آنگ سان سوچی کے نام کھلا خط
محترمہ آنگ سان سوچی
آپ کا نوبل پرائز سلامت رہے۔ آپ کی جدوجہد سلامت رہے۔ پندرہ سال ، کہنے کو پندرہ سال ہیں مگر نظربندی میں اتنا وقت گزارنا بڑی بات ہے۔ جمہوریت کے لئے لیے آپ نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس دورِ بےمثال میں آپ ہمارے لیے عزم و ہمت کی مثال بنی رہی ہیں۔ آج خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لیں۔
بات یہ ہے کہ ہماری نسل کو بت شکن ہونے پہ فخر کرنا ہی پڑھایا گیا مگر ہم ڈھیٹ اب بھی بت تراش لیتے ہیں۔ ایسا ہی ہم نے آپ کے معاملے میں کیا، اب مگر وہ بت ٹوٹ رہا ہے۔ آپ کا نام بڑا ہے، آپ کا کام بڑا ہے، آپ کی بات بھی بڑی ہونی چاہیے۔ اتنا بڑا نام کہیں تعصب پہ مبنی بات کرے یا کہیں کوئی چھوٹا جملہ بولے تو بےشک ہمارا دل اسلامی بھائیوں جیسا نازک نہیں، پر ٹوٹ ہی جائے گا نا؟
کیا ہے نا، پیار کی گہرائی ہی زخم کی گہرائی کا پتہ دیتی ہے۔ مظلوم اور ظالم، دو ہی فریق ہیں۔ مظلوم کا ساتھ دیں، اس کی پہچان کا خیال رکھیں، مظلوم کا نام لیں تب ہی بات بنتی ہے۔ ہم چھوٹے لوگ ہیں۔ پھر بھی کوشش کرتے ہیں کہ لسانی تعصب، مذہبی تفریق، وسائل کا عدم توازن، ریاستی و غیر ریاستی عناصر کا جبر، جو بھی ہو، ہم ظالم اور مظلوم کا نام تو لے ہی لیتے ہیں۔ آپ کا نام بڑا ہے، کام بڑا ہے، تھوڑا دل بھی بڑا کر لیں تو بات بن جائے۔
(یہ پیغام ان لوگوں کی جانب سے ہرگز نہیں دیا جا رہا جو برما کے مظالم کی جھوٹی تصاویر سے سوشل میڈیا پہ لائکس شیئر اور چوک چوراہوں پہ چندہ اکٹھا کرتے رہے)
اس تحریر کا پس منظر جاننے کے لئے Independent Daily میں 18 ستمبر 2017 کی خبر ذیل میں دیکھیے




کبھی خوشبو لگا کے مولوی عبدالعزیز کو بھی کوئی خط لکھ ڈالو، یا اورنگزیب فاروقی کو ۔۔۔۔۔۔ دونوں "خضرات” اردو سمجھ بھی سکتے ہیں۔ پڑھ بھی سکتے ہیں۔
مظلوموں اور ظالموں کے بڑے بڑے طبقے تو ہمارے اور ملک میں زیاد ہیں۔
"آنگ سان سوچی کو لکھا گیا یہ خط” میرے خیال میں محض خودکلامی ہی ہے۔
بہت خوب رامش
اکثر تراشے ہوے بت فقط پتھر ہی نکلتے ہیں۔ پاپولر ہونے کے ہاتھوں مجبور۔ مگر کیا کریں، جس بھگوان کے بہت سے پجاری نہ ہوں وہ محض پتھر ہی تو رہ جاتا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ صاف اور سیدھی طرح اپنا مدعا بیان کیا جاتا. مگر کیا ہے نا ہم چھوٹے لوگ ہیں, ظرف ہمارے اندر ناپید ہے, طعن و تشنیع کیے بغیر ہماری بات مکمل نہیں ہوپاتی. بحر حال یہ خود کلامی نہیں …مگر آنگ سان کو مخاطب بھی نہیں.
خان اچکزئی صاحب مولوی عبدالعزیز اور فاروقی صاحب کو خط لکھیں گے آخر انکے بہت احسانات ہیں ہم پر، لیکن یہ طےشدہ بات ہے کہ وہ بھی خودکلامی ہی ہو گی۔
محمد آصف صاحب اس سے سیدھی بات کرنا کس طور ممکن ہے رہنمائی کر دیں تو اچھا ہو گا۔
محترمہ مشعل حسین نے بھی یہ انٹرویو ایک صحافی کم اور مسلمان زیادہ بن کر کیا۔ روہنگا کمیونٹی کا مذہب اسلام ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ ہے۔ انگ سان سوچی یہ کہنے میں حق بجانب تھیں کہ برما کو مسلسل آمریت کے باعث ایک مخصوص قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ روہنگا کا معاملہ مذہبی سے زیادہ سماجی نوعیت کا ہے۔
مسلماںوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ان کی اکثریت ہے یہ وہاں بھی مظلوم ہیں اور جہاں اقلیت وہاں بھی۔ اقلیتوں کی نفسیات میں یہ بات شامل ہو جاتی ہے کہ اگر بارش ہو تو چاہے ساری دنیا بھیگ جائے، اگر وہ بھیگ گئے تو وہ ظلم ہو گا۔
جب ہم لاشوں کی تعداد سے ظلم کی حدت ناپنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر زیادہ لاشوں والا زیادہ مظلوم کہلاتا ہے۔ حالانکہ دونوں ہی فریق ہیں، نا ظالم نہ مظلوم۔ آ ج ادھر لاشیں زیادہ ہیں تو کل دوسری جانب زیادہ ہوں گی۔ روہنگا کمیونٹی کے پاس برما کی شہریت تک نہیں۔ ایک جانب ان کو بنگلہ دیش مارتا ہے تو دوسری جانب انڈونیشیا ان کی کشتیوں کو واپس لوٹا دیتا ہے۔ روہنگاز کا معاملہ ان کو مسلم ثابت کر کے نہیں بلکہ وہاں کے شہری ثابت کر کے ہو گے۔ حیرت ہے مشعل حسین نے ایک مرتبہ نہیں پوچھا کہ مسئلہ ہے کیا۔۔۔۔۔۔ شاید کوئی غیر مسلم انٹرویو کرتا تو پوچھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