تین طلاق کا خاتمہ: شریعت میں مداخلت کی سیاسی گستاخی
مسلمانوں کی ناراضی کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت حکومت نے ایوان میں تین طلاق کے خلاف بل پاس کروا لیا ہے۔ جبکہ حکومت بخوبی جانتی ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ شرعی ہے، سیاسی نہیں۔ مگر حکومت یہ بھی جانتی تھی کہ مسلمانوں میں عدم اتحاد کی فضا اور تین طلاق پر مسلکی ہم آہنگی کا نہ ہونا ان کےمقاصد کے حصول کی راہیں آسان کردے گا۔ اگر تمام فرقے متحد ہو کر حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے تو ممکن ہے تین طلاق کے خلاف بل پاس ہوجاتا مگر حکومت مسلمانوں کے اتحاد سے دہل جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ سب کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ رہا۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ تین طلاق کے مسئلے پر اپوزیشن کا بھی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ممکن ہے اپوزیشن بھی یہ سوچ رہی ہو کہ جب مسلمان شریعت میں مداخلت پر متحد نہیں ہوسکے تو پھر حکومت کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن کا متحد ہونا چہ معنی دارد؟ اپوزیشن کے سرد ردعمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حقوق کے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کی ذہنیت یکساں ہے۔ ہم مسلسل سنتے آ رہے ہیں کہ حزب اقتدار ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے۔ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ اپوزیشن بھی اپنے خاتمہ پر رضامند ہے۔ تین طلاق کے خلاف پاس ہونے والے بل کی مخالفت میں ایوان سے واک آئوٹ کر دینا ہی کافی نہیں تھا بلکہ پارلیمانی اجلاس سے قبل حکومت کےخلاف اپوزیشن کی محاذ آرائی ضروری تھی۔
مسلم رہنما اور ادارے بھی حکومت کو یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ مسلم پرسنل لا کی اہمیت کیا ہے اور اس کا اصل مآخذ کیا ہے۔ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ طلاق ایک سماجی قانون ہے جسے مولوی ملائوں نے آپسی رضامندی کے بعد بنا کر مسلم سماج پر تھوپ دیا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ کب اور کہاں سے وجود میں آیا۔ سوال یہ ہےکہ حکومت تین طلاق کے خلاف اتنا جارح انداز کیوں اختیار کئے رہی؟ کیا مداخلت کا یہ سلسلہ یہیں ختم ہوجائے گا یا ابھی دیگر مسائل کو بھی مختلف حیلے و بہانے بنا کر اٹھایا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسی تنظیمیں جن کے مذہب اور عقیدہ کی کوئی جڑ نہیں ہے وہ کیوں اسلامی شریعت میں مداخلت کی کوشش کررہی ہیں؟ یا صرف اس نازک مسئلہ کو مسلمانوں کے درمیان چھیڑ کر اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنا ہی ان کا بنیادی ہدف ہے؟ اس سوال کا جواب کچھ بھی ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ تین طلاق کے مسئلے نے مسلم خواتین کی زندگی تباہ کر دی ہے۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو مسلم خواتین (خواہ انہیں استعمال کیا جا رہا ہو یا وہ مجبوراً احتجاج کررہی ہوں ) کبھی مسلم پرسنل لا کے خلاف کمر بستہ ہو کر میدان عمل میں نہ آتیں۔ اس لئے کہ مسلم خواتین شرعی قوانین کی کتنی پابند ہوتی ہیں یہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور ہم سبھی جانتےہیں مگر جس مسئلے کے خلاف پردہ نشین اور ایسی خواتین جن کا اسلامی قوانین کی پابندی سے دور دور تک کا تعلق نہیں ہے وہ بھی متحد ہوکر میدان عمل میں ہیں اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس قانون کی آڑمیں ناانصافیاں تو ہورہی ہیں۔ فیس بک یا واٹس اپ یا ٹیلی فون پر طلاق دے دینا خواتین کے ساتھ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ اسلام میں قاضی کا تصور محض دکھاوا نہیں ہے بلکہ قاضی کا کام یہی ہے کہ وہ طلاق جیسے مسائل کو طرفین کی موجودگی میں سلجھائے۔ طلاق کے سبب کی تہہ تک پہنچے اور جہاں تک ممکن ہو طلاق ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ مگر ہمارے لا میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ قاضی تو خیر اب سرکاری زرخرید ہوچکے ہیں مگر وہ مولوی حضرات جو طلاق پڑھتے ہیں ان کے طریقہ کار پر بھی سوال کھڑے ہوتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی تین طلاق کے قانون میں تو کسی مولوی یا قاضی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس شوہر کی زبان پر تین بار طلاق کا صیغہ جاری ہوا نہیں کہ طلاق ہوگئی۔ کیا یہ خواتین کا شرعی استحصال نہیں ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
