نواز شریف کے سعودی دورے میں کیا ہوا ہو گا؟


ہرطرف سسپنس چھایا ہوا ہے کہ نواز شریف کے سعودی دورے میں کیا ہوا ہے۔ ایک طرف سے این آر او کا نعرہ بلند ہو رہا ہے۔ دوسرا کیمپ فرما رہا ہے کہ نہیں جی، ادھر یہ سعودی شہزادوں کو چھڑانے گئے تھے۔ تیسرے کیمپ کا خیال ہے کہ گرفتار سعودی شہزادوں نے یہ بیان دے دیا ہے کہ ان کے پاس سے جو اربوں ڈالر برآمد ہوئے ہیں وہ ان کے نہیں بلکہ شریف خاندان کے ہیں اور وہ خود تو غریب سے شہزادے ہیں اور اب شریف خاندان بھی شہزادوں کے ساتھ سیون سٹار ہوٹل پہنچ جائے گا۔

اب ہمارے پاس وسی بابے جیسے بے وثوق ذرائع تو نہیں ہیں کہ مختلف مشر، ملک، عملی اور خبری ہمیں تازہ ترین اطلاعات فرہم کر رہے ہوں۔ نہ ہی ہم کوئی ایسے روحانی طاقت رکھنے والے مقبول کالم نگار ہیں جو موکلات اور عملیات کے ذریعے غیب کا حال جان لیتا ہو۔ ہم تو بس ایک سادے سے فکشن لکھنے والے ہیں جو مختلف مفروضے بنا کر فکشن لکھ لیتا ہے۔ تو چلیں ایک فکشن کے لئے مفروضے تیار کرتے ہیں۔

فرض کریں کہ جب کارگل کی جنگ رکوانے کے لئے میاں نواز شریف نے صدر کلنٹن کے پاس حاضری دی ہو تو اس وقت میاں صاحب نے بڑی سرکار میں یہ عرض کیا ہو کہ میں یہ سب کر تو دوں گا مگر میرا بھٹو بننے سے بچانے کا آپ ذمہ لیں کیونکہ پھانسی سے میرا گلا خراب ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کہ کلنٹن نے کہہ دیا ہو کہ جا بچہ، تیری مراد پوری ہوئی۔ فرض کریں کہ جب جنرل مشرف نے میاں صاحب کو اٹک جیل میں اٹکایا ہو تو اس وقت کے عملی طور پر سعودی حکمران ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے امریکی صدر کلنٹن کے اشارے پر خود سامنے رہتے ہوئے میاں صاحب کو اٹک جیل سے سرور پیلس پہنچایا ہو۔

فرض کریں کہ اب اچانک صدر ڈانلڈ ٹرمپ کو احساس ہونا شروع ہوا ہو کہ پاکستان کی افغان اور انڈیا پالیسی کو چلانے کا کام سویلین حکمرانوں کو نہ دیا گیا تو ادھر امریکہ اور بھارت کے ساتھ وہی ہوتا رہے گا جو پچھلے کئی برسوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ فرض کیا کہ وہ پراکسی تنظیمیں ختم کرنے کے لئے میاں نواز شریف کی صورت میں ایک اتحادی دیکھتے ہوں جو انڈیا اور افغانستان سے دوستانہ تعلقات اور تجارت بڑھانے کے نام پر الیکشن جیت کر حکومت میں آئے تھے اور واجپائی کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کو تقریباً حل کر چکے تھے کہ کارگل ہو گیا۔

فرض کریں کہ ڈان لیکس پر اسی مسئلے پر میاں صاحب کو نشان عبرت بنا دیا گیا ہو کہ وہ نجی عسکری تنظیموں کے متعلق الٹی سیدھی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ موجودہ نا اہلی کو بھی میاں صاحب اسی سزا کا تسلسل سمجھتے ہوں۔ یہ بھی فرض کر لیں کہ یکم جنوری کو ڈانلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے بارے میں ٹویٹ کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ نیو ائیر نائٹ پر درجن بھر دیسی انڈے کھا کر اچانک گرمی کا شکار ہو گئے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ پھر امریکی صدر پس پردہ رہتے ہوئے سعودی اتحادیوں کے ذریعے میاں صاحب سے کچھ باہمی مفاہمت چاہتا ہو تاکہ افغان اور بھارتی پالیسی میاں صاحب کی مرضی سے چلے۔

فرض کرِیں کہ اسی سعودی دورے کے درمیان جماعت الدعوہ پر عائد کی جانے والی پابندیاں اور اس کے اثاثے پنجاب حکومت کے قبضے میں لئے جانے کا ارادہ ایک اتفاق نہ ہو بلکہ جان کی امریکی امان پانے کے بعد مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی دکھانے کے لئے کیا گیا ہو۔ فرض کریں کہ یہ طے پایا ہو کہ امریکہ اپنا پورا وزن جمہوری حکومت کے پلڑے میں ڈالے گا تاکہ وہ آزادی سے اپنی داخلی اور خارجی پالیسی بنائے۔ فرض کیا کہ امریکی امداد روکنے کا حالیہ فیصلہ بھی اسی سلسلے میں دباؤ بڑھانے اور میاں صاحب کی اہمیت میں اضافہ کرنے کی ایک کوشش ہو۔ فرض کیا کہ میاں نواز شریف اب پاکستانی سرزمین پر امریکی، ترک، قطری اور سعودی اتحادیوں کی ڈھال لے کر پلٹے ہوں۔

اتنے زیادہ مفروضے ہیں کہ حقیقت جاننا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ ہمیں ایک سازشی سا ناول لکھ لینا چاہیے۔ ان مفروضوں پر سوچ سوچ کر کیا دماغ خراب کرنا۔ ہم کون سا تاریخ بنانے والے ہیں۔ ہم تو تاریخ بنتی دیکھنے والوں میں سے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar