میرا باپ تمہارے باپ سے زیادہ اونچا ہے
چین میں میرے ایم فل کا پہلا سیمسٹر تھا۔ کلاس میں میرے علاوہ دو اور پاکستانی لڑکیاں بھی تھیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ پاکستانی باہر جا کر ایک دوسرے سے دور دور ہی رہتے ہیں (اس کی مختلف وجوہات ہیں، جن پر کسی اور تحریر میں تفصیلاً روشنی ڈالی جا سکتی ہے)۔ ہم بھی اسی اصول پر عمل پیرا تھے پر کیا کریں ہم جماعت ہونے کی وجہ سے روز ٹاکرا بھی ہو جاتا تھا۔ ہر ٹاکرے کے دوران گفتگو ”میرا باپ تمہارے باپ سے زیادہ اونچا ہے“ کے موضوع پر ہی ہوتی تھی۔ مختلف واقعات سے ہم ایک دوسرے پر اپنی اور اپنے خاندان کی بڑائی بیان کر کے رعب جمانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس مشق کا ایسے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن اس کے بغیر کسی سے بات کرنے میں مزہ بھی نہیں آتا۔
خیر بات ہو رہی تھی اس خاص دن کے ٹاکرے کی، اس دن ہماری گفتگو اس دن پر آ کر رک گئی جس دن ہم پاکستان سے چین کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ پاکستانی ائیرپورٹس کے حال احوال سے کون واقف نہیں۔ حکمرانوں کے رحم و کرم کی وجہ سے اسلام آباد کا بینظیر بھٹو بین الاقوامی ائیرپورٹ دنیا کے بدترین ائیرپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ ایک لڑکی جو کہ کسی ریٹائرڈ بریگیڈئیر کی اولاد تھی، نے بتایا کہ ان کا تو پروٹوکول تھا۔ انہیں نہیں معلوم اگر ائیرپورٹ پر لمبی لمبی لائینیں لگتی ہیں یا ایف ائی اے اہلکار کبھی کبھار تلاشی کے نام پر مسافروں کو مار پیٹ کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ پھر ایک دم اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے والد محترم کا ہمیں کیا پوری یونیورسٹی کو تفصیلی تعارف کروا چکی ہیں اور اس تعارف کے حساب سے انہیں اس پروٹوکول کی کہانی کو ایسے بیان کرنا ہے کہ ہم پر اس کا اور اس کے والد کا رعب بھی بیٹھ جائے لیکن پروٹوکول کا کوئی سراغ نہ ملے کیونکہ ابا جی اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ اس لیے انہوں نے فوراً بیان بدلتے ہوئے کہا کہ نہیں میں بھی آپ لوگوں کی طرح ہی ائیرپورٹ پر ذلیل ہوئی ہوں۔ اس پر دوسری لڑکی فوراً بولی کہ میں تو بیوروکریٹ ہوں، ہمارا تو پروٹوکول ہوتا ہی ہے۔ اب اس نے میری طرف اشارہ کر دیا کہ پھر میں آپ کی طرح ہی آئی ہوں۔
اب میں ٹھہری ایک عام شہری جس کے ٹیکس کے پیسوں سے ان سب لوگوں کو سہولیات ملتی ہیں لیکن اسے اپنے لیے راحت صرف قسمت سے ہی ملتی ہے۔ شاید میری قسمت بھی اچھی تھی اس لیے مجھے پاکستان سے سفر کرتے ہوئے کبھی بھی لمبی لمبی لائنوں میں نہیں لگنا پڑا۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ سفر کرتے ہوئے نہ میرے پاس اضافی سامان ہوتا ہے اور نہ ہی سامان میں کوئی ممنوعہ شے ہوتی ہے۔ پاسپورٹ بھی اصل اور اپنا ہی ہوتا ہے۔ مختلف کائنٹروں سے ہوتے ہوئے دس منٹ میں ویٹنگ لاؤنج میں پہنچ جاتی ہوں۔
پچھلے سال اگست میں وزارتِ داخلہ ایف آئی اے کو واضح کر چکی ہے کہ کسی وی آئی پی شخصیت یا سرکاری ملازمین کو ائیر پورٹ پر پروٹوکول نہیں دیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ملکی ائیرپورٹس پر ”پروٹوکول زدہ لاحول“ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسا ہی ایک نوٹیفکیشن نومبر 2012ء میں بھی جاری کیا گیا تھا جس میں سول ایوی ایشن اور ائیر پورٹ سٹاف کو مسافروں کو پروٹوکول دینے سے منع کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کا متحرک ایک ایسا ”پروٹوکول زدہ“ مسافر تھا جس کے سامان سے تین کلوگرام ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔ ان نوٹیفکیشنز کی دھجیاں آئے روز ائیرپورٹس پر اڑتی رہتی ہیں اور بہت شان سے اڑتی ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہم اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔
ہم بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں سسٹم ٹھیک نہیں ہے لیکن جو سسٹم ٹھیک ہے، اسے ہم خود چلنے نہیں دیتے۔ جہاں کام بغیر کسی تکلیف کے ہوسکتا ہے وہاں بھی ہم مختلف تعلقات کو کام میں لا کر اپنے لیے ”مشکل نما آسانی“ پیدا کرتے ہیں۔ حالانکہ آسانی تو ان تعلقات کے بغیر بھی مل جانی تھی مگر ہمارے دماغ میں جو کیڑا بیٹھا ہوا ہے اسے شاید ایسے شانتی نہیں ملتی۔ اس کیڑے نے دنیا کو بتانا ہوتا ہے کہ میرا باپ کتنا طاقتور اور اونچا ہے۔ حالانکہ کیا فرق پڑتا ہے اگر آپ کسی سیاستدان کے بیٹے ہیں یا کسی موچی کے۔ آپ کے اپنے والدین کے ہاں پیدا ہونے میں آپ کا تو کوئی کمال نہیں ہے نہ ہی آپ کے والدین کا کوئی کمال ہے۔ انسان کا اصل کمال تو انسان بننے میں ہے جو ہمارے ملک میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔


