آصف زرداری کو سندھ میں گنے کے کاشتکاروں سے کیا دشمنی ہے؟


سندھ حکومت نے گنے کی فی من قیمت 182 روپے مقرر کی ہے۔ تاہم کاشتکاروں سے گنا 130 روپے میں لیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں شوگر مل مالکان نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اس سے بچنے کے لئے ملیں ہی بند کردی ہیں۔ اس پر کاشتکاروں کا احتجاج گذشتہ ایک ماہ سے جاری ہے مگر اب اس میں شدت آگئی ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گنا سوکھنا شروع ہو گیا ہے جس سے اس کے وزن میں کمی واقع ہو جائے گی اور دوسری طرف زمینداروں کو گنے کے فصل کے بعد دوسری فصل لگانے کے لئے زمین خالی چاہیے۔

گنے کے کاشتکاروں کے احتجاج کی وجہ سے پاکستان کی لائف لائن نیشنل ہائی وے سندھ میں گزشتہ ایک ہفتے سے تقریبا مکمل بند ہے۔ ہزاروں ٹرک، کوچز، بسین، کاریں، ہر طرح کا ٹریفک مکمل جام ہے، جو تھوڑا بہت نظام زندگی چل رہا ہے وہ انڈس ہائی وے اور لنک روڈز کے ذریعے چل رہا ہے۔ ملک کی لائف لائن قومی شاھراہ بند ہے مگر پاکستانی میڈیا میں خبر تک نہیں دی جا رہی۔

سندھی زبان کے دس کے قریب ٹی وی چینل ہیں، کاوش گروپ کے، کے ٹی این نیوز، کے ٹی این انٹرٹینمنٹ، اور میوزک چینل کشش، سندھ ٹی وی نیوز، سندھ ٹی وی انٹرٹینمنٹ، دھرتی ٹی وی، آواز ٹی وی، مھران ٹی وی، عوامی آواز ویب ٹی وی اور بول سندھی۔ سب پر سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کے لمبے عرصے سے چلنے والے احتجاج کی خبریں روزانہ مکمل تفصیل کے ساتھ آتی ہیں مگر اردو میڈیا نے اسے  دیہی علاقوں کا مسئلہ قرار دے رکھا ہے اور کبھی ملک کا مسئلہ سمجھا ہی نہیں حالانکہ گنے سے چینی بنتی ہے، اور چینی ہر گھر کی، ہر فرد کی ضرورت ہے اور اس کی قیمت کا اثر ہر شہری پر ڈائریکٹ پڑتا ہے۔ اس کی ضرورت کی شدت ماضی کے ان لوگوں سے پوچھی جائے جب چینی راشن کارڈ پر لائین میں کھڑے ہو کے ملتی تھی۔

اتنا ضرور ہوا ہے کہ کاشتکاروں نے جب کراچی پہنچ کر بلاول ہاؤس جانے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین کو بوٹ بیسن پر روکنے کی کوشش کی اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ پولیس نے خواتین کاشت کاروں کو بھی نہ بخشا۔ آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور واٹر کینن کا بھی استعمال ہوا۔

متعدد کاشت کار زخمی اور درجنوں گرفتار کرلیے گئے۔ ملکی میڈیا نے اس ایونٹ کو رپورٹ تو کیا مگر سات دن سے کڑاکے کی سردی میں ہزاروں کاشتکار قومی شاہراہ پر پہلے گمبٹ اور پھردولت پور صفن کے پاس دھرنا دیے بیٹھے ہیں ان کی خبرتک نہیں چلائی۔

سندھ میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ شوگر مل انڈسٹری کے بڑے مالک پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری ہیں اور یہ سب کچھ انہیں فائدہ پنہچانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اسی لئے کاشتکار کہتے ہیں کہ سندھ حکومت ان کے ساتھ نا انصافی کررہی ہے۔ گنے کی قیمت نہیں دی جا رہی اور ساتھ ہی کنڈے کے وزن میں بھی ہیرا پھیری کی جارہی ہے۔

کاشتکار سندھ بھر میں مختلف علاقوں میں بھرپور احتجاج کر رہے ہیں، سب سے بڑا اور مرکزی احتجاج دولت پور صفن کے مقام پر ہو رہا ہے جس سے قومی شاہراہ بند ہے۔ اس احتجاج کی قیادت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما سید زین شاھ اور سندھ آبادگار بورڈ کے مرکزی صدر عبدالمجید نظامانی اور دیگر رہنما کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے ایڈوکیٹ علی پلھ، حلیم عادل شیخ، زید ٹالپر مسلم لیگ فنکشنل کے انیل بھٹی اور دیگر اپنے اپنے علاقوں میں اس احتجاج کی قیادت کر رہےہیں، سندھ بھر کی کل 32 شوگر ملز، سندھ حکومت اور شوگر انڈسٹری کے گاڈ فادر ایک طرف ہیں، لاکھوں کاشتکار دوسری طرف۔ دنگل جاری ہے۔ ریاست کے اداروں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں دیکھیں نتیجہ کیا نکلتا ہے لیکن کاشتکاروں نے اعلان کیا ہے کہ کل یعنیٰ جمعے کے دن میرپور خاص میں آصف زرداری کی صدارت میں ہونے والے پیپلز پارٹی کے جلسے میں احتجاج کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS