پیدائش کا حادثہ اور کھیڈ مقدراں دی!


بہت دن ہو گئے، کرنے والے کام ہو نہیں پا رہے تو آج گویا عارضی ہار مان کر موئے کفار کی اک اور ایجاد جو انہوں نے یقینا مجھ جیسے پکے اور سند یافتہ نیک مسلمانوں کو خراب کرنے کے لیے بنائی ہے، تو Netflix میں فرار کے چند لمحات بِتانے کا سوچا۔ دماغ حیران ہوتا ہے اور عقل پریشان ہوتی ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں جا رہی ہے، اور ادھر ہم ہیں کہ معاشرے کی عمومی اکثریت جذباتی ردِعمل میں ”پین دی سری“ کرنے پر ہردم تیار بیٹھی ہوتی ہے۔ اسی تمہید میں اپنے اک کزن، رضوان بٹ صاحب کا اک فقرہ یاد آتا ہے جو انہوں نے عرصہ بیس سال قبل میرے اک ملکوالی دورے کے دوران کہا تھا، آپ کی نذر کرتا ہوں: بٹ صاب، اللہ جدوں حساب لینا، اودوں ای لینا، ایتھے لوکاں اپنے اپنے حساب دیاں دکاناں کھولیاں ہویاں۔ اوہنے ہورے چھڈ دینا، لوکی نئیں جے چھڈدے! (بٹ صاحب، اللہ نے جب حساب لینا ہے، اسی وقت لینا ہے۔ یہاں لوگوں نے اپنے اپنے حساب کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں۔ اس نے شاید چھوڑ بھی دینا ہے، لوگ نہیں چھوڑتے)

مگر خیال کی ندرت ہے کہ جب بھی نازل ہو، اسے اک پیرائے میں کہنا کوئی جرم و گناہ بھی تو نہیں۔ لہذا، کہ جب تک مومنین کی پکڑ نہیں ہو جاتی، کہنے سننے میں حرج ہی کیا ہے؟

تو صاحبو، Netflix کی گھمن گھیریوں میں سے اک آسٹریلین فلم Lion دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ شمالی ہندوستان کے اک چھوٹے سے قصبے سے ذرا آگے، اک مزید چھوٹے سے گاؤں سے گم ہو جانے والے بچے کی اصل کہانی ہے۔ بچے کا اصلی نام، اس نام سے مختلف ہے جو تمام فلم میں اس کی شناخت بنا رہتا ہے۔ اس کا اصلی نام، اس کی والدہ فلم کے آخر میں بتاتی ہیں۔ ”سرُو“ نام کا یہ بچہ اپنے بڑے بھائی، گڈُو کے ساتھ غربت کے بدبودار گڑھے کی تہہ میں گرا ہوا گاؤں کے قریب قصبہ کی طرف جانے والی ریل گاڑیوں سے کوئلہ چرا کر اپنے گھر کے لیے کچھ سازوسامان لاتا ہے۔ اسی قسم کے اک ایڈونچر میں وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ریلوے سٹیشن پر جاتا ہے جہاں اس کا بڑا بھائی گڈو، اسے چھوڑ کر اپنے ایسے ہی کسی مشن پر روانہ ہو جاتا ہے۔ سرو گھبرا کر کھڑی ہوئی ریل گاڑی کے اک ڈبے میں بیٹھ اور پھر سو جاتا ہے۔

اسکی آنکھ جب کھلتی ہے تو وہ اک چلتی گاڑی کے اس ڈبے میں قید ہو چکا ہوتا ہے اور تقریبا 1600 کلومیٹر دور کلکتہ جا پہنچتا ہے۔ اسے اپنی امی کے پاس جانا ہوتا ہے مگر جیسا کہ جنوبی ایشیا کا عمومی معاشرہ ہے، اسے ہر طرف سے دھتکار اور لعن طعن ہی ملتی ہے۔ بچے اغوا کرنے کے گروہوں سے بچتا ہے۔ بچے بیچ دینے والی اک عورت کے چنگل سے بھاگ نکلتا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر سے اپنا پیٹ بھرتا ہے۔ پھر وقت کا حادثہ اسے اک یتیم خانے لے جاتا ہے جہاں کا عملہ بچوں سے جسم فروشی کرواتا ہے۔

اس سارے سلسلے میں اک حکومتی ادارہ، جو کسی آسٹریلین ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے، اسے اک آسٹریلوی خاندان کی درخواست پر Adopt کروا دیتا ہے جو اس کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کرتے ہیں۔ وہ اک آسٹریلوی شہری کے طور پر بالغ ہوتا ہے، اور چند اک دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے وہ پھر Google Earth کے ذریعے 2012 میں اپنے گاؤں کو کھوج نکالنے کے بعد، تقریبا 25 سال کے بعد اپنی اصل ماں کو تلاش کر لیتا ہے۔

