نور بانو کا حج

یہ افسانہ ”ربِ کعبہ“ میں نے فیس بک کی ایک ادبی نشست کے لیے 26 مئی 2014 کو تحریر کیا تھا، اور اتفاقیہ طور پہ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف کا نام ”نور بانو“ رکھا تھا۔ میڈم نور جہاں پہ لکھے جانے والے مضمون اور جوابی مضامین کو دیکھتے ہوئے ہم سب کے قارئین کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ (مصنف)

پاسپورٹ پہ ویزا لگ گیا تھا، یہ بہت بڑی خبر تھی اس کے لیے نور بانو اب پندرہ دن کے پیکج پہ عمرہ ادائیگی کے لیے جا سکتی تھی۔

سات یا آٹھ سال کی عمر ہوگی اس کی، جب عصر کے وقت اس کوٹھے پہ ایک مولوی صاحب بچیوں کو قرآنِ پاک کا درس دینے آتے تھے۔ جتنی دیر مولوی صاحب سبق پڑھاتے اتنی دیر کسی کو طبلے، باجے بجانے کی اجازت نہیں تھی۔ ہاشو نے ایک مرتبہ غلطی سے مولوی صاحب کی موجودگی میں ستار بجانا شروع کردیا، بیگم جان کے کانوں میں جیسے ہی آواز پڑی، اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ ہاشو کو تھپڑ جڑ دیا، ”ابے بے شرم! مولوی صاحب قرآن پڑھارہے ہیں، کچھ تو حیا کر“۔ بیگم جان کے خوف سے ہاشو کی حالت تو پتلی ہو گئی، لیکن نور بانو کا ایک نئے لفظ سے سامنا ہوا۔

نور بانو نے اگلے دن مولوی صاحب سے پوچھا، ”مولوی صاحب، یہ حیا کیا چیز ہوتی ہے؟ “ مولوی صاحب مسکرا کے خاموش ہوگئے اور دوسری طرف دیکھنے لگے۔ نور بانو نے پھر اصرار کیا، ”مولوی صاحب بتائیں نا؟“ مولوی صاحب بولے، ”بیٹا حیا کا مطلب ہے وہ کام جو کسی کو ناپسند ہو، وہ کم از کم ان کے سامنے نہیں کرنا چاہیے“۔

نور بانو جھٹ سے بولی، ”تو ہاشو ماما نے کل ایسا کیا کیا تھا آپ کے سامنے جوآپ کو پسند نہیں“۔
مولوی صاحب نے سمجھایا، ” اس نے ستار بجایا تھا، یہ گانا بجانا مجھے پسند نہیں، اس لیے بیگم صاحبہ نے اس کو جھاڑ پلا دی“۔
نور بانو پھر گویا ہوئی، ”گانے تو اتنے اچھے ہوتے ہیں، آپ کو کیوں نہیں پسند“۔
مولوی صاحب نے جواب دیا، ”کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کو بھی پسند نہیں“۔
نور بانو معصومیت سے بولی، ”پھر تو ہاشو ماما، بیگم جان، اماں، خالہ جان سب کو اللہ میاں سے حیا کرنی چاہیے“۔ مولوی صاحب نے خاموشی اختیار کرنے میں بہتری جانی۔

شام ہوتے ہی چمکیلے، بھڑکیلے کپڑے پہن کر چہرے کی میک اپ سے لیپا پوتی کرنے کے بعد بڑے ہال نما کمرے میں لڑکیاں جمع ہوجاتیں۔ رات کے دوسرے، تیسرے پہر تک طبلے پہ تھرکتے پاؤں روکے نہیں رکتے تھے۔ تا، تِگ دھنا، تا تگ دھنا کی آوازیں رات بھر کوٹھے پہ گونجتی رہتیں۔ اس کے بعد جن کی جیب اجازت دیتی وہ وہیں کسی حسینہ کی زلفوں میں چوتھا پہر بھی گزاردیتے۔ لیکن عصر اور مغرب کے درمیان حیا غالب آجاتی، اللہ سے نا سہی اللہ کے ایک بندے ہی سے۔

وقت گزرتا گیا؛ نور بانو بھی کافی مشاق رقاصہ بن چکی تھی۔ گوری رنگت، نپے تلے نین نقش اور نشیب و فراز کی رعنائیوں سے بھرپور جسم کی مالک نور بانو کوٹھے پہ آنے والوں کی نظر میں رہتی تھی۔ بیگم جان جانتی تھی کہ نور بانو سورج بنی جگمگارہی ہے، لوگ اس چڑھتے سورج کو پوج رہے ہیں۔ شام ہوتے ہی پجاری کوٹھے کی گھنٹیاں بجانا شروع کردیتے۔ دیوی کے آنے تک ہاتھ پہ ہاتھ رکھے رہتے۔ اپنا سب کچھ اس کے چرنوں میں ارپن کرنے کو تیار۔ لیکن دیوی کے چرنوں میں جگہ اسی کو ملتی جو جی بھر دان کرتا۔ اٹھارہ سے بائیس کی ہوتے ہوتے بیگم جان، نور بانو کو اچھا خاصہ بیچ چکی تھی۔ منافعے پہ منافع کھارہی تھی۔ پر اس کا پیٹ نہیں بھر رہا تھا اور خریداروں کا دل نہیں بھررہا تھا۔

نور بانو اس سب لوٹ کھسوٹ کا شکار، خاموشی سے تماشا بنی بیٹھی تھی، کبھی حیا غالب آجاتی تو کہیں منہ چھپا کے رو دیتی۔ بیگم جان اس کو اکثر کچھ نا کچھ پیسے الگ سے بھی دیتی کہ وہ اس سے خوش رہے۔ لیکن وہ خوش نا تھی وہ اس گندگی کے ڈھیر میں ان پیسوں سے گلاب لے بھی آتی تو تعفن اتنا تھا کہ وہ گلاب کاغذی پھولوں سے بھی بد تر ہو کے رہ جانے تھے۔ پیسے پس انداز ہو رہے تھے۔ وہ خود تو بکھری تھی، لیکن رقم جمع ہورہی تھی۔ پھر اس نے اچانک ایک دن بیگم جان سے بات کرہی لی، “بیگم جان، میں اللہ کے در پہ حاضری دینا چاہتی ہوں۔ عمرہ کرنے کے لئے جانے کی اجازت دو۔ “، بیگم جان کے سر پہ جیسے بم پھٹ گیا، روکنے کا تو نہیں کہہ سکتی تھی ایک اعتراض کر ڈالا ”کس کے ساتھ جائے گی؟ اکیلی عورت کا جانا منع ہے“۔ نور بانو کسمسائی، پھر کہا، ”ہاشو ماما کو لے جاؤں گی“۔ بیگم جان خاموش ہوگئی۔

ہاشو ماما کی سمجھ میں بھی کچھ نہیں آرہا تھا۔ تمام عمر ستار اور طبلہ ہی بجاتا رہا تھا، اس نے تو سوچا بھی نا تھا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچنے والا ہے۔ بلاوا آگیا تھا۔ جھٹ پٹ میں پاسپورٹ بنے اور مہینے کے اندر ہی اندر عمرہ کا ویزا لگ گیا۔

بیگم جان نے پندرہ دن کے عمرے کے لیے نور بانو کو ایک مہینے کی چھٹی دے دی۔ اپنی زندگی کا ایک مہینہ اپنی مرضی سے گزارنے کی آزادی۔ اگلے ایک مہینے تک نور بانو کو اجازت تھی کہ نا وہ ناچے گائے اور نا ہی کسی کا بستر سجائے۔ خریداروں کو جب پتا چلا تو کسی نے دل پہ ہاتھ رکھ لیا اور کسی نے مذاق اڑایا کہ نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی، پر بلی شیرنی بن کے تن گئی تھی، اکڑ گئی تھی مالک سے ملنے کا ارادہ جو کر لیا تھا۔

مالک کے دربار میں حاضری تھی۔ حرمِ پاک کا صحن پار کرنا تھا۔ قدم بھاری ہو رہے تھے۔ صحن تھا کہ طویل سے طویل تر ہوتا جارہا تھا۔ مسافت ختم نا ہونے پارہی تھی۔ بھرے ہوے دل کی بھڑاس آنکھوں کے در پہ تھی، بند ٹوٹنے کا انتظار تھا۔ سیلاب آنے کو تھا، اور پھر اچانک ہی کالے غلاف میں لپٹا محور و مرکز سامنے آگیا۔ بند ٹوٹ گیا، گناہ کی کثافتیں آنکھوں کے نالوں سے بہہ رہی تھیں۔ زنگ سے آلودہ دل صاف ہونے کو تھا۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ انجانے میں کعبہ کے بہت نزدیک پہنچ گئی ہے۔ چاہا کہ اس کو چھو لے، اس سے لپٹ جائے۔ لیکن کیسے چھوئے، وہ گندگی کی پوٹلی تھی، یہ پاک ترین مقام تھا۔ نہیں اس کو کعبے کا غلاف نہیں چھونا چاہیے۔ پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ وہ معافی کے قابل نہیں۔ نور بانو کو احساس ہوا کہ اس نے اللہ سے حیا نہیں کی تھی۔ اس کو ادراک ہوا کہ وہ بے حیائی کر گئی ہے۔ پھر اس کے چاروں طرف ایک خاموشی سی چھاگئی۔

