احتساب ہمارا حق ہے


ہم میں سے اکثر افراد بجا طور پر خود کو محتسب اعلی کے مقام پر فائز کر چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں خود سے زیادہ دانشمند، موقع شناس، ایماندار اور پختہ کردار والا کوئی دوسرا شخص دکھائی نہیں دیتا۔ دوسرے تمام افراد ہمیں یا تو احمق لگتے ہیں، یا کرپٹ یا پھر وہ بک چکے ہیں۔ شکر ہے کہ قرب قیامت کی نشانیوں والے اس دور میں ہم بھی موجود ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم اپنے ارد گرد کے افراد سے ان کے اعمال، ایمان اور اقوال کی وضاحت کا مطالبہ کرتے ہیں اور سچے دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ دور و نزدیک کے تمام انسان ہمیں جواب دہ ہیں، بلکہ ہم ان کو قرار واقعی سزا دے کر نشان عبرت بنانا چاہتے ہیں۔

لیکن یہ مت سمجھیں کہ ہم صرف اپنے ارد گرد کے افراد کی فلاح و بہبود پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور باقی دنیا کی ہمیں پروا ہی نہیں ہے۔ نہیں حضرت ایسا نہیں ہے۔

آپ سوشل میڈیا پر تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کا احتساب اور اصلاح پورے جی جان سے کریں گے خواہ ہم آپ کو جانتے ہی نہ ہوں۔ آپ کو سوشل میڈیا پر دیکھ لینا ہی ہمیں یہ حق دے دیتا ہے کہ آپ کی تربیت شروع کر دیں۔ خبردار جو ہمیں انفرینڈ یا بلاک کیا۔ جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں درحقیقت وہ ٹھیک ہونا ہی نہیں چاہتے۔ یہ ان کی اخلاقی کمزوری ہے کہ وہ ہمیں اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کرنے سے انکاری ہیں۔ ورنہ وہ کسی انجان مصلح کو اپنی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرنے سے روک کر اپنی اخلاقی کمزوری اس طرح عیاں نہ کرتے۔

لیکن عمومی مشاہدہ ہے کہ متکبر لوگ اکثر اعلی درجے کے چغد ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہ اکثر ہم جیسے دانشمند اور نیک نیت لوگوں سے دور بھاگتے ہیں۔ لوگوں کے ہم سے دور بھاگنے کی وجہ ہمارا وہ دانشمندانہ رویہ نہیں ہے جسے یہ کھسیانے ہو کر احمقانہ کہتے ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت دیکھیے کہ بے دھڑک ہو کر الزام لگا دیتے ہیں کہ ہم باتیں کرتے ہیں تو بدبو آتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم صبح شام دانت صاف کرتے ہیں۔ ان کو سچ زہر لگتا ہے جسے یہ بدبو کہتے ہیں۔ یہ تو ہمارے کردار کی برتری اور ان کے کردار کی خامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ہم ان کی وال پر جا کر جو مرضی بول دیں اور یہ جواب دینے کا حوصلہ ہی نہیں کر پاتے اور ہمیں اگنور کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ان کا تکبر اور بزدلی ملاحظہ فرمائیے کہ حق کے دو بول سنتے ہی ہمیں اپنی وال سے بھگا دیتے ہیں۔ اور کھسیانے ہو کر دعوے یہ کرتے ہیں کہ ہم کسی قابل ہوتے تو لوگ ہماری چوپال یعنی وال پر آ کر ہماری باتیں سنا کرتے، ہم در در جا کر لوگوں کی چوپالوں میں گھسنے کی کوششیں نہ کرتے۔ حالانکہ یہ معاملہ کسی بھی ذی شعور منصف مزاج شخص کے سامنے رکھا جائے تو وہ بتا دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاقی برتری کی وجہ سے ہم کہیں بھی جا کر حق بیان کر سکتے ہیں اور جو چور ہیں وہ اپنی چوپال میں چھپے رہتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف مقامی معاملات پر بات کرنے کے اہل ہیں۔ دنیا میں کچھ بھی برا ہو تو ہم اس پر احتساب کرتے ہیں۔ خواہ ڈانلڈ ٹرمپ غلطی کرے یا نیتن یاہو ظلم، ہم ایک کمنٹ کر کے ہی اسے ایسی چمانٹ لگاتے ہیں کہ وہ تڑپتا رہ جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے حکم پر کی جانے والی موساد کی سازش ہی ہے کہ ہمیں محتسب اعلی کی بجائے چغد اعلی سمجھا جانے لگا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ خود کو دوسروں کا محتسب مقرر کرنے والے، خود کو دنیا کا حکمران یا جہانگیر یا نورجہاں سمجھنے وغیرہ صرف پاگل خانے میں ہی پائے جاتے ہیں، تو ہم یہ واضح کر دیں کہ ایسا نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar