خواجہ آصف کا ڈانلڈ ٹرمپ کو دندان شکن جواب
خواجہ محمد آصف نے، جو غالباً پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں، امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کو دندان شکن جواب دے کر ہمارا دل جیت لیا ہے۔ یکم جنوری 2018 کو ڈانلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ”ریاست ہائے متحدہ نے نہایت احمقانہ انداز میں پچھلے پندرہ برس میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر دیے ہیں، اور انہوں نے ہمارے لیڈروں کو بدھو سمجھتے ہوئے بدلے میں ہمیں کچھ نہیں دیا سوائے چھل فریب کے۔ انہوں نے ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں جن کو ہم بے یار و مددگار ہو کر افغانستان میں ڈھونڈتے رہے۔ اب ایسا نہیں چلے گا“۔

”پوچھتے ہو کیا کیا؟ ایک آمر نےفون کال پہ سر نڈر کیا، وطن کو بارود و خون سے نہلا یا افغانستان پر اپنے اڈوں سے تمھارے 57800 حملے، ہماری گزرگا ہوں سےتمھارا اسلحہ، بارود گیا، ہزاروں سویلین، فو جی، بریگیڈیئر، جنرل، جواں سال لیفٹیننٹ آپ کی چھیڑ ی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔
جوآپ کادشمن، وہ ہمارا دشمن۔
ہم نے گوانٹانامو بے کو بھر دیا۔ ہم آپ کی خدمت میں اتنے مگن ہوئے کہ پوری ملک کو دس سال تک لوڈشیڈنگ اور گیس شارٹیج کے حوالے کیا، معیشت برباد ہو گئی لیکن خواہش تھی آپ راضی رھیں، ہم نے لاکھوں ویزے پیش کیے۔ بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک جگہ جگہ پھیل گئے۔
4 سال سے دھائیوں کا ملبہ صاف کر رھے ہیں۔ ہما ری افواج بے مثال جنگ لڑ رھی ہے۔ قربانیوں کی لا متنا ہی داستاں۔ ماضی سکھاتا ہےامریکہ پہ اعتماد میں احتیاط۔ ہما ری دہلیز پر اپنی ناکامی کا ملبہ نہ رکھو۔ آپ خوش نھیں افسوس ہے ہمارے وقار پہ اب سمجھوتہ نھیں ہو گا۔ “
نوٹ کریں کہ کس دلیری سے خواجہ آصف نے صدر ڈانلڈ ٹرمپ کو جواب دیا ہے۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ انہوں نے قومی حمیت کا پورا خیال رکھا ہے۔ یکم جنوری کو انہوں نے جذباتی ہو کر ٹویٹ کر دیا تھا کہ وہ جلد ہی صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کا جواب دے دیں گے اور دنیا سچ کو جان جائے گی اور اسے حقیقت اور افسانے کا فرق معلوم ہو جائے گا۔
We will respond to President Trump’s tweet shortly inshallah…Will let the world know the truth..difference between facts & fiction..
We will respond to President Trump's tweet shortly inshallah…Will let the world know the truth..difference between facts & fiction..
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) January 1, 2018
اس وقت تو جلدی میں انہوں نے انگریزی میں ہی ٹویٹ کر دیا تھا مگر اب انہوں نے نہایت سوچ سمجھ کر ہماری قومی زبان اردو میں تین ٹویٹوں میں صدر ٹرمپ کو مخاطب کر کے جواب دیا ہے تاکہ پورا امریکہ اور سارا بین الاقوامی میڈیا یہ جان لے کہ خواجہ آصف ڈرتے کسی سے نہیں۔
اب صدر ٹرمپ کو جب بھِی پتہ چلے گا کہ پاکستانی وزیر خارجہ یا آج کل خواجہ آصف جس قسم کے بھی وزیر ہیں، نے ان کو جواب دیا ہے تو وہ پہلے تو کسی اردو جاننے والے کو ڈھونڈ کر اس سے خواجہ صاحب کی ٹویٹ ترجمہ کراتے پھریں گے اور خوب پریشانی اٹھائیں گے، اور اگر ترجمہ ہو گیا تو خوب شرمندہ ہوں گے۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے خود کو کوئی بڑی توپ سمجھ کر دعوی کیا تھا کہ امریکی دنیا کے سب سے بڑے احمق ہیں جو پاکستان سے پندرہ سال سے بے وقوف بن رہے ہیں مگر خواجہ آصف نے جوابی دعوی کر کے صدر ٹرمپ کو نیچا دکھا دیا کہ تمہاری خاطر تمہاری جنگ میں کود پڑے، ہزاروں پاکستانی مروا لئے، معیشت تباہ کر کروا لی، تم کہاں کے بے وقوف ہو، بے وقوف دیکھنا ہو تو ہمیں دیکھو۔
شاباش خواجہ آصف۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔





