امریکی صدر اگر بے وقوف بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا قصور؟

یہ ایک نہایت پریشان کن صورت حال ہے۔ ایک عظیم امریکی صدر ابراہام لنکن نے کہا تھا کہ ”آپ تمام لوگوں کو کبھی کبھار بے وقوف بنا سکتے ہیں، چند لوگوں کو ہمیشہ ہی بے وقوف بنا دیتے ہیں، لیکن آپ تمام لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنا سکتے“۔
کیا امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان پچھلے پندرہ برس سے ہر امریکی صدر کو کامیابی سے بے وقوف بنا دیتا ہے، یا پھر وہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ہر امریکی صدر بنا بنایا بے وقوف ہوتا ہے؟ جہاں تک پاکستان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کو بے وقوف بنا بنا کر ٹھگ رہا ہے تو یہ بات تو اسے پاکستانی عوام ایک طویل عرصے سے بتا رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بہت چالباز ہیں۔ پھر بھی امریکہ کو پندرہ سال بعد اس بات کا پتہ چلا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر اگر بے وقوف بن جاتے ہیں تو ہمارا کیا قصور؟ ہم بھی تو 70 سال سے ان حکمرانوں کے ہاتھوں بے وقوف بن رہے ہیں، ہم نے کبھی ایسے شور مچایا؟
بہرحال ہم اس بات کی شدید مذمت کرتے ہیں کہ امریکہ اپنی بے وقوفی پر ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ اسے ہم بھی تو پچھلے سترہ برس سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان پر ہم سے ڈیل کر لو، لیکن وہ تو انڈیا سے ڈیل کرنا چاہتا ہے حالانکہ انڈیا اسے کئی مرتبہ بے وقوف بنا چکا ہے۔ اب 33 ارب ڈالر گنوانے کے بعد تو امریکیوں کو یہ یقین آ جانا چاہیے کہ ہم انڈیا سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ لیکن وہ اگر ہم جیسے نیک طینت لوگوں سے بھاگ کر بنارسی ٹھگوں کے ہتھے چڑھنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی۔
امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اب ہم اس کے ڈو مور کے احکامات نہیں مانیں گے۔ اب امریکہ کو ہمارا ڈو مور ماننا پڑے گا۔ ورنہ وہ یہ بات یاد رکھے کہ دنیا میں ہمارے دوستوں کی کمی نہیں ہے۔ امریکہ نہ بھی رہا تو ہمیں کوئی فرق نہِیں پڑے گا۔ ہم کہیں اور سے امداد مانگ لیں گے۔

