ اور بے حسی پر لعنت بھیجیں گے، اور پھر چینل بدل کر جلد ہی اسی بے حس معاشرے کے غیرذمے دار شہری ہونے کا نہایت دقیق فریضہ انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیں گے۔ رہ گئی بات ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تو ان کا کردار بھی نہایت فعال ہو گا۔ وہ کمال چابک دستی اور پابندی سے ہر پیشی پر مجرم کو عدالت لائیں گے۔ ’’بے چارا‘‘ مجرم ہتھکڑیوں کے گھیرے اور تقدیر کے پھیرے میں آنے کی وجہ سے یقیناً سہما ہوا ہو گا۔ عدالت کا احاطہ کسی بھی بدنصیب لمحے کو اس کی موت کا پروانہ بنا سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ خوف جلد ہی زائل ہو جائے گا۔ ججوں کی مصروفیت اور وکیلوں کی حجت کے باعث عدالتی کارروائیوں کا سست ترین عمل اس کو واپس سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے گا، جہاں وہ خود کو محفوظ ترین خیال کرکے، پاکستان کے نظام انصاف کی موجودہ صورت حال پر سجدہ شکر ادا کرتے نہیں تھکے گا۔
بچہ تو باپ کے ہاتھوں خدا کی امان میں لوٹ ہی گیا ہے، قاتل باپ کی بھی رہی سہی گھریلو ذمہ داریوں سے خلاصی ہوئی، تھانے، جیل اور عدالتی فائلوں کی خانہ پری کرتے کرتے ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے جلد بری ہو جائے گی۔ لیکن عدالت کی طرف سے ملنے والی ہر نئی تاریخ سے ایک نئی کہانی ضرور رقم ہو گی۔ جس وقت معاشرے کا ہر ادارہ اور ہر ذمہ دار فرد اپنے تئیں اس سانحے کے اثرات مٹانے کی کوششیں کر رہا ہو گا، ایک بے بس اور غمگین ماں تاریک کمرے کی بوسیدہ سی دیوار سے ٹیک لگائے اپنے لعل کی یاد میں غافل ہو گی۔ زاروقطار روتی بلکتی ماں نے کس جرأت سے اپنے لخت جگر کو قبر کے اندھیرے کے حوالے کیا ہوگا۔ کتنی بے چینی سے بستر پر بچے کے بنا راتیں کاٹ رہی ہوگی۔ کلیجے میں اٹھتی ہوک اسے دن بھر ستائے گی۔ جگر کا سوز، دل کا رنج اسے برسوں یوں ہی رلائے گا۔ لیکن اس کا جیتا جاگتا کھلونا کبھی لوٹ کے نہیں آئے گا۔
خدا کے حکم اور مرد کی خواہش پر اس بے بس ماں نے بچے کو جنم دیا، خدا کی رضا اور موسم کے اثرات کی وجہ سے اس کے بچے نے بیماری کا آزار سہا، خدا کی مشیت، ریاست کی غیر ذمے داری اور سفاک باپ کی بے روزگاری کی وجہ سے بچے کی مختصر سی کہانی کا اختتام ہوا۔ وہ ماں جو اپنی آخری سانس تک بچے کے غم میں ماتم کرے گی اس کا اس پوری کہانی میں کوئی کردار تھا ہی نہیں۔ پھر بھی ساری صعوبتیں اور سارے دکھ اسی کے حصے میں آئے۔ ایک بچے کو کھو دینے کا غم بھی منائے گی اور دوسرے بچے کو پالنے کا کشٹ بھی اٹھائے گی۔ اور ہر سوچنے والا یہ سوچتا ہی رہ جائے گا کہ سماج کی ہر ناانصافی کا شکار آخر کار عورتیں اور بچے ہی کیوں بنتے ہیں؟