اس فلم نے مجھے جذبات کی رولر کوسٹر پر چڑھائے رکھا۔ بہت بار آنکھیں بھیگیں اور مسلسل بھیگی رہیں۔ اس فلم کے کئی مناظر نے مختلف حوالہ جات، درجات اور تسلسل سے اپنی زندگی کے بھی کئی واقعات یاد کروا دیے۔ مجھے یاد آیا کہ جون 1993 کو میں جب گھر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو رہا تھا اپنے پانچ مرلے کے نامکمل طور پر تعمیر شدہ مکان کی نچلی چھت پر میری ماں کتنا روئی تھی، اور میرے سامنے کوئی واضح مستقبل نہ تھا۔

ہا! واضح کیا، کوئی مستقبل ہی نہ تھا۔

راولپنڈی/اسلام آباد آنا اپنی ذات میں خود اک بہت مختلف تجربہ تھا اور پھر اک اجنبی شہر میں تھوڑے سے عرصے کی سہولت کے بعد مسلسل ذلالتوں اور پٹائیوں کے اک لمبے سلسلے نے کیسے زندگی نے سسک سسک کر جینے کے درجے پر دبائے رکھا۔ بہت ساری بے یقینی کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کبھی اتنی تذلیل بھی برداشت کی تھی۔ چونکہ اکتوبر 2016 سے اک فیصلہ ہے کہ بات کو Plainly اور Politely کرنے کا تو ان باتوں پر کوئی شرم یا جھجھک محسوس نہیں ہوتی۔ میرے والد صاحب کے پودینے کے کوئی باغات نہ تھے۔ ہم محنت کش لوگ تھے، اور ہیں۔ اور انہی دائروں میں سے اپنی زندگی کا بیانیہ تلاش کرتے ہیں۔ اور کامیاب ہیں۔

میرے وطن کی معاشرت ایسی ہے کہ اک خوفناک اکثریت زندگی کی Randomness کو نا صرف سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی، بلکہ اس کو سمجھنے کی شدید مخالف بھی ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ اکثریت کی زندگی کے معاملات اس کی پیدائش کے حادثہ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، اور یار لوگوں نے تقدیسی تشریحات کے نام پر اس کا نام وہ مقدر رکھا ہوا ہے جو بدل نہیں سکتا، کیونکہ اس کا فیصلہ قدرت کرتی ہے۔ قدرت کا فیصلہ کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا، اور اسی نہ جاننے کی کیفیت میں ہمارے اور دیگر مذاہب کے مقدس لوگوں کی دال روٹی نہیں، بلکہ حلوے مانڈے چل رہے ہیں۔

اسی انجانیت میں ہی وہ تقدیس ہے کہ محترم خادم رضوی صاحب پر سوال کریں تو بریلوی دوست جان کو آتے ہیں۔ مجسم سادگی، مولانا طارق جمیل صاحب کی لیموزین سے اترتے ہوئے اک تصویر پر بات کریں تو دیوبندی دوست جان کو آتے ہیں۔ محترم شہیدی صاحب یا عظیم اسلامی ریاست، ایران میں جمہوری آزادیوں کی بات کریں تو شیعہ یار جان کو آتے ہیں۔ سعودی عرب کے معاملات پر بس دائیں پلک جھپکیں تو اہلحدیث مجاہد چھلانگ مار کر ”پین دی سری“ کرنے آ جاتے ہیں۔ اسی طرح، لاہور میں عظمت اسلام کے عظیم جزیرے، پنجاب یونیورسٹی کے معاملات پر بات کریں تو جماعت اسلامی کے عظام آستینیں چڑھائے ملتے ہیں۔

گویا، تقلید کرو تو ٹھیک ہے، بات نہ کرو بس!

ہمارے ہاں ایسی تشریحات نچلے متوسط طبقے سے لے کر اوپری درمیانے طبقے کی Enterprise of the Guilt ہیں جن میں وہ اک خودساختہ عجز و انکسار میں مبتلا رہتے ہوئے اپنی زندگی کا بیانیہ اور فلسفہ ان تقدیسی معاملات اور ان سے جڑے لوگوں کے آس پاس ہی تخلیق کرتے ہیں۔ اکثر اوقات یہی معاملات ان کے لیے دوسروں کی جان کے درپے ہونے کی شہہ فراہم کرتے ہیں۔ حال ہی میں جہلم میں پیش آنے والا بریلوی۔ دیوبندی قضیہ اک اشارہ ہے۔ کچھ تحقیق کر رہا ہوں، جلد ہی تحریر کروں گا۔

تو دوستو، ایسے میں پاکستانی زندگی اور معاشرہ تحرک کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔

اپنے حالات و واقعات کو آپ اگر اپنی پیدائش کے حادثہ کے حوالے سے ”کھیڈ مقدراں دی“ سمجھتے ہیں، تو آپ بھی اسی جمود کا حصہ ہیں جس سے فائدہ اٹھانے والی اقلیت میرے معاشرے اور ملک کی تحقیق و تخلیق کے کندھوں پر بیٹھے پیر تسمہ پا ہیں، جو سماجی تحرک کے دماغ سے خون چوس رہے ہیں۔ یہ نہیں بدلے گا، تو کچھ نہیں بدلے گا۔
دُم: سرُو کا اصل نام شیرُو ہوتا ہے۔ اسی نام سے فلم کا انگریزی نام Lion ہے۔

Facebook Comments HS