ایک لمحہ پہلے لوگوں سے بھرا حرم اچانک خالی ہوگیا۔ اس حال میں ماضی امڈ کر سامنے آگیا، ”تا تگ دھنا، تا تگ دھنا“ کی آوازیں گونج اٹھیں۔ سیاہ کمرے کے غلیظ بستر سے لپٹی گندگیاں سامنے آگیئں۔ نور بانو فرش پہ گر گئی، اندر کی تڑپ چیخوں آہوں اور پکار میں بدل گئی، اللہ معاف کردے۔ اللہ، اللہ“۔ وہ معافی مانگ رہی تھی اور معاف کرنے والا دیکھ رہا تھا۔

اور پھر اچانک اسے ایک زور کا دھکا لگا، وہ خواب کی حالت سے باہر آگئی۔ کعبے کے صحن کا ہجوم اسے دھکیل کے مزید نزدیک لے آیا۔ اتنا نزدیک کے وہ اس ے لپٹ گئی۔ انسان معاف نہیں کرتے، بے شک اللہ معاف کرتا ہے اور معاف کر کے اپنا بھی لیتا ہے۔

ائرپورٹ پہ اس کے استقبال کے لیے پھول لے کر بیگم جان خود بھی آئی تھی۔ سب اس سے دعائیں کروارہے تھے اس کو چوم رہے تھے اور وہ رو رہی تھی، گناہوں کی دلدل اپنا منہ کھولے کھڑی تھی، شدید قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار تھی، اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ ائر پورٹ سے اپنے بازار میں پہنچی۔ پان والے، پھول والے اسے دیکھ کر ہنس پڑے، اشارے کنائے کرنے لگے۔ اس دوران کسی نے آواز لگائی، ”چل بانو، اب کب کوٹھا آباد کرے گی؟“ یہ سننا تھا کہ نور بانو کا سر چکرا گیا، پیر پھسلا اور وہ پاس کھڑی سموسے بنانے والے کی ریڑھی کہ ساتھ ٹکرا گئی۔ کڑاہا اچھلا اور ابلتا ہوا تیل نور بانو کے چہرے اور بازؤں پہ گرگیا۔

چند ہفتوں بعد؛ لوگ افسوس کر رہے تھے، ”کیا خوبصورت چہرہ تھا، اب تو دیکھا بھی نہیں جارہا“۔ بیگم جان بھی اپنا دل ہاتھ میں پکڑے بیٹھی تھی، سورج اچانک ہی ڈوب گیا تھا، پوجا بھنگ ہو گئی تھی۔ دیوی کے چرنوں میں داس بیٹھنے کو تیار نہ تھے۔ پر دیوی خود داسی ہو چلی تھی۔

لوگ تحفہ خوبصورت پیکنگ میں لپیٹ کہ دیتے ہیں، اس کے لیے یہ عجب لطف آمیز احساس تھا کہ اللہ نے اس کے اندر کی خوبصورتی کا تحفہ ظاہری بدصورتی کی پیکنگ میں لپیٹ دیا تھا، اب اسے کسی کی نظر نہیں لگے گی، اس کو دوبارہ داغدار ہونے سے بچالیا تھا، لوگ اس پہ ہونے والے اللہ کے اس احسان کو سمجھ نہیں پارہے تھے، اور وہ اس احسان کے بوجھ تلے دبے جارہی تھی۔ اسے سمجھ آگیا تھا کہ اللہ نے اسے گناہوں کی اس دلدل میں بھی گناہوں سے کوسوں دور کردیا تھا، اب وہ سکون میں تھی، حسن کی سچائی جان گئی تھی۔ اِس چہرے کو دیکھ کر لوگ آہیں بھرتے تھے، اور وہ شرمندگی محسوس کرتی تھی۔ اب اس چہرے کو دیکھ کے لوگ نظریں پھیر لیتے، وہ آئنے مییں اسے دیکھ کہ شکر ادا کرتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words