نائجیریا کا ایمیل والا شہزادہ پکڑا گیا


کمپیوٹر نے ٹوں ٹوں کی۔ دیکھا تو ایمیل آئی ہوئی تھی۔ بھیجنے والا انجان تھا۔ بہرحال کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تیل کی دولت سے مالا مال نائیجیریا کے ایک شہزادے کی طرف سے ہے۔ یہ جان کر دکھ ہوا کہ ویسے تو اس کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے، ارب پتی آدمی ہے، اس کے اشارہ ابرو پر دنیا حرکت کرتی ہے، مگر اس وقت وہ قبر میں ٹانگیں لٹکائے ہوئے ہے۔ اسے کینسر ہو گیا تھا اور ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ چند مہینے ہی زندہ رہ پائے گا۔

اس نے مزید تفصیل یہ بتائی کہ وہ ایک تیل کی کمپنی کا مالک تھا اور اس نے ساری زندگی بس دولت جمع کی تھی۔ پھر اچانک اس کے بیوی بچے گاڑی کے حادثے میں مر گئے تو اسے خیال آیا کہ یہ دولت جمع کرنا زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے کینسر تشخیص ہو گیا۔ اب اس کے پاس کوئی پچیس ملین ڈالر بینک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ خود ہسپتال میں پڑا ہوا ہے۔ وہ یہ ساری رقم خیرات کرنا چاہتا ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کے عزیز و اقارب نہایت ہی بے ایمان ہیں۔ اس کی خوش قسمتی کہ کسی نے اسے ہمارے جیسے ایماندار اور خدا خوفی رکھنے والے آدمی کے بارے میں بتا دیا اور اسی لئے اس نے ہمیں یہ پچیس ملین ڈالر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔ لیکن اسے احساس ہے کہ اس کارِ خیر میں ہمارے نہایت ہی قیمتی وقت کا حرج ہو گا، اس لئے وہ اس خطیر رقم کا بیس فیصد ہمیں فیس کے طور پر دینے کو تیار ہے۔

بس اب ہم جلدی سے ہاں کر دیں اور اسے اپنے پاسپورٹ کی کاپی بھیج دیں تاکہ وہ قانونی کارروائی مکمل کر لے۔ اور ہاں، قانونی دستاویزات بنانے کے لئے ہمیں نو سو ڈالر وکیل کو بھیجنے ہوں گے جو وکیل نے سرکاری خزانے میں فیس کے طور پر بھرنے ہیں۔ اس نے خدا کا واسطہ دیا کہ ہم انکار نہ کریں۔

ہم نہایت نرم دل شخص ہیں۔ اسے ہاں کہنے ہی والے تھے کہ ایک بری خبر ملی۔ پتہ چلا کہ امریکی ریاست لوزیانا میں پولیس نے اس نائیجری شہزادے کو فراڈ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ نام اس کا مائکل نو ہے اور عمر اس کی 67 سال ہے۔ یہ پیسوں کی وصولی پر مامور تھا اور اپنا حصہ رکھ کر بقیہ آگے بھیج دیتا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ حبشی نہیں بلکہ سفید فام تھا۔ شاید دولت کے زور پر اس نے بھی مائیکل جیکسن کی طرح رنگت بدل لی ہو گی۔

قسمت کے کھیل نرالے ہیں۔ اگر امریکی یہ حرکت نہ کرتے تو اس وقت ہم پچیس ملین ڈالر کے بیس فیصد، یعنی پانچ ملین ڈالر، یعنی کوئی پچاس پچپن کروڑ روپے کما چکے ہوتے اور وہ بھی دکھی انسانیت کی خدمت کر کے۔ پولیس کو بھی ذرا شرم نہیں آئی اس ضعیف العمر علیل شہزادے کے ساتھ اتنی بے رحمی سے پیش آتے ہوئے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar