دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے

کبھی کبھی کچھ ایسی تحریریں یا کتابیں میسر آجاتی ہیں، جن کو پڑھنے کے بعد بے اختیار مصنف یا مترجم کا ہاتھ چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسی ہی ایک کتاب میرے ہاتھ لگی، جسے میں بجا طور پر ایک بہترین، معلوماتی، تحقیقی، علمی اور ادبی کتاب کہہ سکتا ہوں۔ ”وٹ از مدرسہ“ اس کو پڑھنے کے بعد قاری کچھ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے؛ پتا چلتا ہے کہ ایک عام انسان خاص کیسے بنتا ہے۔ یہ کتاب نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، امریکا کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی تحریر ہے۔

اس کا دل نشیں، رواں اور پرتاثیر اردو ترجمہ فاضل دیوبند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وارث مظہری نے کیا ہے۔ ترجمہ شدہ کتاب کا نام ”دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے“ ہے۔ یہ لگ بھگ 339 صفحات پر مشتمل کتاب ہے، جسے نعیمیہ اسلامک اسٹور دیوبند نے شایع کیا۔

کتاب کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ مصنف کے بارے میں بات کرلی جائے۔ ابراہیم موسیٰ ایک استاد، ماہر اسلامیات اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، اور ان کے آبا واجداد ہندوستان کے ریاست گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ ابراہیم جنوبی افریقہ کے اسکول میں زیر تعلیم ہی تھے کہ اس درمیان انھیں دینی علوم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس جذبے کی وجہ ان کے ایک مسیحی ساتھی کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شدت اور دروغ گوئی پر مبنی ایک کتاب ہوئی۔ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے غلط بیانی سے کام لیا گیا تھا۔

کتاب میں تحریر اور مسیحی لڑکوں کے ذریعے بیان کی گئی باتیں ان باتوں سے میل نہیں کھاتی تھیں، جو ان کی امی نے انھیں بچپن میں بتایا تھا۔ اس تجسس نے ابراہیم موسیٰ کے اندر سچ بات جاننے کی جستجو پیدا کر دی، حالاں کہ ابھی ان کی عمر محض سولہ برس تھی۔ تلاش حق کے لیے انھوں نے اپنے گھر کے قریب کیپ ٹاون کی ایک لائبریری کا رخ کیا، لیکن وہاں بھی ان کی طبیعت کو سیری حاصل نہ ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے باضابطہ طور پر دین کا علم حاصل کرنے اور براہ راست قران و حدیث کی تفہیم کا تہیہ کرلیا۔ یہ تلاش انھیں ہندوستان کے مختلف مدارس سے گزارتے ہوئے، کانپور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لندن اور پھر نوٹرے ڈیم یونیورسٹی لے گیا ۔ جہاں وہ علم کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کی یہ داستان ان کی اور ان کے گھر والوں کی انجینئر بننے کی خواہش کے برعکس، دینی علوم کی اور پلٹ آنے کی، ان کی اپنی خواہش اور دھن سے شروع ہوتی ہے۔ مصنف کا یہ فیصلہ ان کے اہل خانہ پر بجلی بن کر گرا؛ خصوصا ان کے والد اس بات کے لیے راضی نہ ہوئے، کہ انھیں مدرسہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جائے۔ والد کو اس بات کا اندیشہ دامن گیر رہا، کہ ان کا بیٹا مدرسے جانے کی صورت میں یہ ایک مسکین مولوی بن کر رہ جائے گا۔ لیکن ابراہیم موسیٰ اپنی امی اور خالاوں کی مدد سے اپنے والد کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کی یہ داستان یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے وہ تین ماہ کے لیے تبلیغی جماعت کے لیے نکلے، پھر حالات زمانہ کی ٹھوکریں کھاتے داخلے کے لیے مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور کا رُخ کیا۔ اس کے بعد مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور سے ہوتے ہوئے دارالعلوم ماٹلی والا، بھورچ، اور دیگر کئی چھوٹے بڑے مدارس کی خاک چھانی۔ دار العلوم دیوبند اور بعدہ ندوۃالعلما جیسے معروف دینی اداروں کا نہ صرف قصد کیا بلکہ وہاں کے جلیل القدر علما اور اساتذہ سے کسب فیض حاصل کیا۔

”وٹ از مدرسہ“ نامی یہ کتاب جنوبی افریقہ کے ایک حق کے متلاشی اور علم کے کوزہ گر کی داستان حیات ہے۔ اس میں انھوں نے انتہائی دل کش انداز میں ان اداروں اور مدارس میں بتائے ماہ و سال اور شب و روز کی کہانی بیان کی ہے۔ مصنف کی داستان اس قدر دل چسپ اور پر تاثیر ہے، کہ پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھنے والا جیسے کسی چلتی پھرتی اور متحرک کائنات کا مشاہدہ کررہا ہو۔ متعدد جگہ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان علاقوں، گلیوں، کوچوں، درجوں، مسجدوں اور اس روحانی و ایمانی فضا کو بالکل اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن پوری کتاب میں یہ بیانیہ نہیں ہے، اس لیے اسے ایک مکمل خود نوشت یا سوانح عمری نہیں کہہ سکتے۔

مصنف کا اسلوب کہیں کہیں ایک ادیب کی طرح ہے، جس میں ندی کی طرح بہاو تو کہیں وہ ایک صحافی کے روپ میں نظر آتے ہیں، کہیں وہ ایک محقق اور فلسفی کے انداز میں گنجلک اور پے چیدہ نکات کو حل کرتے ہیں، تو کہیں ایک مخلص اور مہربان کی طرح سمجھاتے اور مشورہ دیتے ہیں۔

کتاب مدارس، ان کے مسائل، نصاب، ان میں تبدیلی، تقاضے اور رہن سہن سے لے کرکے، نظام و انداز سبھی کا احاطہ کرتی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں مصنف اپنے مخصوص انداز میں مدارس کی روحانی فضا، وہاں کے طلبا و اساتذہ کے خلوص اور قال اللہ و قال الرسول کے فضاوں کی عکاسی کرتے ہوئے تعریف کے ڈونگرے برساتے ہیں، وہیں ان کی کی کمیوں، خامیوں، ضد، ہٹ دھرمی اور متشددانہ رویے پر بھی سخت الفاظ میں چوٹ، تنقید کرتے ہیں؛ جو مسئلہ سے متعلق ان کے درک اور فہم کے علاوہ درمندی اور تشویش کو بھی درشاتی (عکاسی کرتی) ہے۔

اس کتاب میں مصنف نے جہاں مدارس کے نصاب و نظام میں تبدیلی پر زور دیا ہے، اس کے لیے بدلتے حالات اور ضرورتوں کے تقاضوں کا ذکر کیا ہے، وہیں اس بات کو بھی شدید الفاظ میں رد کیا ہے، کہ مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں یا وہاں کسی کے خلاف طلبا کو اکسایا یا تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی بتاتے جاتے ہیں کہ اپنے مسلک اور فکر کو لے کرکے ان کے یہاں تشدد پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ وہ فقہ کو بتاتے ہیں۔ مصنف نے پالیسی ساز اداروں کو مدارس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے، جو خطوط ارسال کیے ہیں، وہ کتاب کا حصہ ہیں۔ اسی طرح اپنے دو جلیل القدر اساتذہ کو مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی خاطر جو مکتوب لکھے، انھیں بھی کتاب میں شامل کیا ہے۔ یہ مکتوب ان کا اپنے اساتذہ کے تئیں جذبہ احترام اور مدارس کی بابت ان کی فکرمندی اور بے چینی کی غماز ہے۔

کتاب میں تقریبا تمام ہی مکتب فکر کے نمایندہ شخصیات اور مدارس کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو خاصا وقیع اور معلوماتی ہے۔ یہ کتاب چار حصوں، جب کہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ عملی تجربات کے عنوان سے ہے، جسے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا باب: ایک مبتدی طالب علم
دوسرا باب: طہارت و عبادت
تیسرا باب: علما کی شخصیت
اس طرح دوسرا حصہ تاریخ اور تناظر کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے، جن میں چوتھے باب کے تحت مدارس کا آغاز
پانچواں: مدارس کے نصاب میں شامل کتب اور مصنفین ایک جائزہ
چھٹا: قلم کی جمہوریت سے کردار و تقویٰ کی جمہوریت تک پر بحث کی گئی ہے۔
حصہ سوم: علم کی سیاست کے نام سے ہے
ساتویں باب میں رسول اللہ کی وراثت کا تحفظ
آٹھواں باب: غور و فکر کی راہیں کے تحت ہے۔ جب کہ حصہ چہارم کا عنوان مدارس عالمی تناظر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت نواں باب: مدارس عالمی سطح پر موضوع بحث
دسواں: مدارس کا مستقبل: قدیم حل طلب سوالات
گیارہواں: پالیسی سازوں کے نام خطوط
بارہواں: اساتذہ کے نام خطوط
اخیر میں خلاصہ کلام کے عنوان سے پوری کتاب کے ماحصل کو چند صفحات میں بیان کیا گیا ہے۔

مطالعے کے دوران مستعمل کتابوں، مضامین اور انٹرویوز کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جو اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے خاصی مفید چیز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words