مسلم پرسنل لا اللہ (شارع) کا قرار دیا ہوا قانون ہے جس میں ترمیم و تنسیخ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن خود اس مسئلہ کی وضاحت کر رہا ہے کہ ’’ثم جعلناک علیٰ شریعۃ من الامرفاتبعھا ولا تتبع اھوآءالذین لا یعلمون ‘‘۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ’’شریعت اسلام ‘‘جس قانون کا نام ہے یہ قانون عام مسلمانوں کا قراردیا ہوا قانون نہیں ہے، خود پیغمبراسلامؐ بھی اس قانون کو بنانے میں شامل نہیں ہیں ورنہ اللہ اپنے پیغمبرؐ کو مامور فرماتا کہ آپ مسلمانوں کے لئے قانون حیات بنا کر پیش کردیجئے۔ یہ الگ بات کہ ہم سنت پیغمبرؐ یا قانون پیغمبر (احادیث وغیرہ) کو بھی بالواسطہ اللہ کا ہی قانون سمجھتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ’’وما ینطق عن الھویٰ۔۔۔‘‘ یہ (پیغمبرؐ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے بلکہ وحی الہی کے مطابق کلام کرتےہیں‘‘۔ یعنی قرآن کی آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم پرسنل لاء اللہ کا قرار دیا ہوا ہے اور اللہ نے قرآن میں اعلان کر دیا ہے کہ ’’لن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا‘‘۔ لہذا شریعت اسلام کا کوئی بھی قانون بدل نہیں سکتا اگر وہ قانون واقعی اللہ کا قراردیا ہوا ہے اور رسول اسلام ٔ کی سنت طاہرہ میں اس قانون کا جواز موجود ہے۔ اگر اللہ نے اپنے قرار دیے ہوئے قانون میں اپنے رسولؐ کو بھی تبدیلی کا حق نہیں دیا اور نہ رسولؐ کو قانون وضع کرنے کا کہیں حکم دیا گیاہے تو پھر دوسروں کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ قانون الہی میں ’’اصلاح شریعت ‘‘ یا ’’بدعت حسنہ ‘‘کے نام پر تبدیلی کریں اور اپنی مرضی کو داخل شریعت کرکے اسلامی قانون کا مضحکہ اڑائیں۔ اگر ایسا کرنے والوں کی پذیرائی ہی ہمارے عقائد کی سلامتی و استحکام کی علامت ہے تو پھر اسلامی شریعت میں تبدیلی کا حق ہرکس و ناکس کو حاصل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا تین طلاق کا مسئلہ اللہ کا قرار دیا ہوا قانون ہے یا اس قانون الہی میں وفات پیغمبرؐ کے بعد ترمیم کی گئی ہے جسے مسلمان بدعت حسنہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بدعت حسنہ کو اسلام میں جگہ دینا آیا قانون الہی کے خلاف ہے یا نہیں۔ اس پر بھی بحث لازمی ہے۔ طلاق کا قانون قرآن میں موجود ہے مگر جس طلاق کی آج ہم بحث کررہے ہیں اس قانون طلاق کا شریعت محمدی سے کیا تعلق ہے؟ اس مسئلہ پر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھیں۔ ایک بار پھر تحقیق کریں اورعوام کو مسلم پرسنل لاء کی حقیقت سے روشناس کروائیں۔ جو قانون اللہ کے قانون کے خلاف ہو وہ کبھی قانون شریعت نہیں ہوسکتا۔ جس قانون کی تائید سنت پیغمبرؐ میں موجود نہ ہو اس قانون کا نفاذ اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی تباہی کا ذریعہ ہی بن سکتی ہے۔ لہذا مسلمان اس مسئلہ کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنا کر طلاق کے مسئلے کو قرآن اور سنت پیغمبرؐ کی روشنی میں حل کریں تاکہ دوسروں کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ قانون شریعت میں مداخلت کی راہ تلاش کرسکیں۔
مسلمانوں کو غورکرنا ہوگا کہ آخر مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کی آوازیں کیوں اٹھ رہی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ خود مسلمان بھی قانون شریعت (تبدیل شدہ) کے خلاف متحد ہو رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم فرقہ وارانہ انانیت کی بنیاد پر اصل قانون شریعت کو کاغذ کے پلندوں میں دبائے بیٹھے رہیں اور اس وقت جاگیں جب حالات ہماری دسترس سے باہر ہو چکے ہوں۔ مسلمان عقل سے کام لیں کیونکہ ابھی بعض مسائل میں ہی ترمیم و تبدیلی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس لئے کہ شریعت کے بعض ابواب ایسے ہیں جو وقت اور حالات کے لحاظ سے بدلتے ہیں مگر بنیادی قوانین کبھی نہیں بدلتے جیسے نماز کا قانون ہے۔ یہ الگ مسئلہ کہ پیغمبرؐ کے حکم ’’نماز ویسے پڑھو جیسا مجھے پڑھتے دیکھتے ہو‘‘ کے بعد بھی آج تک طریقہ نماز پر مسلمان متحد نہیں ہو سکے مگر اس طریقہ کے خلاف کبھی ترمیم کی آواز نہیں اٹھی۔ تبدیلی کی آواز انہی مسائل میں اٹھتی ہے جن مسائل میں ترمیم و تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے یا پہلے بھی ان مسائل میں ترمیم و تبدیلی کی گئی ہو۔ بہر حال تین طلاق کا مسئلہ سنجیدہ مسئلہ ہے اور تمام مسلمانوں کو اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ تخریبی طاقتوں کو مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا جواز نہ مل سکے اور تین طلاق کا ایسا شرعی حل پیش کریں جو قانون قرآن کے مطابق ہو ناکہ قانون قرآن کے خلاف کسی دوسرے کی سنت کو عوام پر تھوپنے کی کوشش کی جائے۔





