“ہم سب” کے ساتھ گزرا میرا ایک سال


میں نے اپنی پہلی تحریر ہم سب کو دسمبر 2016ء میں بھیجی تھی جو کہ چھپ بھی گئی۔ تحریر کا محرک میرے ارد گرد کا ماحول تھا جو روز بروز تنگ اور گھٹن زدہ ہوتا جا رہا تھا۔ "ہم سب” نے مجھے ایک ایسا روزن مہیا کیا جہاں سے میں تازہ ہوا میں سانس لے سکتی تھی اور اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر سکتی تھی۔ میری وہ تحریر چھپ گئی اور اس کا رسپانس میں نے تقریباً ایک ماہ بعد دیکھا۔

لکھنے کی بات کی جائے تو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسا بھی کوئی کام کرں گی۔ میں نے خود کو کبھی اس قابل جانا ہی نہیں۔ کوئی مجھے کیوں پڑھنا چاہے گا، یہی سوچ مجھے اس طرف آنے سے روکتی تھی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے 2011ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں داخلہ لیا تو اکثر ہی نوٹس بورڈ پر ایک سینئیر کا کسی اخبارمیں چھپے ہوئے کالم کا تراشہ لگا ہوتا تھا۔ میں اور میری ایک دوست خاص طور پر اس تراشے کو پڑھتے تھے اور اس سینئیر کو بہت بڑا صحافی مانتے تھے۔ اس وقت ایسے لگتا تھا کہ صحافت کی دنیا میں داخل ہونا بہت ہی مشکل کام ہے اور یہ صاحب کوئی بہت بڑی چیز ہیں۔

سوچا چلو ہم بھی ایک بار کوشش کرکے دیکھتے ہیں۔ اخبارات چھانے تو کہیں کالم یا بلاگ بھیجنے کے لیے کوئی ایڈریس نہیں دیا ہوا تھا۔ جہاں تھا وہاں سے کبھی کوئی جواب نہیں آتا تھا۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے اس وقت کے ڈائریکٹر احسن اختر ناز صاحب ایک بار کلاس میں آئے تو ہم سب کو مدیر کے نام خط لکھنے کی تحریک دے گئے۔ کلاس کے کچھ بچے اس طرف لگ گئے۔ کسی کا خط چھپتا خوب فخر سے دکھاتا۔ میں نے بھی کچھ خطوط لکھے جو چھپ بھی گئے لیکن خطوط لکھنے میں مزہ نہیں آتا تھا، سو یہ سلسلہ بھی تھم گیا۔ پھر نوکری کے جھنجھٹوں نے زندگی مصروف بنا دی۔

پڑھائی کے سلسلے میں چین گئی تو وہاں تنہائی کا آسیب مجھے ڈرانے لگا۔ اس ڈر سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا کا رُخ کیا۔ وہاں اکثر "ہم سب” کی پوسٹس نظر سے گزرتی تھیں۔ سوچا یہاں کچھ لکھ کر بھیجتی ہوں۔ آرٹیکل لکھا اور بھیج دیا جو شاید چھپ بھی گیا۔ پھر ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ گو اسے سلسلہ نہیں کہنا چاہئیے کیونکہ میں کبھی بھی باقاعدگی سے نہیں لکھتی تھی۔ کبھی مہینے میں ایک آدھا بلاگ لکھ ڈالا تو کبھی ہر ہفتے کچھ لکھ کر بھیج دیا۔ ہم سب والوں نے بھی اس سلسلے میں مجھے بہت کچھ سکھایا۔ شروعات میں میرے بہت سے آرٹیکلز ناقابلِ اشاعت بھی ٹھہرے۔ ان سے سیکھا کہ کیا لکھنا ہے، کب لکھنا ہے اور کیسے لکھنا ہے۔

خوشی کا مقام وہ تھا جب کچھ ماہ پہلے میری ایک تحریر پر ایک قاری نے کمنٹ کیا اور میری ایک دوسری تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی لکھائی میں بہت بہتری آئی ہے۔ وہ کمنٹ پڑھ کر میں دنوں تک خوش رہی۔

ہم سب کے بہت سے مصنفین نے میری لکھائی کے ساتھ ساتھ میری ذات پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا۔ ان میں ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اور ڈاکٹر خالد سہیل کا خصوصاً شکریہ جنہوں نے مجھے زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنا سکھایا۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے آرٹیکلز تو میں اپنی چھوٹی بہن کو بھی پڑھنے کا کہتی ہوں۔ وہ نفسیات کی طالبہ ہے۔ امید ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر خالد سہیل کی طرح لوگوں کی مدد کیا کرے گی۔

یہ سال میری زندگی کے یادگار برسوں میں سے ایک ہے۔ اس سال میں نے خود کو تلاشا اور اپنی ذات سے مطمعن ہونا سیکھا۔ میں جیسی ہوں ویسی بہترین ہوں اور میرا جیسا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یہ سال اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ اس سال مجھے اپنے والدین کو چین گھمانے کا موقع ملا۔ چین میں بنے شیشے کے پل پر جانے کا انہیں بہت شوق تھا۔ گو میرے پلان میں وہ شامل نہیں تھا کہ وہ پل ایک پہاڑ کے اوپر واقع ہے جہاں جانا بہت مشکل کام ہے۔ میرے والدین وہاں جانا چاہتے تھے تو میں لے گئی۔ شیشے کے پل پر ان کی خوشی دیکھ کر میں پھولے نہیں سما رہی تھی۔ وہ پل میری زندگی کا حاصل ہے۔

اس بلاگ کا اختتام اس دعا کے ساتھ کروں گی کہ آنے والا سال آپ سب کے لیے خوشیوں بھرا ثابت ہو۔ 2018ء میں داخل ہونے سے پہلے اپنی کسی بری عادت کو اس جانے والے سال کے ہمراہ رخصت کر دیں تا کہ اگلے سال میں آپ ایک بہتر انسان کے طور پر داخل ہوں۔ فی امان اللہ۔

Facebook Comments HS