کیا این جی اوز جاسوسی کرتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں بہت سی انٹرنیشنل این جی اوز کو جانتا ہوں۔ آج آپ کو ان میں ایک کی کہانی سناتا ہوں۔

یہ 1937 کی بات ہے۔ سپین میں بہت ظالمانہ سول وار جاری تھی۔ اس جنگ کے دوران میں ایک انگریز صحافی کو ایک بے یارومددگار بچہ ملا۔ اس بچے کی جیکٹ کے ساتھ ایک رقعہ سیفٹی پن کے ذریعے سے چپکایا گیا تھا۔ اس صحافی نے وہ رقعہ کھولا اور اسے پڑھا۔ اس میں لکھا تھا کہ اگر میں اس جنگ میں مارا گیا تو اس بچے کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اس لیے اگر یہ بچہ آپ کو ملے تو پلیز اس کا خیال رکھیں۔ اس کو آپ کی مدد کی سخت ضرورت ہو گی۔ یہ رقعہ اس بچے کے والد نے لکھ کر اس بچے کے کوٹ کے ساتھ ٹانک دیا تھا۔ کس درد میں ہو گا وہ شخص۔

بچے کے کوٹ کے ٹانکے ہوئے اس خط نے اس صحافی کو بہت متاثر کیا۔ اس انگریز صحافی نے نہ صرف اس بچے کو گود لے لیا بلکہ ایسے بہت سے دوسرے بچوں کے بارے میں بھی سوچا جن کے والدین اس جنگ میں مارے گئے تھے اور ان بچوں کا خیال رکھنے ولا کوئی نہ تھا۔ اس صحافی نے کچھ اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا جو کہ زیادہ تر صحافی ہی تھے اور ایسے بچوں کی پرورش کے لیے باقاعدہ کام شروع کیا۔ ایک گھر کرائے پر لیا جس میں ان بچوں کو رکھا اور ان کی خوراک اور پرورش کے لوازمات عام لوگوں کی مدد پورے کرنے شروع کر دیے۔ یہ ایک چھوٹا سا "یتیم خانہ” بن گیا۔ 80 سال قبل یہ ایک ادارے کا جنم تھا جس نے آگے چل کر ایک بڑی انٹرنیشنل این جی او بننا تھا۔

بچوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو وہ انہیں بحری جہاز کے ذریعے پہلے برطانیہ اور پھر کچھ بچوں کو امریکہ تک بھی لے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس نیک کام میں شامل کیا جا سکے۔ بہت سے خدا ترس لوگ ان بچوں کی حفاظت کے لیے مالی مدد دینے لگے۔

اس نیک کام میں شامل لوگوں نے سوچا کہ ایسے بھی بہت سارے بچے اس دنیا میں ہیں جو والدین کے ساتھ رہتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ اس کام کو آگے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچنے اور ان کی فیملیز کو امداد دینے کے لیے اس ادارے کو امریکہ میں رجسٹر کرا دیا گیا۔

اس ادارے کے بانی نے ڈونیشن حاصل کرنے کے لیے غریب بچوں کو "امیر” اور نیک دل لوگوں کے ساتھ جوڑنے کا ایک طریقہ نکالا جس کو بعد میں سپانسرشپ کہا گیا۔ اس طریقے کے مطابق بچے کے ماہانہ اخراجات کا ایک تخمینہ لگایا جاتا۔ کوئی بھی شخص جو ایک یا ایک سے زیادہ بچوں کو سپانسر کرنا چاہے وہ اس بچے کے ماہانہ اخراجات ادارے کو دے دیتا اور ادارہ یہ پیسے اس بچے کے والدین کو پہنچا دیتا۔ بچے کی فیملی اس سپانسر کے ساتھ خط و کتابت بھی کرتی اور اپنے سپانسر کو اپنے اور خاص طور پر بچے کے حالات سے آگاہ رکھتی۔ اس طرح پیسے دینے والا یوں سمجھتا جیسے اس نے ایک بچے کو متبنی (Adopt) بنایا ہوا ہے اور وہ اس کی پرورش کر رہا ہے۔

