نائجیریا کا ایمیل والا شہزادہ پکڑا گیا

اس نے مزید تفصیل یہ بتائی کہ وہ ایک تیل کی کمپنی کا مالک تھا اور اس نے ساری زندگی بس دولت جمع کی تھی۔ پھر اچانک اس کے بیوی بچے گاڑی کے حادثے میں مر گئے تو اسے خیال آیا کہ یہ دولت جمع کرنا زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے کینسر تشخیص ہو گیا۔ اب اس کے پاس کوئی پچیس ملین ڈالر بینک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ خود ہسپتال میں پڑا ہوا ہے۔ وہ یہ ساری رقم خیرات کرنا چاہتا ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کے عزیز و اقارب نہایت ہی بے ایمان ہیں۔ اس کی خوش قسمتی کہ کسی نے اسے ہمارے جیسے ایماندار اور خدا خوفی رکھنے والے آدمی کے بارے میں بتا دیا اور اسی لئے اس نے ہمیں یہ پچیس ملین ڈالر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔ لیکن اسے احساس ہے کہ اس کارِ خیر میں ہمارے نہایت ہی قیمتی وقت کا حرج ہو گا، اس لئے وہ اس خطیر رقم کا بیس فیصد ہمیں فیس کے طور پر دینے کو تیار ہے۔
بس اب ہم جلدی سے ہاں کر دیں اور اسے اپنے پاسپورٹ کی کاپی بھیج دیں تاکہ وہ قانونی کارروائی مکمل کر لے۔ اور ہاں، قانونی دستاویزات بنانے کے لئے ہمیں نو سو ڈالر وکیل کو بھیجنے ہوں گے جو وکیل نے سرکاری خزانے میں فیس کے طور پر بھرنے ہیں۔ اس نے خدا کا واسطہ دیا کہ ہم انکار نہ کریں۔
ہم نہایت نرم دل شخص ہیں۔ اسے ہاں کہنے ہی والے تھے کہ ایک بری خبر ملی۔ پتہ چلا کہ امریکی ریاست لوزیانا میں پولیس نے اس نائیجری شہزادے کو فراڈ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ نام اس کا مائکل نو ہے اور عمر اس کی 67 سال ہے۔ یہ پیسوں کی وصولی پر مامور تھا اور اپنا حصہ رکھ کر بقیہ آگے بھیج دیتا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ حبشی نہیں بلکہ سفید فام تھا۔ شاید دولت کے زور پر اس نے بھی مائیکل جیکسن کی طرح رنگت بدل لی ہو گی۔
قسمت کے کھیل نرالے ہیں۔ اگر امریکی یہ حرکت نہ کرتے تو اس وقت ہم پچیس ملین ڈالر کے بیس فیصد، یعنی پانچ ملین ڈالر، یعنی کوئی پچاس پچپن کروڑ روپے کما چکے ہوتے اور وہ بھی دکھی انسانیت کی خدمت کر کے۔ پولیس کو بھی ذرا شرم نہیں آئی اس ضعیف العمر علیل شہزادے کے ساتھ اتنی بے رحمی سے پیش آتے ہوئے۔


