ہمیں اب خود اپنے خلاف گواہی دینا باقی ہے


جب میں سینہ ٹھونک کے یہ اعلان کرتی ہوں کہ بھائی میں دوغلی نہیں ہوں، ہر مکتب فکر کے لوگوں میں اپنی جگہ بنانا چاہتی ہوں تو اس سے بڑھ کر دوغلا پن کیا ہو گا۔ میں بقائے انسانیت کی خاطر نہیں اپنی واہ واہ کی خاطر سب کے ساتھ گھل مل کر رہتی ہوں۔ مگر کسی بھی مکتب فکر کے ساتھ مخلص نہیں ہوں۔ میں یہ ہوں۔ میں یہ نہیں ہوں۔ ہر اچھائی میری ہے اور ہر برائی سے میں دور ہوں۔ میں حقوق انسانی کی علمبردار ہوں۔

جب کہ حق تو میں نے اپنا بھی ادا نہیں کیا۔ مخلص تو میں خود کے ساتھ بھی نہیں ہوں۔ جو میں ہوں وہ میں نظر نہیں آنا چاہتی اور جو میں نظر آتی ہوں وہ ایک گرگٹ ہے۔ جس رنگ کی زمین اسی رنگ کی میں منافق، بزدل، مفادپرست، خود غرض، ریاکار، جفاکار سود و زیاں کے چکر میں پھنسی، ایک نقلی چہرہ سجائے اپنی بد صورتی پر۔ اور لوگوں سے اپنے لئے آراء طلب۔ ستائش طلب۔ اس طلب میں کبھی پیار ملتا ہے کبھی نفرت۔ مگر یہ سب مجھے نہیں ملتا۔ یہ میری منافقت کو ملتا ہے۔ کیونکہ لوگ ہمارے دکھاوے سے ہمیں پہچانتے ہیں۔

لوگ؟ کون ہیں یہ لوگ؟ بلکل میرا ہی عکس۔ اپنی اپنی بدصورتی چھپانے میں مگن۔ اپنی بدصورتی بھی کہیں کھو چکے لوگ۔ اپنی اصلیت میں انسان مگر دکھاوے میں فرشتے۔ فرشتے کون ہیں؟ یہ وہ مخلوق ہیں جنھوں نے صرف حضرت انسان کو سجدہ کیا تھا۔ پھر کیوں ہم اپنے انسان ہونے پر شرمندہ ہیں۔ اس قدر شرمندہ کہ اپنی غلطی مان کر ہی نہیں دیتے۔ حالانکہ اگر غلطی مان لی جاتے تو احتساب کا سلسلہ روک بھی سکتا ہے۔ غلطی کی تصیح بھی ہو سکتی ہے۔ مگر ہم تو بس اپنے آپ کو فرشتہ، غلطی سے پاک اور ہر دلعزیز ہونے کے چکر میں اپنی ہستی ہی کھو چکے ہیں۔

انسانیت اختلاف رائے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ اختلاف رائے پر اتفاق کا نام ہے۔ ہم خود کو جو بھی ظاہر کر لیں ہمارا اندر ہمیں جانتا ہے۔ اس کو کیسے اندھا بہرا کریں گے۔ یہ دوغلا پن آہستہ آہستہ ہمارا اصل بن جاتا ہے۔ ہم انسان ڈی فارم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے رویے اسی دوغلے پن نے منفی بنا دیے ہیں۔ تمام تباہ کاریوں کا با عث یہ دوغلا پن ہے۔ جو ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ کسی ایک پوانٹ پر کھڑا ہونا بہت خطرناک ہے، بھائی ۔ اپنی ساکھ کے لئے۔ مگر کیا ہو گا جب میرا راز فاش ہو گا کہ میں کون ہوں۔

مگر نہیں میرا یہ راز راز ہی رہے گا۔ جب تک میں خود اپنے ہاتھوں میں اپنے کیے کی کتاب نہیں پڑھوں گی۔ تب میں اپنا اصل روپ دیکھ کر خود ہی چلا اٹھوں گی کون ہے یہبد شکل عورت اسے تو میں جانتی ہی نہیں ہوں۔ پھر ایک ایک کر کے سب یاد آے گا کہ کب کیا ریا کاری کی تھی۔ اور گھبرا کے پوچھوں گی کہ کیا یہ میں ہوں تب غیب سے ندا آے گی کہ ہاں یہ تم ہو۔ اور میرا راز فاش ہو جائے گا۔ یہ ندا اب بھی آ رہی ہے مگر ذرا مختلف انداز میں۔ ندا آ رہی ہے کہ خود پسندی کے خول سے نکل کر انسان بن جاؤ کہ تم پر اپنی دوسرے انسان کا احترام واجب ہے۔ مگر میں تو اپنی ہی سوچ کا احترام کرنے سے قاصر ہوں کہ خود کے ساتھ مخلص ہو جاؤں اور کسی ایک نکتہ پر ٹھر جاؤں۔ کسی اور کے ساتھ کیا اخلاص برتوں گی۔

وہ دن دور نہیں جب دوسرے نہیں میں خود ہی اپنا نامہ اعمال لئے خود کو جج کر رہی ہوں۔ میرا رب مجھے میرا جج مقرر کر چکا ہے۔ ہمیں اب خود اپنے خلاف گواہی دینا باقی ہے۔

Facebook Comments HS