غریب بچوں کی پرورش کا یہ طریقہ چل نکلا اور اس ادراے نے ایک ملک سے دوسرے ملک جانا شروع کر دیا۔ آج یہ ادارہ کوئی ستر غریب ملکوں کی لاکھوں غریب فیملیز کے ساتھ کام کرتا ہے اور ان کی آبادیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے مالی وسائل مہیا کرتا ہے۔ اس ادارے کو اکیس امیر ممالک کے لاکھوں لوگ ہر مہینے ڈونیشن دیتے ہیں۔

پاکستان میں اس ادارے نے 1997 سے لے کر اب تک لاکھوں بچوں خاص طور پر بچیوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے بے پناہ کام کیے ہیں۔ ان کاموں میں پیدائش کے اندراج سے لے کر تعلیم، صحت اور پینے کے لیے صاف پانی جیسی اہم سہولتوں کی فراہمی شامل ہے۔ سیکڑوں سرکاری سکولوں کی حالت کو بہتر کیا اور بہت سے نئے سکول بھی بنائے۔ بہت سے گاؤں کی حالت کو بہتر کرنے کے لیے ہر طرح کا انفراسٹرکچر مہیا کیا۔ یہ سارے کام لوکل رضاکاروں کے ساتھ مل کر کیے جاتے ہیں اور ان رضاکاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ وہ رضاکار اپنے کام اور اس ادارے کے ساتھ تعلق پر فخر کرتے ہیں۔ اس ادارے نے پاکستان میں 2005 کے زلزلے کے بعد کوئی ڈیڑہ ارب روپے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے خرچ کیے۔

انٹرنیشنل لیول پر یہ ادارہ چلتا کیسے ہے؟ اس ادارے کا ہیڈکوارٹر لندن میں ہے۔ کوئی 15 لوگوں پر مشتمل اس کا ایک انٹرنیشنل بورڈ ہے جو اس ادارے کو چلانے کا ذمہ دار ہے۔ اس بورڈ میں ان تمام ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے جہاں سے ڈونیشن جمع کی جاتی ہے۔ میرے علم کے مطابق اس ادارے کا نیدرلینڈ کا دفتر سب سے زیادہ پیسے جمع کرتا ہے اس لیے نیدرلینڈ سے ایک سے زیادہ بورڈ ممبرز ہوتے ہیں۔ بورڈ کے تین ممبران ان غریب ملکوں سے بھی آتے ہیں جن میں یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ترقیاتی کام کرتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت اس ادارے میں کوئی 400 لوگ کام کرتے ہیں۔ یہ ادارہ ہر سال پاکستان گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ یعنی ایک طرف تو ہماری حکومت اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھتی اور لاکھوں بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور دوسری جانب اگر کوئی دوسرا ان بچوں کا خیال رکھنا چاہے تو اس سے ٹیکس بھی وصول کرتی ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

پاکستان کی حکومت کو ابھی ابھی پتا چلا ہے کہ یہ ادارہ اسی سال قبل صرف اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ بچوں کے حقوق پر کام کرنے کے بہانے پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف کام کر سکے اور پاکستان کو کمزور کر سکے۔ یہ اصل میں پاکستان کے خلاف ایک اور سازش تھی۔ اس لیے اس ادارے کو (اس جیسے 20 اور اداروں سمیت) پاکستان میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

دنیا کے 15 ممالک کے لوگوں کا ایک بورڈ صرف اس لیے اکٹھا کیا گیا تاکہ پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

اس ادارے کے بہانے دیکھو۔ پچھلے 80 سال میں دنیا کے 70 ممالک میں کروڑوں بچوں کی زندگیاں بہتر بنانا اصل میں پاکستان کے خلاف سازش کا ایک بہانہ تھا۔ یہ ادارہ اور اس جیسے 20 دوسرے جاسوس اداروں کو پاکستان میں کام کرنے سے روکنے پر پاکستان کا مقام دنیا بھر میں مزید بلند ہو گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 296 posts and counting.See all posts by salim-malik